پاکستان تحریک انصاف نے چترال میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے۔ ایم پی اے بی بی فوزیہ 

دروش(جہانزیب سے ) ایم پی اے چترال و پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت بی بی فوزیہ نے دروش کے دور افتادہ علاقے گوس میں پرائمری سکول کا سنگِ بنیاد رکھنے کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ صوبائی حکومت چترال میں اربوں روپے کے مختلف ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جن میں مختلف سکولز ، یونیورسٹی ،ڈگری کالجز ، ہسپتالوں کی اپگریڈیشن، تحصیل دروش اور تحصیل موڑکہو کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ ضلع اپر چترال کا نوٹیفیکشن بھی تیار ہے جیسے ہی الیکشن کمیشن پابندی ہٹا دے گا ضلع کا نوٹیفیکشن بھی جاری ہوگا۔
اس موقع پر مقررین نے اپنے خطاب میں ایم پی اے بی بی فوزیہ کے چترال کے حوالے سے ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی دُختر چترال نے چترال کے لئے جو خدمات سرانجام دی وہ پچھلے ستر سالوں سے کسی نے نہیں کی۔ تحصیل دروش کے صدر سمیع اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں بی بی فوزیہ پر بھر پور اعتماد ہے کیونکہ ترقیاتی کاموں کا جال بچھانے کی وجہ سے بی بی فوزیہ پی ٹی آئی چترال کی پہچان بن چکی ہے۔ تقریب سے امین الرحمن، نثار احمد ،فاروق علی شاہ ،عبد العزیز ، دبنگ پی ٹی ائی کوہ ، حاجی گل نواز وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر ایک پروقار شمولیتی پروگرام کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں مختلف پارٹیوں کے پچاس کے قریب گھرانوں نے بی بی فوزیہ پر اعتماد کر تے ہوئے پی ٹی آئی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ علاقے کے عمائدین نے بی بی فوزیہ کو سپاس نامہ بھی پیش کیا جس میں علاقے کاواحد روڈ جو کہ انتہائی خطرناک ہے اور ساتھ ساتھ علاقے میں پانی کی شدید قلت ہے اور پلے گراونڈ کا بھی مطالبہ بھی کیا ۔جس پرایم پی اے بی بی فوزیہ نے کہا کہ وہ بھر پور کوشش کر کے ان مسائل کو ذاتی دلچسپی لے کر حل کرنے کی کوشش کریں گی۔
واضح رہے کہ علاقہ گوس دروش کے مشرق میں واقع ہے اور انتہائی وشوار گزار اور پہاڑی علاقہ ہے اور علاقے کے بچے اور بچیاں حصول علم کیلئے دور دراز کا پیدل سفر کر کے علم حاصل کرتے تھے ۔اب تعلیمی ایمرجنسی کے طور پر بی بی فوزیہ نے اس علاقے میں پرائمری سکول قائم کر کے ایک وعدہ نبھایا جس کی کل لاگت 3کروڑ 75 لاکھ روپے ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔