چترال لوئر

دارالحکومت پشاور سمیت خیبر پختو نخوا کے 17ہائی رسک اضلاع میں 12مارچ سے انسداد پولیو کا آغاز کیا جا رہا ہے

پشاور( چترال ایکسپریس)دارالحکومت پشاور سمیت خیبر پختو نخوا کے 17ہائی رسک اضلاع میں 12مارچ سے انسداد پولیو کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے مقامی آبادی اور افغان مہاجر کیمپوں میں پانچ سال سے کم عمر کے 44لاکھ 37ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا ئیں گے اس بات کا فیصلہ ایمر جنسی آپر یشن سنٹر خیبر پختو نخوا میں کو آ رڈینیٹرای او سی عاطف رحمان کی زیر صدارت منعقدہ اعلی سطحی اجلاس میں کیاگیا اجلاس میں یو نیسیف کے ٹیم لیڈ ڈاکڑ جاہر خان ، ڈبلیو ایچ او کے ڈاکڑعبدی ناصر ، بی ایم جی ایف کے ڈاکڑ امتیاز علی شاہ، ڈاکڑ اعجاز علی شاہ اور معاون اداروں کے دیگر اعلی حکام نے بھی شر کت کی ای او سی کو آرڈینیڑ عاطف رحمان نے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمہ کی موثر کاوشوں سے نمایاں کا میابی حاصل ہوئی ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگا یا جا سکتا ہے کہ سال 2014کے دوران خیبر پختو نخوا میں پولیو کے 68کیس اور 2016میں 8کیس سامنے آئے جبکہ گذ شتہ سال پولیو کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا، انہوں نے کہا کہ ہم پولیو کو شکست دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں عاطف رحمان نے کہا کہ 12مارچ سے پشاور،چارسدہ،ا نوشہرہ، مردان، صوابی، ملاکنڈ ، سوات، لوئر دیر، اپر دیر، چترال، کوہاٹ، ہنگو،کرک، لکی مروت،بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شروع ہونے والی یہ تین روزہ انسداد پولیو مہم خصوصی اہمیت کی حامل ہے جوانتہائی موثر انداز میں چلائی جائے اور اس مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور ہر گھر میں پا نچ سال سے کم عمر کے ہر بچے تک پہنچ کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں اجلاس کو بتا یا گیا کہ مہم کے دوران ان ہائی رسک اضلاع میں مجموعی طور پر 44لاکھ37ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے لئے تربیت یا فتہ پولیو ورکزر کی 16ہزار سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں 13953موبائل ، 1079فکسڈ،735ٹرانزٹ اور235رومنگ ٹیمیں شامل ہیں جبکہ مہم کے دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کو بھی حتمی شکل دی گئی ہے جس کے لئے 26ہزار سے زائد پولیس اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى