چترال لوئرمضامین

سپہ سالار کا واضح پیغام

……محمد شریف شکیب……..

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کی ناک کے نیچے داعش کا گڑھ لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان نے سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کے خلاف جہاد میں شرکت کرکے جو بیچ بویا تھا۔ اس کی فصل آج کاٹنی پڑرہی ہے۔ جرمنی کے شہر میونخ میں بین الاقوامی سیکورٹی کانفرنس سے خطاب میں پاک فوج کے سربراہ نے امریکہ کو بتادیا کہ پاکستان میں 130میں سے 123دہشت گرد حملے افغانستان سے کئے گئے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جہاد کا حکم دینے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔تمام مکاتب فکر کے علماء نے دہشت گردی کو غیر اسلامی قرار دیا ہے اس کے باوجود دہشت گردی کواسلام یا مسلمانوں سے نتھی کرنا حقائق سے انحراف کے منافی ہے۔پاک فوج کے سپہ سالار نے ایک بڑے فورم پر پاکستان کا موقف موثر انداز میں پیش کیا ہے۔پاکستان روز اول سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ افغان سرزمین پر بڑی طاقتوں کی رسہ کشی سے پورے خطے کے لئے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔امریکی فوج 2001سے افغانستان میں موجود ہے۔ پیٹاگون کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کوہتھیاروں، خوراک اور ضروریات زندگی کی فراہمی اور ان کی سیکورٹی پر سالانہ تین ارب 65کروڑ ڈالر خرچ کئے جارہے ہیں۔ عسکری ماہرین کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ اکیس کروڑ بیس لاکھ ڈالر روزانہ افغانستان میں اپنے فوجیوں پر خرچ کر رہا ہے۔ اس کے باوجود افغانستان کے 60فیصد حصے پر آج بھی طالبان اور امریکہ مخالف قوتوں کا کنٹرول ہے۔ تمام شدت پسند تنظیموں نے اپنے مراکز افغانستان کے مختلف حصوں میں قائم کر رکھے ہیں ۔ جنہیں امریکہ اور بھارت کی اشیرباد حاصل ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کچھ عرصہ قبل امریکہ پر افغانستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ افغان سرزمین پر داعش کے مراکز قائم کئے جارہے ہیں اور امریکی فوج ان کی مدد کر رہی ہے۔ آرمی چیف نے یہ کہہ کر نہ صرف امریکہ کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے سوویت یونین کے خلاف افغانستان کو میدان جنگ بناکر وہاں عدم استحکام کا بیچ بو دیا تھا۔ بلکہ انہوں نے بین السطور واشنگٹن کو یہ بھی باور کرایا ہے کہ افغان جہاد میں ہم نے اپنی مرضی و منشا کے تحت حصہ لیا تھا نہ ہی دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ ہماری اپنی جنگ تھی۔ ہم نے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے اس جنگ میں شرکت کی۔ اور سب سے زیادہ نقصان بھی اٹھایا۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں فوج اور پولیس کے اعلیٰ افسروں سمیت پچاس ہزارسے زیادہ پاکستانیوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ 80ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھایا۔ ہماری معاشرتی قدریں تہہ و بالا ہوگئیں۔سماجی زندگی جمود کا شکار ہوگئی۔ سرمایہ کار یہاں سے بھاگ گئے۔ کھیلوں کے میدان ویران ہوگئے۔ ہم نے سانحہ اے پی ایس کی شکل میں اپنے معصوم بچوں کی بھی قربانی دی۔ ہماری بے مثال قربانیوں کا اعتراف کرنا تو درکنار۔ خود ہم پر دہشت گردہونے کی چھاپ لگ گئی۔ ہم سے ڈومورکا مطالبہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔ ہم نے اپنے قومی مفادات کو داو پر لگا کر غیروں کی جنگ میں حصہ دار بن کرناقابل تلافی نقصان اٹھایا ہے۔ اب اس لاحاصل جنگ میں ہم کسی کے اتحادی نہیں بنیں گے۔ اپنی جنگ خود لڑیں گے اور اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کریں گے۔ہم بھی دیکھیں گے کہ پاکستان کا اعتماد حاصل کئے بغیر امریکہ خطے میں اپنے مفادات کا کیسے تحفظ کرتا ہے۔وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کا از سر نو تعین کریں۔ اور اپنے قومی مفادات کو سب پر مقدم رکھیں۔جس کے لئے قومی اتحاد، یک جہتی، اتفاق اور یگانگت کا جذبہ بیدار کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کواپنے پارٹی مفادات بالائے طاق رکھ کر قومی اتحاد کے لئے کام کرنا ہوگا اور قوم میں وہی جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ جو 23مارچ1940کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے کے بعد پیدا ہوا تھا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى