ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرہ……پرندے کیوں اڑنے لگے؟

……….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی…….


رمضان اور عید کے دوران دہشت گردی کی خبروں کے ساتھ پارٹی بد لنے والے سیاستدانوں کا بڑا ذکر ہوا۔خیبر پختونخوا ، پنجاب اور سندھ میں ہلچل مچ گئی۔ کارٹون بنانے والوں کو لوٹے اور زنجیروں سے آزاد ہو تے ہو ئے نظرآئے۔ جب کبھی الیکشن کا زمانہ قریب آتا اور اسٹبلشمنٹ کا اشارہ ہو تے ہی حکومت میں رہنے والے سیاستدان اپنی پارٹی چھوڑ کر نئی پارٹی میں جانے کا اعلان کرتے تو مرحوم پیر پگاڑا کہا کر تے تھے۔کہ حکومت کو زوال آنے والا ہے۔پرندے اڑ کر نئے درختوں کی ہری شاخوں پر بیٹھنے لگے ہیں۔ اگر چہ حکومت مسلم لیگ (ن) کی جا رہی ہے مگر زیادہ وکٹیں پاکستان پیپلز پارٹی کی گر رہی ہیں۔ایک عمر ایوب خان کے ساتھ بابر عوان سے لیکر نور عالم خان تک آٹھ دس پرندے پیپلز پارٹی کی شاخو ں سے اُڑ کر پی ٹی آئی کی ہری ٹہنیوں پر جا بیٹھے ۔ پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے موسم کی پیشگوئی کا ملکہ عطاء کیا ہے پرندے ہواؤں کا رخ اور بارشوں کی لہرسے پیشگی واقف ہو تے ہیں۔ اور وقت آنے سے پہلے طوفانوں والی جگہ سے موسم بہار والی جگہ کی طرف کوچ کر تے ہیں۔ سیاستدانوں نے یہ طریقہ پرندوں سے سیکھا ہے بلکہ اس کام میں پرندوں کو مات دیدی ہے۔ جو جنرل مشرف کو پاکستان کے لئے خدا کی رحمت قرار دیتے تھے وہ راتوں رات جا کر مسلم لیگ (ن) کی ہری شاخ پر کیا بیٹھے کہ ان پر یکدم الیا مات اترنے لگے اور انہوں نے اپنا زور یہاں میاں نواز شریف کو پاکستان کے لئے خدا کی رحمت قرار دینے پر صرف کرنا شروع کیا۔ جو لوگ صدر زرداری کو بھٹو شہید کا اصلی جانشین قرار دینے پر اپنا زور خطابت آزما تے تھے، وہ عمران خان کو دوسرا قائد اعظم اور تیسرا بھٹو ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ شاید پرندوں کو یہ پتہ نہیں کہ ’’ کوئی شرم بھی ہو تی ہے کوئی حیا بھی ہو تی ہے‘‘ 1970 کی دہائی میں بھٹو شہید نے ایک جملہ بار بار دہرایا تھا۔ اسٹبلشمنٹ میرے خلاف سازش کر رہی ہے۔ ڈاکٹر آدم نیر مر حوم ہائیڈل یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کرکے پاکستان آ ئے تھے۔ ان کے حلقہ احباب میں سفارت کار ، دانشور ، اخبار نویس اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد تھی وہ لبرل قوم پر ست تھے۔ ڈاکٹرمبشر حسن بھی ان کے دوستوں میں شامل تھے۔ ایک مجلس میں ذکر چیھٹراکہ بھٹو کے ذہین میں اسٹبلشمنٹ کا تصور کیا ہے؟ڈاکٹر آدم نیر نے ایک چارٹ بنایا ۔ اور دکھایا کہ پہلی جنگ اعظیم کء وقت اسٹبلشمنٹ سے مراد بیورو کریسی تھی۔ جنگ اعظیم کے بعد سول اینڈ ملٹراسٹبلشمنٹ کی اصطلاح عام ہو ئی کیونکہ پرانی اصطلاح کا مفہوم بد ل گیا تھا۔دوسری جنگ اعظیم کے بعد اقوام متحدہ آیا، ڈونر ادارے وجود میں آئے، تو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ سول سوسائیٹی کا نام لیا جا نے لگا۔اس دوران سرد جنگ نے زور پکڑا ۔ کے جی بی اور سی آئی اے کے ایجنٹ دنیا بھر میں اہم عہدوں پر فائز ہو ئے۔ تو انٹیلی جنس کمیو نیٹی یعنی خفیہ والوں کو بھی اسٹبلشمنٹ میں شامل کیا گیا۔ اب سٹبلشمنٹ سے مراد بیوروکریسی ،فوجی ، سول سوسائیٹی اور اینٹیلی جنس کمیو نیٹی ہے خفیہ والوں کے لئے ایجنسی کی اصطلا ح بھی استعمال ہوتی ہے تادید ہ ہاتھ کی ترکیب بھی عام فہم اور مستعمل ہیں حکومتوں کو گرانے ، مقبول سیاسی جماعتوں کو ہر انے اور نئی طاقتوں کو جتوانے میں اگر اسٹبلشمنٹ کے کردار کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد سارے کر دار ہوتے ہیں ایک کردار پیسہ لاتا ہے ، دوسرا کردار پر وپیگینڈکرتا ہے ، تیسرا کردار جلسے جلوسوں کے ذریعے انتشار اور انا رکی پیدا کر تا ہے تیسرا کردار مصالحت کنند ہ بن کر آتا ہے حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جاتا ہے اپنی مرضی کی حکومت لائی جاتی ہے مصر اور بنگلہ دیش کی مثالیں سامنے ہیں خالد ہ حسین اور حسنی مبارک نے اسٹبلشمنٹ کو آنکھیں دکھا نا شروع کیا تو دو نوں کو اقتدار کی راہد اریوں سے بے دخل کیا گیا پھر محمد مری نے اسٹبلشمنٹ پر حکومت چلانے کی غلطی کی تو اس کو نشان عبرت بنا یا گیا پاکستان کے بارے میںیہ بات فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے میں مشہور ہوگئی تھی کہ یہاں ٹرپل اے (AAA) یعنی اللہ ، امریکہ اور آرمی کی حاکمیت چلتی ہے پھر بھٹو نے آرمی کا کردار عوام کو دیکر اس تکون کا ایک A ہٹا نا چاہا تو امریکہ اور آرمی نے ایکا کر لیا اور بھٹو کو منظر سے ہٹا دیا گیا وہ سچ بولتا تھا اور خو ف ناک حد تک سچ بولتا تھا اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ گو ادر پورٹ اور چائنہ پاکستان اقتصادی راہد اری (CPEC) ہے اس کو امکا نات کی پوٹلی سے زیادہ خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا رہا ہے ہمارا سیاسی نظام ،ہمارا معاشی ڈھا نچہ ،ہمارا سماجی اور معاشرتی انتشار اس کا متحمل نہیں کہ CPEC پر کوئی سخت موقف اپنا سکیں بلوچستان میں بنگلہ دیش والی آگ لگا ئی گئی ہے 13 مکتی با ہنیاں حکومت کے خلاف مسلح جہد و جہد کر رہی ہیں سندھ اور پنجاب کو مکتی با ہنیوں کی ترکیب کے لئے استعمال کیا جارہا ہے خیبرپختو نخوا کو مکتی باہنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے یاس یگا نہ چنگیزی کا شعر ہے
رہا کیا دلوں میں جب فر ق آیا
اسی دن جد ائی ہوچکی بس
آج بھارت پاڑہ چنار میں دھما کہ کر کے 64 شہر یو ں کو ماردیتا ہے تو 10 بڑی تنظیموں کی طرف سے سوشل میڈیا پر اس کا خیر مقدم کیا جاتا ہے اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ ان حالات میں پرند ے اشارہ پاتے ہی ایک شاخ ے اُڑ کر دوسری شاخ کا رُخ کرتے ہیں اس میں ٹرپل اے کی مرضی بھی ہوتی ہے اسٹبلشمنٹ کا کردار بھی ہوتا ہے امیر حمز ہ شنواری کہتا ہے کہ نئے نئے بُت تر اشتاہوں ان کو پوجتا ہوں پھر توڑ تا ہوں اور نئے بت تراشتا ہوں
بتاں دی نو ی نوی وار پہ وارہ جو ڑوم سہ مد ہ نما تنر م سہ مد م پس چہ ڑاڑہ شی بیا ئے بیر تہ ماتوم بتان دی نوی نوی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

إغلاق