چترال لوئرمضامین

مشق ستم معصوم بچے

…………….محمد شریف شکیب………..
ایک غیر سرکاری تنظیم کی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ دس کم عمر بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 60فیصد واقعات میں خاندان کے افراد اور قریبی رشتہ دار ہی ملوث ہوتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں سے شائع ہونے والے اکیانوے اخبارات کی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2017کے دوران ایک ہزار چالیس کم عمربچوں کو جنسی زیادتی یا تاوان کی خاطر اغوا کیا گیا۔ پانچ سے پندرہ سال تک کی عمرکی 467لڑکیوں اور366لڑکوں کو شیطانی ہوس کا نشانہ بنایاگیا۔ لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے 158جبکہ لڑکوں کے 180واقعات رونما ہوئے۔درجنوں بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ روزانہ دس بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے حساب سے اگر سال کے اعدادوشمار نکالے جائیں تویہ تین ہزار 650بنتے ہیں۔یہ وہ واقعات ہیں جو تھانوں میں رپورٹ ہوئے اور اخبارات میں ان کے حوالے سے خبریں اور رپورٹیں چھپی ہیں۔ بہت سے بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد پکڑے جانے کے خوف سے ماردیا جاتا ہے اور پھر ان کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ اور سینکڑوں کیسز ایسے بھی ہیں جن کی بدنامی کے خوف سے پولیس اور میڈیا میں رپورٹ نہیں دی جاتی۔اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے یہ واقعات نہ صرف تشویش ناک بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ ان میں سے ہر ایک واقعے کا الگ اور دردناک پس منظر ہوتا ہے۔ تاہم ان شرمناک واقعات کی بنیادی وجوہات میں حقیقی اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت، خاندانی کلچر سے دوری، سماجی اقدار سے انحراف اور جنسی بے راہروی شامل ہیں۔ہمارے نصاب تعلیم میں ان سماجی برائیوں سے بچنے کا کوئی ذکر موجود ہے کہ ہی اساتذہ اب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تلقین کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ محراب و منبر کو بھی اپنے فرائض کی بجاآوری میں کوتاہی سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔کہنے کو تو ہم خود کو بڑے مذہبی قرار دیتے ہیں لیکن دین اسلام کی تعلیمات سے بے خبر ہیں۔ہم نے اپنی ساری توجہ فرقہ واریت، نسلی، لسانی، علاقائی اور مسلکی تعصب پھیلانے پر مرکوز کردی ہے اور اسی کو اپنا دینی فریضہ سمجھ بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے امت مسلمہ ٹکڑیوں میں بٹتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قندوز میں ننھے حفاظ قرآن کو بمباری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ شام کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جارہا ہے۔ کشمیر میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ فلسطین میں مسلمانوں پر قیامت صغریٰ برپا ہے۔ اور کسی مسلمان ملک کی حکومت نے ان مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں کی۔ ہم عوامی سطح پر امریکہ مردہ باد، بھارت مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگا کر دل میں ایمان کی رمق باقی رہنے اور ضمیر نیم خوابیدہ ہونے کا ثبوت دینے کی کوشش کر تے ہیں۔میرے نبی ؐنے واضح طور پر بتایا کہ ’’ جو ہمارے بچوں پر رحم نہ کرے اور جو ہمارے بڑوں کے حقوق نہ پہچانے۔ وہ ہم میں سے نہیں‘‘اس حدیث کی سکول اسمبلی، کلاس روم، مسجد، مدرسے، گھر کے اندر، عام مجلس اور لیکچروں میں تلقین اور تشریح ہونی چاہئے کہ جو شخص بچوں پر رحم اور بڑوں کا احترام نہیں کرتا۔ وہ کلمہ پڑھنے کے باوجود مسلمان نہیں ہوسکتا۔استاد، گھر کے سربراہ، مسجد کے مولوی اور گاوں کے مشر کی بات حرف آخر سمجھی جاتی ہے۔ اسلام کے اس بنیادی سبق کو اگر ہر اجتماع میں دھرایا جائے تو حقوق اطفال کے بارے میں آگاہی پیدا ہوسکتی ہے اور کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے شرمناک واقعات کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔حکومت اور عوامی نمائندوں کو بھی بچوں ، بوڑھوں ، خواتین، معذوروں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کی حفاظت اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے موثر قانون سازی کرنی چاہئے اور پھر قوانین پر سختی سے عمل کرانا چاہئے۔ پھول جیسے بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے اور پھر انہیں جان سے مارنے والوں کو اگر سربازار تختہ دار پر لٹکایا جائے تو کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ ایسے جرائم کا ارتکاب کرے۔چور کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں۔ زناکار کو سنگسار کیا جائے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ کے قانون کو رائج کیا جائے تو کسی کی مجال نہیں کہ دوسروں پر ظلم کرے اور سزا سے بچ جائے۔ بلاشبہ اسلام صرف تعزیری قوانین کا مجموعہ نہیں۔ مگر حقیقی اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے اسلام کے تعزیری قوانین کا نفاذ ناگزیر ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى