محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان …….. ’’ جمال کے خوشگوار تجربات‘‘

………….محمد جاوید حیات………..



سید جمال الدین میرے یار غار ہیں ۔۔تریچ کے خوبصورت گاؤں ویمژدہ میں آج سے کئی سال پہلے پیدا ہوئے ۔۔ہم نے اکھٹے کالج پڑھے پھر ایک ہی آرڈر میں نوکری ملی ۔۔اور 25سالوں سے قوم کو سروس دے رہے ہیں ۔۔آجکل گورنمنٹ ہائی سکول بمبوریت میں اکھٹے کام کر رہے ہیں ۔۔ایک ہی کمرے میں رہ رہے ہیں ۔۔بچپن اور جوانی کی یادیں تازہ کر رہے ہیں ۔۔اپنے تجربات شیئر کرتے ہیں ۔۔وقت کا دھارا بہتا ہے ۔۔صبح ہوتی ہے پھر شام ہوتی ہے۔۔ یقیناًاسی طرح زندگی تمام ہو جائے گی ۔۔سید جمال الدین کوفرد شناسی میں کمال ہے ۔۔ کسی کے بارے میں جو رائے قائم کرتا ہے وہی درست ہوتی ہے۔ ۔مجھے اس پہ رشک آتا ہے ۔۔اس لئے ڈرتا ہوں کہ کہیں میرے بارے میں بھی کو ئی ایسی ویسی رائے قائم نہ کرے ۔۔وہ کم گو ہے مگر ہنس مکھ ہے ۔۔کوئی بات کرے تو موتی پروتا ہے ۔۔کسی کی تعریف کرئے تو جملے چنے ہوئے ہوتے ہیں اور یہی اس فرد کا تعارف بھی ہوتا ہے ۔۔وہ سپورٹسمین رہ چکا ہے ۔۔اب بدن فربہ صحت جزوی ٹھیک ۔۔۔کھانے میں احتیاط نہیں کرتا ۔۔کم خور لیکن خوش خوراک ہے ۔۔فقیر منش ہے ۔۔سیدھا سادا زندگی گذارتا ہے ۔۔مذہبی بہت ہو چکا ہے نماز تلاوت کبھی نہیں چھوٹتیں۔۔ کریم کھیلتا ہے ٹیبل ٹینس کھیلتا ہے ۔۔ادب سے شعف نہیں اسلئے ریاضی پڑھاتا ہے ۔۔گانا بہت ہی چنا ہوا سنتا ہے۔۔ ایسے ویسے نہیں سنتا ۔۔شاگردوں سے محبت کرتا ہے ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔۔ اپنے بچوں کے لئے خواب دیکھا کرتا ہے ۔۔ہم اپنی تنہائیاں آپس کی خوش گپیوں میں کاٹتے ہیں ۔۔ان کو بائیک چلانے کا شوق بہت ہے ۔ اپنے موٹر بائیک کو گویا پالتا ہے ۔۔اس کی صفائی اور اس کی حفاظت میں بڑا احتیاط کرتا ہے ۔۔اس بار بارویں جماعت کے امتحان کی ڈیوٹی پہ وریجون موڑکھو گئے ۔۔29اپریل کو جب ڈیوٹی سے واپس آرہے تھے تو جگومی برنس کے مقام پر موڑ کاٹتے ہوئے اس کی موٹر بائیک سامنے سے آنے والی کوسٹر سے ٹھکرائی ۔۔اس کا خوفناک اکسیڈنٹ ہوا ۔۔شدید زخمی ہوا ۔رب نے جان بچائی ۔۔یہ اس کی زندگی کا تلخ ترین تجربہ تھا ۔۔اسکو ریشن کے ہسپتال پہنچایا گیا ۔۔ابتدائی طبی امداد کے بعد اس کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال پہنچایا گیا ۔۔اس دوران جس جس نے اس کی مدد کی ۔اس کو حرف حرف یاد ہے اور یہ اس کے خوشگوار تجربات ہیں ان کو لکھوانا چاہتا ہے اور اس تحریر کو بنیاد بنا کر ان سٹیک ہولڈرز کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہے اور یاد رہے کہ یہ بے لوث خراج تحسین ہے کیونکہ یہ ایک استاد کی شاباشی ہے جو صرف میرٹ پہ دی جاتی ہے ۔۔جمال الدین چترال پولیس اور چترال کے ڈاکٹروں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہے ۔۔ان کا دعویٰ ہے کہ زندہ قوموں کے ’’مسیحا ‘‘ اور ’’ پاسبان ‘‘ ایسے ہوتے ہیں ان کو اپنے پیشے سے محبت ہوتی ہے وہ ڈیوٹی کو فرض سمجھتے ہیں ۔۔ ان کی زندگی کا مقصد قوم اور انسانیت کی خدمت ہوتی ہے ۔۔پولیس کو مطلوب ڈرائیور کا تعلق راولپنڈی سے تھا ۔۔اس کو جمال کے سامنے لایا گیا ۔۔اُس نے اس کو اپنی شان کے مطابق معاف کیا اس ڈرائیور کو احساس ہوا کہ چترال واقعی تہذیب کی ایک جنت ہے ۔۔تھانہ کوعذی کے ایس ایچ او اقبال حسین نے کیس کی خود پیروی کی ۔۔اس کے موٹر بائیک کو اس کے گھر پہنچایا ۔۔اس کے سرہانے آکر سارے کاغذات بنائے اور ثابت کیا کہ استاد کی قدر اس معاشرے میں بہت ہے ۔۔پولیس کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں انھوں نے ایک جملے میں پولیس کی شرافت کو سند مانا کہ اگر یہ شرافت پہ آجائے تواس کی تعریف ہی کرنی پڑتی ہے ۔۔انھوں نے ڈاکٹروں کی اپنی تیمارداری کو قابل داد کہا ۔۔کہ اگر مسیحا واقعی مسیحائی پہ آجائے تو کمال کر دیتا ہے ۔۔سید جمال الدین کو یہ دونوں سلوک بھلانے سے بھولتے نہیں ۔۔’’مسیحا ‘‘ اور ’’پاسبان‘‘ معاشرے کے اہم ستون ہوتے ہیں ۔۔زندہ معاشرے میں ان دونوں کا کردار شاندار ہوتا ہے ۔۔ان سے امیدیں اور توقعات وابستہ ہوتی ہیں ۔۔اگر معاشرے کو ناامید نہ کریں تو جینے کی امیدیں موجیں مارتی ہیں ۔۔اور معاشرہ جنت بن جاتاہے ۔۔سید جمال الدین کے زخم بھر گئے ہیں وہ بلکل ٹھیک ہوگئے ہیں ۔۔اور یہ خوشگوار یادیں اس کی زندگی کا حصہ بن گئی ہیں ۔۔جن کو لکھونے کے لئے اس نے اپنے دوست کے کمزور قلم کا سہارا لیا ۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

إغلاق