چترال لوئرمضامین

موبائل فون رحمت یا زحمت

………..واجد علی ………..
آج کل موبائل کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے اکثر یہ جملہ سنے کو ملتا ہے لیکن اج کل ٹیکنالوجی کا یہ آلہ ہر گھر اور ہر ایک کے ہاتھ میں موجود ہے اس کے بے غیر کوئی اچھا نہیں لگتا ہے
ویسے اس کی افادیت اپنی جگہ ہے ایس ایم ایس یاپھر ستے کال ہر کوئی آپکو مصروف نظر آتا ہے چاہے وہ گھر میں ہو دفتر میں یا ڈرئیونگ میں ہر ہاتھ میںیہ آلہ ہے آپ کے پاس کھانے پینے کے لئے پیسے نہ ہو لیکن بیلنس کے لئے پیسے ضرور ہوتے ہیں ویسے موبائل اس لئے ایجاد ہوا کہ لوگ سہولت سے فائد حاصل کریں نہ کہ اس ایجاد کو اپنے لئے زحمت بنائے موبائل ہمارے جوڑوں کے درد کی طرح انسان کے ساتھ چپک گئی ہے اس سے نجاد ممکن نہیں ہے ہم نے اسے رحمت کے بجائے زحمت بنادیے ہیں
اگر آج آب کسی سے موبائل فون کے کی پیڈ کے بارے میں پوچھیں گے ویسے نہیں پوچھناچاہئے کیونکہ موبائل ٹائیپنگ وہ تمام کام ہے جو اپ بناد یکھے آرام سے کر سکتے ہیں چاہے اپ لیکچر کے دوران بیک بینچ پر بیٹھ کر یہ کام کریں
سوچنے کی بات ہے کہ ہم نے ٹیکنالوجی کو اپنے لئے زحمت ہی کیوں بنالئے ہیں آخر ہم کب کسی چیز کو درست استعمال کرنا سیکھیں گے اس کے فائدے ایک طرف اگر ہم اس کے نقصانات کو دیکھیں تو یہ نوجوان نسل کو بگڑنے کا سبب بن رہا ہے موبائل ہی کی وجہ سے کئی خاندانوں اور رشتوں میں بربادی ہوئی اس تحفے کے غلط استعمال نے ایک منفی سوچ کی چھاپ پورے معاشرے میں چپکا دی ہے
پھر موبائل فون کو اپ رحمت کہیں یازحمت جو معاشرے کی اخلاقی قدروں کو تو خراب کر رہاہے لیکن اس کے ساتھ مثبت سوچوں اور مثبت کردار کو بھی معاشرے سے غائب کر رہا ہے

آخر ہم کب کسی چیز کو صحیح استعما ل کرنا سیکھیں گے زرا سوچئے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى