چترال لوئرمضامین

صدابصحرا ….بخاراسے گوادرتک 

گوادر پاکستان کے جنو ب میں بحیرہ عرب کی گہری بندر گاہ ہے۔ جبکہ بخارا روس ترکستان کا قدیم تاریخی شہر ہے۔ جدید دور کے جغرافیائی اصطلاح کے مطابق یہ شہر وسطی ایشیاء میں واقع ہے جہاں سابق سویت یونین سے آزادی حاصل کرنیوالی پانچ ریاستوں کے ساتھ چینی ترکستان اور جدید چین کی مشہور ریاست سنکیانگ بھی واقع ہے۔ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ جغرافیائی اعتبار سے وسطی ایشیاء اور پاکستان کے درمیاں افغانستان کا صوبہ بلوچستان واقع ہے اور افغان حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی گاڑی بخارا سے پاکستان نہیں آسکتی کوئی قافلہ ، کوئی کاروان سمرقند اور تاشقند سے گوادر نہیں آسکتا۔لیکن حال ہی میں کرغیزیہ کے راستے بخار ا کو پاکستان اور گوادر سے ملا کر عوامی جمہوریہ چین نے کمال کردکھایا ہے اگر نقشے پر دیکھا جائے تو وسطی ایشیاء ایک وسیع علاقہ ہے۔ مشرق میں کاشغر ،ختن اور یارکند کے مشہور شہر واقع ہیں۔ شمال میں جدید کزا خستان کی وسیع و عریض مملکت ہے جہاں دنیا کی سب سے زیادہ جوہر ہتھیاروں کو محفوظ کیا گیا ہے۔ قازقستان سے کرغیزیہ اور سنکیانگ کی سرحدیں ملتی ہیں ۔ سنکیانگ سے جو تجارتی شہراہ وسطی ایشیاء کو نکلتی ہے وہ کرغیزیہ سے ہوکر آگے کزاخستان کو جاتی ہے ۔ شہراہ کا ایک حصہ تاجکستان اور ازبکستان سے ہوکر ترکمانستان تک گیا ہوا ہے۔ صحرا تکلہ مکان اور بحیرہ آرال کو یہ شہراہ ملاتی ہے۔ افغانستان ،ایران اور پاکستان کے ساتھ اس شہراہ کو واخان کی پٹی کے راستے ملانے کے لئے افغانستان حکام کے ساتھ چینی حکومت کی بات چیت جاری ہے۔ مگر انگریزی محاورے کی رو سے چین اپنے تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہیں ڈالتا ۔ چین نے کرغیزیہ کے راستے بخارا سے گوادر تک نئی شہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا ہے۔ مارچ 2016ء میں ہمارے دوست عمر رفیق اپنے پڑداد ا کے گاؤں تاشقرغن سنکیانگ گئے تو انھوں نے ارومچی، کاشغر اور تاشقر غن کی ثقافتی تصویر کو سوشل میڈیا میں لاتے ہوئے تاشقرغن اور سریقول کے پہاڑی دروں سے گذرنے والی کرغیزیہ شہراہ کی چار تصویریں بھی ان میں شامل کر کے ساتھ ایک عبارت لکھ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ عنقریب اس شہراہ کو خنجراب کے راستے گلگت بلتستان سے ملایا جائے گا۔ دو سال پہلے یہ بات خواب کی طرح لگتی تھی ۔ 2018ء میں یہ خواب حقیقت بن گئی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کا محتاج نہیں ہوتا۔ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کے ہاتھوں مجبور نہیں ہوتا بشرطیکہ قیادت مخلص ہو، قابل ہو، دیانت دار ہو، صداقت شعار ہو۔ افغانستان نے پاکستان کو چھوڑ کر بھارت اور ایران کی مد د سے چابہار کی بندر گاہ تک رسائی حاصل کرلی اور اپنا مسئلہ حل کردیا۔ اب اگر پاکستان کے راستے تجارتی مال کی ترسیل کرے گا تو میزبانی اور کرم نوازی ہوگی ورنہ وہ پاکستان کا محتاج نہیں رہا۔ اسی طرح پاکستان نے چین اور روس کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات کو ایسی سطح پر پہنچایا ہے کہ امریکہ ، عالمی بینک اور آئی ایم ایف کا محتاج نہیں رہا ۔ اگر امریکہ کے ساتھ تعلقات ختم ہوگئے تو پاکستان کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے باوجود پاکستان اگر امریکہ کے ساتھ دوستی کا رشتہ برقرار رکھتا ہے تو یہ پاکستان کی مہربانی ہے مجبوری اورمحتاجی نہیں۔ یہی صورتِ حال چین اور افغانستا ن کی ہے بخارا سے گوادر تک شاہراہ تعمیر ہونے کے بعد وسطی ایشیاء کا مال چین کے راستے چینی سامانِ تجارت کے ساتھ گوادر تک جائے گا۔ چین کو یا ازبکستان کو تجارتی شہراہ کی اجازت دینے کے لئے افغانستان کی حمایت ، مدد اور سفارتی کمک کی کوئی ضرورت نہیں رہی ۔ افغانستان اگر راستہ دیتاہے تو یہ شہراہ اس کے مفاد میں بہتر ہوگا۔ بفرضِ محال اجازت نہیں دیتا تو چین یا وسطی ا یشائی ریاستوں کو بالکل فرق نہیں پڑے گا۔ بخارا سے گوادر تک تجارتی شہراہ کا کھلنا پاکستان کے لئے فال ہے۔ تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنی تاریخ کے ساتھ ہمارا رشتہ مضبوط ہوا ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى