پروفیسر رحمت کریم بیگ

تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را……..گاہے گاہے باز خوان این قصۂ پارینہ را

……پروفیسر رحمت کریم بیگ…..



جس زمانے میں ہمیں گاوءں کی واحد پرائمری سکول میں داخل کرنے کے لئے مجھے اور میرے کزن کو نئے سلے ہوئے شلوار قمیض پہنایا گیا تو اس وقت کی رواج کے مطابق ہمارے آنکھوں میں سرمہ بھی ڈالا گیا، سر پر تیل ڈال کر کنگھی بھی کی گئی اور پاوءں میں نئے چپل ، ہاتھ میں ایک عدد لکڑی کا بنا نیا تختہ، بستہ، دوات، شوڑ قلم وغیرہ سے ہمیں مسلح کرکے میرے ابو اور چچا نے چائے اور کچھ رواجی قسم کے ماکولات ساتھ لیکر ہمارے نئے ٹوپیوں پر آٹے کی چٹکی کا چھڑکاؤ کرکے گھر کے دروازے سے بسم اللہ رحمن الر حیم کی ورد کے ساتھ سکول کی طرف روانگی ہوئی تو ہمیں کوئی اندازہ نہ تھا کہ اس سلسلے میں ہمیں کہاں اور کیوں لے جا یا جا رہا ہے؟ نہ یہ سوال ہم کسی سے کر سکتے تھے اور نہ بڑوں نے ہمیں سمجھانے کی کوئی خاص کوشش کی۔یہ پرائمری سکول ہمارے گاوءں سے تقریبا دو کلو میٹر دور تھا اور یہ لفظ کلو میٹر کافی بعد کے زمانے میں ہمارے چترال میں داخل ہوا۔ اس وقت فاصلوں کو میل کے حساب سے ناپا جاتا تھا جس کا ایک حصہ فرلانگ کہلاتا تھا اس طرح وزن کے پیمانے رتی، ماشہ، تولہ، چھٹانک، پاؤ، سیر، بٹی، بیڑو، اسنار، واڑو وغیرہ نام سے جانے جاتے تھے اور عوام الناس میں یہی مقبول اور جانے پہچانے نام تھے۔ میٹر کی بجائے گز، ہوست، ڈشٹ، چوردرانگوڑ، تروئے چموٹ، جو چموٹ وغیرہ جانے اور مانے جاتے تھے، ترازو نام کی چیز چند دکانداروں کے پاس ہوتے تھے جنہیں بار کش کہتے تھے لفظ ترازو عام استعمال میں نہ تھی اور دکاندار لوگ خال خال ہی ہوتے تھے جو تولہ کے حساب سے چائے بیچ کر اس کے بدلے میں فصل پکنے کے بعد بٹی کے حساب سے جو یا گندم وصول کرتے تھے اور یہی غلہ جمع کرکے پھر اگلے سال کے قحط کے دنوں میں خوراک کی کمی کے شکار لوگوں کو ادھار دیتے تھے۔ گندم کا غلہ، آ ٹا بہت قیمتی ہوتی تھی عام خوراک جو، باجرہ، مکئی، دالوں کی مختلف اقسام، الو وغیرہ تھے اور یہ بھی سال کے بارہ مہینے دستیاب نہ تھے، گھروں میں روٹی راشن کے حساب سے ملتی تھی آج کی طرح ہر ایک کو پوری چپاتی نہیں ملتی تھی اور ناشتے کے بعد لنچ بھی وقت پر اور شام کا کھانا بھی ٹھیک وقت پر، بے وقت کوئی کھانے کی چیز ملنی مشکل تھی سوائے خشک پھل وغیرہ کے۔ خوراک کو سنبھال کر رکھنے کا ایک منظم نظام بلکہ سخت گیر نظام رائج تھا۔
جب ہمیں سکول کے دروازے سے اندر داخل کیا گیا جس میں ابھی تک ہم نے کبھی جھانکنے کی ہمت نہیں کی تھی تو اس عمارت کو ایک مستطیل کمرہ پایا جو ہماری محدود زہن کی وسعت سے بہت بڑا محسوس ہوا اور میں نے اندر جاکر جب دوسرے سینئر طلباء کو دیواروں کے ساتھ بیٹھے دیکھا تو تھوڑا ڈر محسوس کیا کہ ما حول نیا تھا اور ایک نوجواں ٹیچر کے ساتھ ایک سفید ریش پگڑی باندھا ہوا عالم دین جس کی میرے گھر میں آمد ہوا کرتی تھی ان کے مانوس اور نورانی چہرے کو دیکھ کر مجھے حوصلہ ملا ہم دونوں کو ان دو اساتذہ کرام کے پاس بلایا گیا اور ہم سے ہمارے نام پوچھے گئے اور رجسٹر میں ہمارے نام کے ساتھ ولدیت، قومیت، تاریخ پیدائش وغیرہ بھی لکھے گئے یہ تفصیل ہمارے سرپرستوں نے ہمارے نوجون استاذ کو بتایا اور میں نے کھڑے کھڑے دیکھ لیا اس کے علاوہ مجھے کوئی غیر معمولی بات یا کاروائی نظر نہیں آئی سوائے ایک سٹک کے جو کرسی کے پاس ہی رکھی گئی تھی اور اس کا مطلب ہم نے دیکھتے ہی سمجھ لیا تھا کہ یہی ہے مرمت کرنے کا وہ ڈنڈا جس کے خوف سے ہمارے ناتوں جسم کانپنے لگتے تھے۔ ڈنڈوں سے مرمت ایک معمول کی بات تھی،لکڑی نہیں لایا مار پڑی، دودھ نہیں لایا مار پڑی، غیر حاضر ہوا تو ڈنڈے کھائے کہ ان دنوں نقد جرمانے کا رواج نہ تھا۔ اور اس طرح ہم دو کزن پرائمری سکول زوندرانگرام تریچ کے پہلی جماعت کے باقاعدہ طالب علم بن گئے، ہمارے ساتھ چار پانچ ساتھی اور بھی داخل کئے گئے اور سکول کی پوری تعداد پچیس تک تھی نئے داخل شدہ بچوں کے ساتھ لائی جانے والی ماکولات میں سے کچھ بچوں میں بھی تقسیم کی جاتی تھی اور ہم بھی اپنے بستہ میں چپاتی کا ٹکڑا لایا کرتے تھے جو کھبی ہمیں نصیب ہوتی اور کھبی ہماری غفلت سے دوسروں کو۔ اور ان دنوں ان پرائمیری سکولوں میں کلاس فور یا چوکیدار قسم کی کوئی مخلوق نہیں ہوتی تھی، اساتذہ کو کوئی کام کرانا ہوتا تو وہ چن کر بڑی عمر کے لڑکوں کو بلا کر کام سمجھاتے اور وہ بخوشی وہ کام انجام دیدیتے، کمروں کی صفائی بچے خود کرتے، بچوں کی جسمانی صفائی کا کوئی پرسان حال نہ تھا تیسری جماعت کے بعد اس جسمانی صفائی کا بھی خیال رکھا جانے لگا اور ہفتے میں ایک بار سب کی صفائی کی چیکینگ اسمبلی کے وقت کی جاتی تھی اور صفائی میں کمزور پاکر جسمانی سزا دیجاتی تھی، ان دنوں جسمانی سزا کا نظام نسبتاً سخت تھا اس لئے بہت سے بچے سکول آنے سے ڈرتے تھے، ہما رے ان ابتدائی دنوں میں سکول میں بچے ہی پڑھتے تھے بچیوں کو سکول میں داخل کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا سکول کے بچوں کی وردی یعنی ایک رنگ کے لباس کا کوئی سوال ہی نہ تھا اور ایک بڑے ہال نما کمرے میں دو اساتذہ کی نگرانی میں ہماری تعلیمی عمل کا با قاعدہ آغاز ہوگیا، ہم شوڑ قلم سے دوات کی مٹی کی زرد سیاہی سے اپنے تختوں پر خروف تہجی لکھتے اور بار بار لکھ کر استاذ کو دکھاتے اور وہ ہماری لکھائی کی اصلاح کر دیتا اسی طرح حساب کی بھی ایسی ہی مشق کی جاتی اورْ قرآنی سو رتوں کی ہم سے اونچی اواز میں دھرائی کرائی جاتی،پہاڑہ اس سے بھی اونچی آواز میں اور وہ بھی کھڑے کھڑے دوسرے دن ہم سے گذرے دن کے اسباق زبانی دہرائے جاتے اور یاد نہ ہونے کی صورت میں ہتھیلی پر ایک دو یا زیادہ مار پڑتی ۔ ہماری دینیات کا استاذ دو تین سال بعد دنیا سے رخصت ہوا مگر اس وقت تک ہم عربی پڑھنے میں کافی تیز ہوچکے تھے اور عموماً غیر حاضر رہنے والے میری کلاس فیلوز یا دوسرے کلاس کے ساتھی ہم سے عربی میں مدد لیتے یعنی کسی حد تک نقل کر کے مار پیٹ سے جان چھڑالیتے تھے میرے پرائمری کا جے ۔وی۔ استاد ا للہ تعالی کی فصل و کرم سے اب بھی حیات ہے۔
یہ شاید 1959 ء کا زمانہ تھا اور ان دنوں سکولوں میں داخلے کا رجحان بہت کم تھا گاؤں کی آبادی میں سے کوئی ایک تہائی اپنے بچوں کو سکول میں تعلیم دلوانے پر راضی ہوتی تھی باقی کو اس عمل سے کوئی دلچسپی نہ تھی یا وہ چند دن کے لئے داخل کر کے لوگوں کا منہ بند کرکے ان کو پھر سے سکول سے نکال کر بھیڑ بکریوں کی نگہبانی پر لگاتے تھے۔ ان دنوں کتابیں نایاب تھیں۔ کاپی نام کی چیز تھی ہی نہیں ۔ پنسل بال پن یا فائنٹین پین یا سیاہی کی بوتل بھی نایاب ہوتی تھی ایک قصہ مجھے اتنا یاد ہے کہ ہمارے جونئیر کلاس میں کسی کو ان کے کسی رشتہ دار نے کلر بکس تحفہ دیا تھا اور وہ کلر بکس کو کلیر بکس کہتاتھا اور کسی طرح یہ کلر بکس ان سے چرالی گئی تو اس نے واویلا مچایا اور جذباتی حالت میں ان کو لفظ کلیر یاد نہیں آیا تو اس نے کہا کہ میرا جنازہ بکس چوری ہوگیا ہے ( کلیر یعنی مردہ جسم کے ساتھ جوڑتے ہوئے اس کو جب یہ لفظ بھی یاد نہ رہا تو کلیر کا ہم معنی جنازہ ہی استعمال کیا جا سکتا ہے) ایک دو کتابیں ایک لڑکے کے پاس تھیں تو دوسری کوئی کتاب دوسرے کے پاس اور ایک اور کتاب کسی چوتھے طالب علم کے پاس اس طرح کل ملا کر ایک کلاس میں ایک سیٹ کتاب دستیاب ہوتے کسی کے پاس شوڑ قلم ہے تو سیاہی نہیں کسی کے پاس سیاہی ہے تو تختہ نہیں او ر ہمارے بعض ساتھیوں کے پاس کوئی ایک چیز بھی نہیں ہوتی تھی، ہم ایک دوسرے سے قلم دوات ادھار لیکر لکھتے تھے، خوشخطی کا کام گھروں میں تختے پر لکھ کر لاتے تھے اور استاذ کو پیش کرتے اور وہ بھی توجہ سے پڑھے بغیر لفظ شاباش سے ہماری حوصلہ افزائی کرتا۔ پڑھائی کم اور کلاس روم سے شور شرابہ زوردار ہوتا تھا ان حالات میں اور ان وسائل کو لیکر سارا سال ان چند کتابوں کو پڑھکر اور ان کو مروڑ کر سال ختم ہونے سے پہلے ہی ان کا وجود ختم ہوجاتا تھا۔ کسی بھی گاؤں میں سکول پڑھنے والے بچوں کی تعداد سے نہ پڑھنے والے بچوں کی تعدا د زیادہ ہوتی تھی اس لئے ان آزاد پھرنے والے بچوں کو دیکھ کر سکول جانے والے بچے اپنے آپ کو ایک قسم کا قیدی سمجھتے تھے اور ان میں سکول سے غیر حاضر رہنے کی عادت پیدا ہوتی تھی، یہ تھا ہمارا ابتدائی سکول کا حال۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

إغلاق