چترال لوئرمضامین

اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔۔۔۔

……….تحریر:ولی اللہ چترالی………
تلخ یا پھیکی حقیقت بہر حال یہ ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں سب سے ترقی یافتہ صوبہ پنجاب اور چاروں صوبوں کے بڑے شہروں میں سب سے ترقی یافتہ شہر لاہور ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ لہور تو لہور ہے۔
اسی نقطہ نظر سے دیکھتے جائیے، چاروں وزرائےاعلی میں پرفارمنس کے حوالے سےسب سے بہتر شہبازشریف اوراب تک کے وزرائےاعظم میں قدرے بہتر بلکہ بہت بہتر میاں نواز شریف اورنسبتا ایسی تمام خوبیوں کی مالک جماعت مسلم لیگ نون ہے۔ میرا کبھی مسلم لیگ سے تعلق نہیں رہا ہے، یہ جو کچھ کہا ہےعام مشاہدے سے تعلق رکھتا ہے اور ہر آدمی ملک میں بننےوالی تمام صوبائی اور وفاقی حکومتوں اور ان کی قیادتوں کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لےکراس نتیجے تک پہنچ سکتا ہےجس کا میں نے اظہار کیا ہے۔اس کےباوجود یہ بات ایک عام غیرجانبدارشخص کی سمجھ میں نہیں آتی کہ کبھی نیب کا نوٹس، کبھی سپریم کورٹ سے نا اہلی اور ایک بار پھر نا اہلی کا نشانہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور اس کی قیادت ہی کیوں بن رہی ہیں؟؟ ایک عام شہری جو سوائے اپنی اور ملک کی بہتری کے کوئی نظریہ نہیں رکھتا، کے لئے شرطیہ طور پر یہ “اک معما ہے، سمجھنے کا، نہ سمجھانے کا” بنا ہوا ہے۔۔۔
جس شہر میں میں رہتا اور جہاں میں پلا بڑھا ہوں، اسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ سنا ہے ماضی میں اس شہر بے پناہ کا شہرہ اس قدر دنیا میں پھیلا ہوا تھا کہ دنیا بھر کے سفیر، اپنی ریٹائرمنٹ کی زندگی اس شہر کی پر سکون آغوش میں گزارنے کو ترجیح دیتے تھے۔ سوچتا ہوں وہ کتنے خوش نصیب لوگ ہوں گے جنہوں نے ہمارے کراچی کا یہ زرین دور بھی دیکھ رکھا ہے۔ ہائے کیا دور رہا ہوگا۔ اس دن ہمارے “آبائی وطن” چترال سے تبلیغی جماعت آئی تھی۔ ان میں کچھ بزرگ اس اجڑے ہوئے عروس البلاد میں سالوں رہ چکے ہیں، شہر کی موجودہ حالت دیکھ کر بڑے دکھ درد کے ساتھ بتا رہے تھے اس شہر کا حال کس قدر خراب ہوگیا ہے۔ کچھ دن پہلے ایک شادی ہال میں بیٹھا ہوا تھا، ساتھ میں دو عمر رسیدہ کراچی وال افراد آپس میں محو گفتگو تھے۔ ان کی گفتگو کچھ یوں تھی کہ پہلے زمانے میں لوگ کراچی دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے، اب لاہور دیکھ کر کراچی کی یاد آتی ہے۔
اس شہر خراب میں سرکاری ادارے جو بد قسمتی سے پرائیویٹائزیشن  کے عمل سے بچ گئے، خود کسی بھوت خانے کا منظر پیش کرتے ہیں، شہر اور شہریوں کے مسائل کیا خاک حل کریں گے۔ سیدھی منہ کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ کراچی پولیس کا کام صرف بائیک ٹیکسی اور رکشاوں میں سفر کرنے والوں کا لوٹنا رہ گیا ہے۔ کچھ سال پہلے ننگے پاوں میدان سیاست میں آنے والے لوگ صوبائی اسمبلی تک پہنچنے سے پہلے ہی لینڈ لارڈ بن گئے لیکن نہ کوئی نیب کا نوٹس اور ہی عدالت کی برہمی نے ان کی طرف کبھی کوئی توجہ دی۔۔۔۔ جو کچھ کراچی میں احتساب کے نام پہ تھوڑا بہت ہو رہا ہے وہ بھی صرف بیلنس کرنے کے واسطے۔ کل تک رینجرز جن کو تلاش کرتی پھر رہی تھی آج ان کی سیکورٹی پر مامور ہے۔ کرپشن جن لوگوں کی شناختی علامت بن چکی تھی، وہ بھی اسی شہر اور صوبے میں پچھلے دس سال سے بلا شرکت غیرے اقتدار پر قابض ہیں لیکن ہماری عدلیہ کی ساری کوشش اب کرپشن کی علامت خادم اعلی اور ان کے بھائی اور فیملی کو الاٹ کرنے کے لئے جاری ہے۔
 اس مشکوک منظر نامے میں ہمارے بعض بھائی سمجھتے ہیں کہ احتساب شروع ہوگیا ہے، بس کچھ دیر کی بات ہے سارے چور اچکے جیلوں میں ہوں گے۔ میرے خیال میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ صرف ایک ہی شخص سے انتقام لینے کے لئے یہ سارا ڈراما رچایا جا رہا ہے۔ اگر واقعی احتساب ہوتا تو زرداری صاحب ایک ایک کرکے تمام کرپشن کیسز سے “با عزت” بری کردیئے جاتے؟؟
کسی نے ٹھیک کہا ہے اس ملک میں کام کرنے والوں سے تو سب ادارے پوچھتے ہیں لیکن جو لوگ ایک الیکشن کے بعد سو کر دوسرے الیکشن میں بھٹو کو پھر زندہ کرکے میدان میں آتے ہیں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ اس شہر کی داستان غم ہے جس میں میں خود رہ رہا ہوں۔ باقی صوبوں کا حال بھی پنجاب کو چھوڑ کر سندھ اور کراچی سے کچھ مختلف نہیں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى