چترال لوئرمضامین

عوامی منصوبوں کا مستقبل

…………محمد شریف شکیب………
خیبر پختونخوا حکومت نے ساٹھ سال یا زائد عمر کے شہریوں کو محکمہ سماجی بہبود کے ساتھ اپنی رجسٹریشن کرانے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ سینئر سٹیزن ایکٹ مجریہ 2014کے تحت حاصل مراعات سے مستفید ہوسکیں۔رجسٹریشن کرنے والے بزرگ شہریوں کو صحت کارڈز جاری کئے جائیں گے ۔اسپتالوں میں ان کے لئے الگ کاونٹراور وارڈ قائم کیا جائے گا۔ بیماری کی تشخیص، میڈیکل ٹیسٹوں ، آپریشنز اور ادویات کی خریداری میں بھی ان کے ساتھ خصوصی رعایت کی جائے گی۔ایکٹ کے تحت بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے چودہ رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔وزیرسماجی بہبود کی سربراہی میں اس کمیٹی میں مختلف محکموں کے انتظامی سیکرٹری، محکمہ سماجی بہبود کے افسران ، بزرگ شہریوں اور غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔بزرگ شہریوں کو قانون کے تحت بہت سی مراعات دی جائیں گی عجائب گھروں، لائبریریوں، پارکوں اور تفریحی مقامات پر ان کا داخلہ مفت ہوگا۔نادار بزرگ شہریوں کے لئے وظائف مقرر کئے جائیں گے۔بزرگ شہریوں کے لئے مختلف شہروں میں کلب قائم کئے جائیں گے جہاں اخبارات و رسائل اور بزرگ شہریوں کی تفریح کا دیگر سامان مہیا کیا جائے گا۔ پیرانہ سالی کی زندگی بہتر طریقے سے گذارنے کے لئے انہیں تربیت دی جائے گی۔انہیں بزرگ شہریوں سے روابط قائم کرنے کے لئے پلیٹ فارم بھی فراہم کیا جائیگا۔ادب و ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد اورمساجد کے آئمہ کرام کے لئے وظائف مقرر کرنے کے علاوہ دینی مدارس کو انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لئے مالی معاونت کی فراہمی اور بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات حکومت کے مستحسن فیصلے ہیں۔تاہم یہ سارے اچھے اقدامات اس وقت شروع کئے گئے جب حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے میں صرف تین ماہ کا عرصہ رہ گیا۔وزراء نے الوداعی ملاقاتیں شروع کردی ہیں اور نگران حکومت کے قیام کے لئے صلاح مشورے جاری ہیں۔ عوامی فلاح و بہبود کے یہ منصوبے دو تین سال پہلے شروع کئے جاتے تو اب تک یہ اداروں کی بنیادیں مستحکم ہوچکی ہوتیں۔تاہم دیر آید ، درست آید کے مصداق عام شہریوں کی فلاح کے لئے شروع کئے گئے اقدامات قابل تقلید ہیں۔ ان اقدامات سے فلاحی معاشرے کے قیام میں مدد ملے گی۔اور قومی وسائل سے معاشرے کے پسماندہ طبقے بھی مستفید ہوسکیں گے جو اب تک حکمرانوں اور افسر شاہی کے لئے ہی مختص تھے۔خدشہ ہے کہ عوامی فلاح کے ان منصوبوں سے جن حلقوں کو ذاتی فوائد نہیں مل رہے۔ وہ انہیں التواء میں ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ کیونکہ اب تک یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ صوبائی حکومت اگر اپنے عوامی منصوبوں سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تو اسے افسر شاہی پر تکیہ کرنے کے بجائے ان منصوبوں کی نگرانی کا کام خود سنبھالنا ہوگا۔ تاکہ عوام تک بروقت ان کے ثمرات پہنچ سکیں۔اپنی حکومت کے آخری دنوں میں حکومت نے بہت سی ایسی سکیمیں شروع کی ہیں جن کے نتائج عام انتخابات سے قبل دکھائی دینے کے بہت کم ہی امکانات ہیں۔حکومت لامحالہ ان کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرے گا۔ لیکن رائے دہندگان صرف ان منصوبوں کو کریڈٹ میں شمار کرتے ہیں جن کی نشانیاں زمین پر نظر آجائیں۔ارباب اختیار اگر چاہتے ہیں کہ سیاسی تبدیلی کے باوجود ان کے فلاحی منصوبے جاری رہیں تو اس کے لئے جامع قانون سازی ناگزیر ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ حکومت اپنے سیاسی مفاد کی خاطر کروڑوں کی لاگت کے منصوبے شروع کرتی ہے۔ حکومت بدلنے کی وجہ سے یہ ادھورے منصوبے ترک کئے جاتے ہیں اور قوم کے کروڑوں کے وسائل ضائع ہوجاتے ہیں۔ گذشتہ تیس چالیس سال کے دوران صوبے کے طول و عرض میں ایسے ادھورے منصوبوں کی تعداد سینکڑوں میں نہیں۔ بلکہ ہزاروں میں ہے۔ کہیں سکول کا ڈھانچہ بنا ہے۔ کہیں ڈسپنسری، بی ایچ یو یا آر ایچ سی پر آدھاکام ہوا ہے اور فنڈز کی بندش کے باعث بقیہ کام ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ ترقیاتی منصوبے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے شروع کئے جاتے ہیں۔ اور ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوامی بہبود ہے تو قومی وسائل سے شروع کئے گئے منصوبے سیاسی عناد کی بھینٹ کیوں چڑھ جاتے ہیں۔ ان کا بھی حساب کتاب ہونا چاہئے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى