تازہ ترین

محکمہ اعلیٰ تعلیم کے زیر انتظام صوبہ بھر کے تعلیمی بورڈز اور کالجوں کے ٹاپ ہولڈر نمائندوں میں سکالر شپ اور پرفارمنس گرانٹ کی تقسیم

 پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ کسی ملک میں جب تک ادارے با اختیار اور مضبوط نہ ہوں، شفافیت اور میرٹ کی بالا دستی یقینی نہ بنائی جائے اور حقدار کو حق حاصل نہ ہو تب تک وہاں خوشحالی نہیں آسکتی۔ ہمارے ملک کی بد قسمتی ہے کہ یہاں سیاسی مداخلت کے ذریعے ادارے تباہ کئے گئے۔ جو ملک اپنے بچوں کو معیاری تعلیم نہ دے سکیں وہ ترقی کے دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ماضی میں ہر حکومت نے صحت و تعلیم کو ترجیح دینے کی باتیں ضرورکیں مگر عملی طور پر کچھ نہ کر پائے۔ یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس نے عوام سے کئے گئے تبدیلی کے وعدے کے مطابق اداروں کی مضبوطی، اصلاحات اور خدمات کی فراہمی پر پوری توجہ دی۔ اداروں کو بااختیار کرکے کارکردگی کا موقع دیا۔ جزا و سزا کا نظام بنایا۔بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ اساتذہ سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں پر اپنے بچے سمجھ کر توجہ دیں۔ غریب کا بچہ پیچھے رہ جائے تواسکے پورے خاندان کا مستقبل تباہ ہو جا تا ہے، امیرا ور غریب میں خلا بڑھتا اور معاشرہ انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ جسکے مجموعی قومی خوشحالی و ترقی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے زیر انتظام صوبہ بھر کے تعلیمی بورڈز اور کالجوں کے ٹاپ ہولڈر نمائندوں میں سکالر شپ اور پرفارمنس گرانٹ کی تقسیم اور صوبے کے کالجوں میں آن لائن ایڈمشن کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی اور سیکرٹیری اعلیٰ تعلیم نے بھی تقریب سے خطاب کیا جبکہ صوبائی وزیر برائے اطلاعات او رصوبائی حکومت کے ترجمان شاہ فرمان کے علاوہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے عمدہ کارکردگی پر سکالرشپ اور پرفارمنس گرانٹ حاصل کرنے والے افراد کو مبارکباددی اور اس سلسلے میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی چار سالہ کار کردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومتیں اور سیاست دان صحت اور تعلیم کو ترجیح دینے کا راگ الاپتے رہے مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ذاتی مفادات کی خاطر ان شعبوں کو تباہی کے دہانے لا کھڑا کیااس کے برعکس موجودہ صوبائی حکومت نے صرف صحت اور تعلیم ہی نہیں بلکہ ہر ادارے کو ترجیح دی ،شفافیت یقینی بنائی، ڈیلیوری کا ایک سسٹم وضع کیا ۔ ہماری اصلاحات کے نتائج ہر سطح پر دیکھیں جا سکتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر دنیا کے مقابلے میں جانا ہے تو ادارے مضبوط کرنا ہونگے وزیراعلیٰ نے کہا کہ و ہ ماضی کی حکومتوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ سابق حکمرانوں نے باتیں بہت کیں مگر توجہ کسی نے نہ دی یہ واحد حکومت ہے جس نے تعلیمی اداروں کا معیار بلند کیا ،میرٹ پر اہل اور قا بل اساتذہ کی تعیناتی یقینی بنائی اور بہترین نتائج سامنے لائے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ انگریزوں نے اپنے مفاد کی خاطر یہاں طبقاتی نظام تعلیم کی بنیاد رکھی جسے تبدیل کر کے ایک لیول پر لانا ضروری تھا مگر اس پر کسی نے توجہ نہ دی اس نظام سے امیر مزید امیر ہوتے گئے اور غریب غریب تر ہوتا چلا گیا ان کی حکومت نے تعلیم کے زریعے امیر اور غریب کے مابین اس خلا کو کم کرنے کے لئے پرائمری کی سطح پر انگلش میڈیم کا اجراء کیا تاکہ غریب بھی امیر کا مقابلہ کر سکیں سکولوں میں سہولیات کی فراہمی پر چالیس ارب روپے خرچ کر رہے ہیں عوام کا سرکاری سکولوں پر اعتماد بحال ہو چکا ہے صوبائی حکومت صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں مساوی نظام تعلیم کے لئے کوشاں ہے انہو ں نے اس موقع پر ماہرین تعلیم سے کہا کہ وہ دوہرے معیار تعلیم کو ایک لیول پر لانے کے لئے
اپنی تجاویز دیں ہم اپنے بچوں کو اعلیٰ معیاری تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے ہی ترقی یافتہ دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں قبل ازیں وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات میں سکالرشپس اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل اساتذہ میں پرفارمنس گرانٹ تقسیم کی انہوں نے صوبہ بھر کے کالجوں میں آن لائن داخلوں کا باضابطہ اجراء بھی کیا۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

إغلاق