
لوگ لوگوں کوبات چیت کرتے بہت ہی باریک بینی سے دیکتھے ہیں۔کیوں کہ ہربات کے پیچھے کوئی خاص بات اوراُسی خاص بات کے پیچھے وہی آدمی استادہ نظر آتا / آتی ہے جس کی حرکات و سکنات کو آپ دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ برصغیر کے نامور مصلح قوم سرسید احمد خان کی سیرِ انگلستان اور اُس سے جڑی ہوئی بہ ظاہر چھوٹی اور بہ باطن بڑی باتیں بہت مشہور ہیں۔سرسید احمد خان ایک جگہے پر لکھتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے سید محمود سے ملنے انگلستان گئے ( سید محمود سر سید احمد خان کے سید حامد کے بعد دوسرا بیٹا تھا جو کہ انگلستان میں قانون کی اعلی ڈگری حاصل کر رہے ہیں) سید محمود ایک انگریز خاتون کے گھر میں ایک کمرہ کرائے پر لیکر رہتا تھا قیام و طعام سب کرائے میں شامل تھا یہ خاتوں اپنے گھر سے پکا کر سید محمود کی بھی خاطر مدارت کرتی تھی ۔ سر سید کہتے ہیں کہ وہاں کی تین باتیں مجھے بہت اچھی لگیں پہلی اچھی بات یہ کہ وہ خاتوں یعنی (مکان کی مالکہ )جب بھی کمرے میں آتیں تو اپنے آنے سے پہلے دروازے پر کئی مرتبہ ہلکی سی دستک دیا کرتیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ اُنہیں ایک پل کے لئے بھی باہر جانا اور واپس آنا ہوتا تو وہ ہرباریہی عمل دھراتیں۔ دوسری یہ کہ وہاں لوگ ناشتے سے پہلے اخبار ضرور پڑھتے ہیں بغیر اخبار کے ناشتہ کرنا اُتنا ہی معیوب امر گر دانا جاتا ہے جتنا ہمارے یہاں کوئی عورت نیم عریاں جسم کے ساتھ بازار میں وارد ہو جائے ۔ تیسری اہم بات یہ کہ وہاں کے لوگ اختلاف رائے کے دوران بھی اپنا لہجہ بہت دھیما رکھتے ہیں اور تمام تنازعے دھیمی گفت و شنید کے ساتھ باہمی افہام و تفہیم پر منتج ہوتے ہیں ۔
سر سید احمد خان کی آخری بات مجھے تب یاد آئی جب پچھلے دنوں ایک سیاسی جلسے میں ایک سیاسی شخصیت نے ایک عام شخص پر اپنی زبان کھول دی۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم اس مخصوص جملے پر بات کریں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انسان اور پھر اچھے مسلمان کی زندگی کا منشور کیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ لَّاّ فّرّقِّ بّيّنِّ عَّرًّبيٌّ وّلَّاّ اٍّعجّميّ اٍّلَّاٍّ بّْاّلتقوى۔ امت محمدی ﷺ کا منشور یہ ہے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فوقیت حاصل نہیں اوراگر کوئی فضیلت یا فر ق ہے تو وہ تقوی ٰ کی بنیاد پر ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ تقویٰ کیا ہے ؟ میری ناقص دانست میں تقویٰ سے مراد اُن تمام معاملات سے اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے جن سے ہمارے آقا ﷺ نے ہمیں منع فرمایا ہے اوراُن تمام طریقوں کو اپنانا ہے جو نبی پاک ﷺ کی تعلیمات کےعین مطابق ہیں ۔کیا دنیا کا کوئی شخص چاہے جس کا مذہت کچھ بھی ہو،چاہے منکر ہی کیوں نہ ہو،کہہ سکتا ہے کہ نبی پاک ﷺنے اپنی تمام زندگی کے اندر کسی کے لئے کوئی ترش لہجہ استعمال کیا ہے۔ یہ لہجہ ہی تھا اور یہ زبان ہی تھی جس کی بنیادپرآپ کو صادق اور امین کا لقب ملا ۔
بعض مرتبہ بہت اچھی شخصیات کو بات چیت کرتے ہوئے دیکھ کرافسوس ہوتا ہے ۔آج کل توانسانیت نام کی بھی نہیں رہی ہے۔ ہم یہاں عام گپ شب اور گفتگو کی بات نہیں کرتے ہیں بلکہ اُس گفگتو کی بات کرتے ہیں جس کے پیچھے کوئی مقصد یا غرض غائیت ہو۔اگر کسی کو آپ سے کوئی کام ہے اور اُس کام میں کوئی پچیدگی ہو اوراس پچیدگی کا سامنے والے کوخوب علم بھی ہو تب بھی صرف سلام ہی عام لہجے میں ہوتا ہے اس کے بعد آواز کی فریئکونسی میں فرق آنا شروع ہوتا ہے اور نوبت گالی گلوچ تک پہنچ جاتی ہے۔ آپ اگر خاموشی اختیار کر جاتے ہیں تو شاید ہاتھا پائی سے بچا جا سکتا ہے ورنہ آپ کا گریبان ان کے ہاتھ میں ہو سکتا ہے یہی نہیں بلکہ سامنے رکھے ہوئے کانچ کے پیالے یاموقعے پر ہاتھ آنے والا کوئی اور خطر ناک الہ بھی آپ کے سر پر گر سکتا ہے ۔ ایسی صورت حال میں خاموشی بہترہے۔ لیکن سب سے بہتر طریقہ ہی ہو سکتا ہے کہ ہرملنے والے کوادب اوراحترام سے ملا جائے اُ ن کی طرف توجہ دیکر اُن کے مسلے کو سنا جائے اور اگر گتھی آپ کے ہاتھ سے سلجھنے ولا نہ ہو تو دلائل کے ساتھ سیدھی بات کہہ کر رخصت کیا جائے ۔
پچھلے دنوں ایک سیاسی جلسے کی ویڈیو کسی نے فیس بک پردوستوں کیساتھ بانٹی ۔ ویڈیو میں ایک نوجواں لوگوں سے معقول انداز سے خطاب کر رہا ہوتا ہے ۔ نہیں معلوم اُنہوں نے اپنی گفتگو کےاندر کونسی ایسی بات کی کہ جلسے کے شرکأ میں سے کسی نے سوال جھونکتے ہوئے کہا ’ سر آپ اپنی کار گزاریوں کی بات کریں دوسروں کی نا کامیوں سے ہمارا ککوکوئی علاقہ نہیں ‘‘ ساتھ ہی کچھ گلو بٹ قبیل کے نوجوان کھڑے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کے اندر پہلے سے ہی ہوا بھری گئی ہے ۔ لیکن اس سے بھی حیرت کن بات یہ تھی کہ جلسے کے شرکا میں سے اسٹیج پر موجود ایک آدمی اپنی جگہے سے اُٹھتا ہےاوربپھراتے ہوئے سوال پوچھنے والے کی طرف لپکتا ہے لیکن اسٹیج پر موجود لوگ اُسے پکڑتے ہیں یوں وہ اپنے دل کی بھڑا ُس سوال پوچھنے والے کو یہ کہہ کر نکال لیتا ہے ’’ہیت، تو بو لو دوسان، حرام زادہ‘‘ یہ لفط ہر ایک کے لئے معنی خیز ہے لیکن میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ شاید وہ آدمی ایسے الفاظ بولنے کا عادی تھا ۔ کیوں کہ اگر وہ یہ جانتا کہ جو جملہ وہ بول رہا ہے وہ مخصوص جملہ اپنے دامن میں کونسا معنی لپیٹا ہوا ہے تو مجھے اُمید ہے کہ وہ ایسا لفظ ہر تو ہر گز نہ بولا ہوتا ۔ اُسے اگر یہ معلوم ہوتا کہ اُن کے پاس کسی کو حرام زادہ اور کسی کو ہلال زادہ گرداننے کا اختیار قطعی طورپر موجود نہیں ہے تو وہ انتہائی ہشیاری سے کام لیا ہوتا ۔ ایک اور غور طلب بات یہ ہے کہ لوگ کسی لفظ کے معنی کا ادراک کئے بغیر بولتے ہیں مثال کے طور پر آجکل کے نوجواں اورعام لوگ بھی اگر کسی کام کے ساتھ الجھ جائیں توانگریزی کا لفظ Oh, Shit بولتے ہیں اُنہیں شاید اس لفظ کا اصل معنی سمجھ میں نہیں آتا ہوگا ۔ آپ نے کبھی غور فرمایا ہے کہ اگر اس Shit لفظ ا کو ُس کی اصل معنی کے ساتھ اپنی زبان میں بولا جائے تو کیسا لگے گا ۔
اللہ تعالی نے ہمیں بہت ساری نعمتوں سے نواز رکھا ہے ہمارے بدن کا ہر پرزہ اپنے طور پر طاقت کی ایک اکائی ہے اوراُس طاقت کا مثبت استعمال اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کا گویا شکر بجا لانا ہے ۔ان سب میں زبان کی طاقت سب سے اعلی ہے اسی سے دوست دشمن بن جاتے ہیں اوراسی سے دشمن دوست بن جاتے ہیں ۔ نوجوانوں میں سے اگر کوئی میرا مضمون اس وقت پڑھ رہا ہو/ ہی ہو تو اپنی زبان کو کرہ ارض میں رہنے والی مخلوق کی بھلائی کے لئے استعمال کیا کریں ۔ کیوں کہ آپ ہی ہیں جو قوم کے معمار ہیں ۔ کم از کم کسی بھی کام میں پیچیدگی کا شکار ہونے کے بعد shit بولنا آج سے چھوڑ دیجئے ۔
نوٹ : اس مضموں میں میں نے کسی کا نام نہیں لیا ہے اور نہ کسی سیاسی پارٹی سے تعلق ہے تعلق اگر ہے تو انسانوں سے ہے
