چترال لوئرمضامین

دادبیداد ……جادوگر کی ضرورت ہے

گذشتہ چھ مہینوں سے یہ شک تھا کہ مارچ 2018میں سینیٹ کے الیکشن ہونگے یا نہیں ؟ الیکشن ہونے کے بعد ایوانِ بالا کے 52 ارکان کا انتخابات ہوا ہے اور 104ارکان پر مشتمل ایوان مکمل ہوگیا ہے اب ’’ سلسلہ گالیہ لعنتیہ ‘‘ نے نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ ایوان بالا کوئی ایوان نہیں اس میں اچھے لوگ نہیں ہیں ان کو ووٹ دینے والے اچھے لوگ نہیں ہیں ان کو ووٹ دینے والے اچھے لوگ نہیں ہیں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دو ارکان بیماری کے باوجود ووٹ دینے کے لئے آگئے پی پی پی کی خاتون رکن کا جوان سال بیٹا سڑک حادثے میں مرگیا اس کی تدفین سے پہلے غمزدہ ماں ووٹ ڈالنے کے لئے آگئی راولپنڈی اور اسلام آباد کے دو نامور سیاستدان احتجاجاََ ووٹ ڈالنے نہیں آئے کہ یہ ووٹ اُن کی شان کے مناسب اور لائق نہیں تھا الیکٹرانک میڈیا کے چار بڑے چینلوں نے سینیٹ انتخابات کے روز اور اس کے بعد سینیٹ اور پارلیمنٹ کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی درجن بھر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کی ٹیم گلا پھاڑ پھاڑ کر ممبران اسمبلی کو گنوار ، جاہل ، کمینہ ، جانور جیسے خطابات سے بار بار نواز رہی ہے ایک سفید ریش نمازی صحافی 3ٹیلی وژن چینلوں پر آتے ہیں اور آتے ہی کہتے ہیں کہ ارکانِ اسمبلی ’’ دو ٹکے ‘‘ کے لوگ ہیں یہ الفاظ میں اس لئے نقل کرتا ہوں کہ کفر یہ الفاظ کو نقل کرنا کفر کے زمرے میں نہیں آتا نقل کفر، کفر نہ باشداسمبلی کے اراکین اور ایوان بالا کے نو منتخب ممبروں پر لعن طعن کرنے والے اکثر بزرگوں کو میں1973ء سے جانتا ہوں ایوان بالا کے انتخابات کو کیا ہوگیا؟ اسمبلیوں کو کیا ہوگیا؟ اگر یہ سب لوگ آپ کے مقابلے میں بُرے ہیں تو اس نظام کا متبادل کیا ہے ؟ جس ایوان بالا میں میاں رضا ربانی ، شبلی فراز ، بیرسٹر اعتزاز احسن ، سراج الحق اور راجہ ظفر الحق جیسی معتبر شخصیات بیٹھے ہوں وہ نکمّا کیوں ہوگا؟ جس وقت تجزیہ کار ایوان بالا کو گالی دے رہے تھے اُس وقت اُسی ٹی وی کی سکرین پر ڈاکٹر مہر تاج روغانی ، چودھری محمد سرور، بیرسٹر فروغ نسیم اور میاں رضا ربانی کے منتخب ہونے کی خبریں آرہی تھیں ان خبروں اور تجزیوں کو سُن کر آدمی حیران ہوجاتا ہے کہ ہمارے دوست کیا چاہتے ہیں ؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ الیکشن کا یہ سارا سلسلہ ختم کرکے ان کی بادشاہت قائم کی جائے؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ اسمبلیوں کے اراکین اور ایوان بالا کے ممبروں کی جگہ فرشتے بٹھا دیے جائیں ؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق والی مجلس شوریٰ قائم کی جائے ؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں شام اور یمن کی طرح انارکی اور فسادات ہوں ، خانہ جنگی ہو؟ یہ سوالات میں نے اپنے دوست پروفیسر سید شمس النظر فاطمی کے سامنے رکھے تو انہوں نے بڑے پتے کی ایک بات بتائی انہوں نے کہا کہ ایک اشتہار شائع کیا جائے اشتہار کا مضمون یہ ہو کہ ایک جادوگر کی ضرورت ہے جادوگر پھول کو خالی صندوق میں رکھے ، پھر صندوق کو لوگوں کے سامنے کھولے تو پھول کی جگہ چڑیا پر آمد ہو اس جادوگر کو چیف الیکشن کمشنر بنا یا جائے ۔گنوار ، جاہل اور دوٹکے کے اراکین اسمبلی اگر اپنی نا سمجھی اور نالائقی کی وجہ سے چوہدری سرور، فروغ نسیم ، رضا ربانی اور مہر تاج روغانی کو ووٹ دیدیں تو جادوگر صندوق سے پھنے خان ، تیس مار خان ، پشم خان اور گل بکاولی کے نام باہر نکالے یہ کام جادوگر کے سوا کوئی نہیں کرسکتا حالیہ برسوں میں امریکی انتخابات میں جارج ڈبلیوں بُش اور ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب پر سوالات اُٹھائے گئے ، الزامات بھی لگائے گئے مگر مہذب زبان میں قانونی الفاظ میں اعتراضات کو پیش کیا گیا ، پھر خاموشی اختیار کی گئی کیونکہ جمہوری نظام کا معاملہ ہے ملک کی عزت اور وقار کا معاملہ ہے جو لوگ پاکستان کے ٹیلی وژن چینلوں پر آکر پارلیمنٹ کو گالی دیتے ہیں ان کو بہت شہرت ملتی ہے بھارت کے 12ٹیلی وژن چینلز ایک ہفتے تک ان کی تقریروں کے کلپ کھاتے ہیں ان کی شہرت پاکستانی سرحدوں سے باہر چلی جاتی ہے مگر ملک اور قوم کی توہین ہوتی ہے ملک کے جمہوری نظام کی توہین ہوتی ہے ایوان بالا کے نو منتخب ارکان کی حلف برداری پر ایک بار پھر یہ لوگ گلا پھاڑ پھاڑ کر پارلیمنٹ کے خلاف بولیں گے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات پر ایک بار پھر یہ لوگ ہمارے منتخب نمائندوں کو گالیاں دیں گے تین ماہ بعد عام انتخابات ہونگے ، قومی اسمبلی کے ساتھ ، صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا مرحلہ آئے گا تو پھر گالی گلوچ کے یہ پروگرام چلائے جائیں گے یہ مٹھی بھر عناصر جن لوگوں کو منتخب کرانا چاہتے ہیں۔ 13کروڑ ووٹر ان کو ووٹ نہیں دیتے اگر پاکستان کے 13کروڑ ووٹروں کے مقابلے میں 12تجزیہ کاروں کی اہمیت زیادہ ہے تو پھر ہمیں ایک بادشاہ کی ضرورت ہے جو 13کروڑ ووٹروں کو خاطر میں نہ لائے، 12تجزیہ نگاروں کو لیکر حکومت کرے یا ایک ماہر جادوگر کی خدمات حاصل کی جاہیں جو خالی صندوق میں پھول رکھ کر اس کو چڑیا بنائے اکیسویں صدی میں سعودی عرب جیسی بادشاہت بھی جمہوری نظام کی طرف آرہی ہے پاکستان میں جمہوریت کی جگہ بادشاہت لانے کی گنجائش نہیں نکلتی یہاں جنرل ضیاء الحق کو بھی انتخابات کرانے پڑتے ہیں جنرل مشرف کو بھی انتخابات کرانے پڑتے ہیں ’’ سلسلہ گالیہ لعنتیہ ‘‘ کو صبر کا دامن تھام لینا چاہیئے علامہ اقبال نے ایک غزل کے مطلع میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ؂
نالہ ہے بلبلِ شوریدہ تیرا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام اب

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى