قاری فدا

سب ڈویژن مستوج کب تک تاریکی میں ڈوبا رہے گا؟

تحریر:قاری فدا محمد


2015 کے تباہ کن سیلاب کی بے رحم لہروں نے نہ صرف کوراغ کے مقام پر سب ڈویژن مستوج کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر سے ملانے والا واحد راستہ دریا  بُرد کرکے مصیبت کھڑی کردی بلکہ کئی مقامات پر پلوں کو بہا کر آپس کے رابطوں کو محال کرکے رکھ دیاتھا۔ کئی گاؤں دلدل میں تبدیل  اور درجنوں جانیں سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئیں۔  انسانی فطرت کے تقاضو ں کے مطابق اموات کا رنج و الم تو مٹ جانا ہی تھا، گرے بہے مکانات بھی جیسے تیسے کھڑے کردئیےگئے۔ آفت زدوں کی دلدوزی اور مصائب کی سخت گیری سے وزیر اعظم  نے متاثرین کے لیے  امدادی رقوم کا اعلان کیا،  سینکڑوں مستفید ہوگئے اور کئی ایک لوکل ذمہ داراں کی مہربانی کے ہاتھوں آج بھی رو رہے ہیں۔  بہرحال یہ سارے مصائب وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ذہنوں سے محو ہونے لگیں، مگر ایک مصبیت ایسی ہے جو رہ رہ کے یاد آرہی ہے، قدم قدم پر ستا، لمحہ لمحہ رولارہی ہے۔ وہ ہے ریشن بجلی گھر کی تباہی !  یہ مشترکہ مصبیت تھی، اجتماعی عذاب تھا، دیر پا اذیت تھی، جو نہ مٹائی  جاسکی نہ بھولائی جاسکی۔

کوئی پوچھے میرے دل سے تیرے تیر نیم کش کو

یہ خلش کہاں سے ہوتی ، جو جگر کے پار ہوتا

اپنے نمائندوں کی بے حسی ، بے بسی ، بے اعتنائی اور  وعدوں سے آگے نہ بڑھتی   روش  اور اپنی بے مائیگی کے پیش نظر غالب کی اسی غزل کا  یہ شعر بھی گوش گزار کیے بغیر چارہ نہیں۔

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا ، کوئی غمگسار ہوتا

مگر افسوس کہ ابھی تک چازہ ساز میسر آیا نہ غمگسار۔وزیر اعظم کا شکریہ کہ انھوں نے تباہ حال لوگوں کی دلجوئی کرتے ہوئے دو دو لاکھ اور ایک ایک لاکھ کی نقد رقوم کا تحفہ مرحمت فرمایا، مگر دو دفعہ چترال آمد پر بھی کسی نے اڑھائی لاکھ کی آبادی کے تاریکی میں ڈوبے رہنے کی اذیتناک اور تکلیف دہ معاملے کو ان کے سامنے نہیں رکھا۔ وزیر اعلی نہ صرف گزشتہ سال شندور کی سیر کرکے چلے گئے ، بلکہ گزشتہ دنوں قائد تحریک انصاف  کے ہمراہ  تشریف لاتے ہوئے کچھ پرائے منصوبوں کے افتتاح کرتے ہوئے محو چکر ہوگئے۔ کم از کم مستوج کے مقام پر شہزادہ سکندر الملک کی پارٹی میں شمولیت کے زرین موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ضلعی عہدہ داراں کو دونوں حضرات کی توجہ اس تاریکی کی جانب مبذول کرانی چاہئے تھی۔ مگر افسوس کہ کسی نے اس جانب توجہ نہ دی۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر کو گزشتہ سال ساری صورتحال سے آگاہ  کردیا گیا تھا، انھوں نے وزیر اعلی اور اپنے صوبائی وزرا کے ذریعے تباہ شدہ بجلی گھر کی بحالی کا وعدہ بھی کر گئے تھے، مگر جانے کس مجبوری کے ہاتھوں وہ یہ وعدہ وفا کرنے سے قاصر رہ گئے۔ اس دوران قائد حزب اختلاف جناب خورشید شاہ صاحب کا بھی چترال یاترا ہوا ، ان کے سامنے جنریٹر فراہمی کا بچگانہ مطالبہ رکھ کر رخصت کردیا گیا۔ طرفہ تماشا یہ کہ ایم این اے کو ترس آرہا ہے، نہ ایم پی ایز کو اس تکلیف کا احساس ہے، ناظم کا دل دکھ رہا ہے نہ صوبائی حکومت کو رتی بھر فکر لاحق ہے۔ پرائے منصوبوں کے بزور افتتاح کراتے اور وزیر اعلی کے ناک  کے بال بنے رہنے والے پی ٹی آئی کے ضلعی قائدین ( جن کی اکثریت سب ڈویژن مستوج سے ہے) یہ مقدمہ اپنے قائدین کےرکھنے اور لوگوں کی تکلیف سے آگاہ کرانے سے گریزاں کیوں ہیں؟ نہ معلوم یہ سیاسی بازیگر کس منہ سے سب ڈویژن مستوج کے لوگوں کے سامنے ووٹ مانگنے جائیں گے؟   مگر جائیں گے ضرور جائیں گے، کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ قوم کو بھولنے کی بیماری ہے، جیسا کہ گزشتہ انتخابات میں  ایم پی اے کے کرنے کا کام بے بس ہو کر خود کرنے کے باوجود پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ انھی صاحب دل سابق ایم پی اے کے حق میں آئے تھے۔ مگر اس بار زخم تازہ ہے، بلکہ خون رس رہا ہے، اب کی بار بھول جانے کا بھی کوئی اندیشہ نہیں، اس لیے مشتری ہشیار باش! پھر بھی اگر رستے زخم پر مرہم رکھنے سے باز رہنے والوں ہی کو گلے لگالیا گیا ، یعنی انہی کے حق میں ووٹ کی امانت استعمال کی گئی ، تو  آئندہ کسی نمائندہ سے کام اور خدمت کی توقع رکھنا خام خیالی اور مجنون کی بڑھ ہی سمجھی جائے گی۔

ایم این اےکم گو اور ضرورت سے زیادہ بامروت ہونے کی وجہ سے شاید مطالبات کرتے ہوئے شرما جاتے ہیں، اور ایسے شرمیلے لوگوں کو سیاسی میدان میں آنے کے بجائے گھر بیٹھ کر  خاندان کی جانب سے مبارکبادی اور تعزیتوں  کے معاملات  نبھانے چاہیے، ورنہ قوم ایسی رولتی رہے گی۔  ایم پی اے تو  زبان درازی اور بات بنانے  میں بے مثل گردانے جاتے ہیں، نہ معلوم  قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کی زبان کی تیزی کیوں کند ہوجایا کرتی ہے۔ جہاں تک  ڈسٹرکٹ ناظم  کی بات ہے تو اس قسم کے میگا پراجیکٹ  ان کے بس کے روگ ہی نہیں ہوا کرتے، البتہ اس حوالے سے خاموش تماشائی بنے رہنے کا  گلہ ان سے بھی ہے۔  کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں عوام الناس کی اس مشکل کا ذرا بھی احساس ہوتا تو معاملہ کب کا سنور چکا ہوتا، مگر افسوس کہ سب ڈویژن کے عوام کی قسمت میں  تاریکی ہی چھائی رہی۔  اور کسی کے دل میں بھی اس روشن دور میں انہیں تاریکیوں سے نکالنے کا جذبہ پیدا نہ ہوسکا۔

اس وقت لواری ٹنل کے افتتاح کے سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان کی چترال آمد کی خبریں گردش کررہی ہیں۔  لہٰذا سب ڈویژن مستوج کے عوام کی جانب سے جناب ایم این اے، ڈسٹرکٹ ناظم اور مسلم لیگ چترال کے رہنماوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ خدارا!  مطالبات کی فہرست میں اس مسئلے کو مقدم  رکھتے ہوئے تباہ شدہ بجلی کی تعمیر کو یقینی بنانے کی بھر پور سعی  و جہدفرمائی جائے۔  تاکہ لوگوں کے تاریکی سے نکلنے کی کوئی سبیل پیدا ہوجائے۔یہ بھی واضح رہے کہ  کسی بھی پارٹی کے لیے سب ڈویژن مستوج میں اکثریت حاصل کرنے کا یہ آخری موقع ہے،  اگر اس بار وزیر اعظم  ریشن  بجلی گھر کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے فنڈز جاری کرکے فوری طور پر کام شروع کرانے میں کامیاب ہوگئے تو  بعید نہیں کہ سب ڈویژن مستوج میں  مسلم لیگ ہی فاتح ٹھہرے۔ حقیقت یہ ہے کہ باقی جماعتوں نے ہاتھ آئے مواقع گنواچکے ہیں، اور ان کے پاس کوئی عذر بھی بچا نہیں ہے۔ لہٰذا مسلم لیگی ہشیار باش، ایم این اے اور ناظم بیدار باش!

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

إغلاق