مضامین

چھوٹی منہ بڑی بات۔۔۔مغرب کی غلامی سے نکلنے کا بہترین راستہ

تحریر : عنایت اللہ اسیر……..

03469103996…
aseerchitral@yahoo.com

اگر کوئی گنہگار مسجد بنانے کا ارادہ کرئے تو ہر مسلمان کا انکا ساتھ دینا لازمی ہوتا ھے لہذہ جب عمران خان صاحب تحریک انصاف کے نام سے سامنے اے تو جماعت اسلامی کے مرکز سے لیکر صوبے اور اضلاع تک بہت سے اراکین جو قاضی صاحب کے پالیسی سے نالان تھے کجھ نے تحریک اسلامی بنائی اور کجھ نے حقیقی جماعت اسلامی بنائی اور کجھ اراکین جماعت اسلامی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی جن میں سے محمود الرشید,ڈاکٹر فاروق شہید ,انجینیراویس غنی,موجودہ اسپیکر خیبر پختنونخوا اور دیگر ایک شامل ہیں . تبدیلی کا دعوی لیکر بڑی اُمید افزاء پیغامات لیکر میدان میں 22 سال اپنے ہی انداز میں سیاست کرتے ہوئے دو میچ ہارنے کے بعد فائنل جیت کر بہت بڑے چیلینچ کے ساتھ پورے ملک کے بیوروکریٹس,جنرلز,وی وی ۤائی پیزاور بہت منجھے ہوے سیاسی کھلاڑیوں اورعوام میں مقبول بہت بڑی سیاسی عوامی قوت اور اسمبیلیون میں معقول نمایندگی رکھنے والی پاکستان مسلم لیگ ( ن ) اور اس کے اتحادی سیاسی جماعتون کے ساتھ نازک ترین اکثریت کے ساتھ پی ٹی آئی کے نیے نا تجربہ کار جذباتی اکثر نوجوان جلد باز وزارہ اور ممبران کا مقابلہ ہے مگر چنکہ عمران خان مسجد بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں لہذا ہم سب کو ان کا ساتھ دیکر اس ملک کو کرپشن سے پاک وی وی آئی پی کلچر سے اذاد اور شاہانہ فضول خرچیوں اور بے جا پرٹو کول کے غلامانہ کلچر کو ختم کرنے کے لیے ان کا ساتھ دینا ہوگا ہمیں ہمارا دین بھی یہ ہی حکم دیتا ہے کہ نیکی اور خیر کے کام میں تعاون کرین.
اب تو امریکہ بہادر نے اپنی پاکستان مخالف پالیسی کا واضح اعلان کردیا ہے اور پاکستان کی فوجی امداد بند کرکے ہمیں اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے لہذہ ہماری بہادر فوج اور ہم سب پاکستانی ملکر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم نے سر اُٹھا کر جینے کا فیصلہ کردیا ہے اور ہم اپنے پر عزم وزیراعظم کا سر امریکہ کے سامنے جھکنے نہیں دینگے اور Friends as masters کے بجاے Friends with equal deeds کی تلاش کرینگے اور سر اٹھا کر جینے کا راستہ اختیار کرینگے اورافغانستان میں جو سہولیات ہماری طرف سے امریکہ کو حاصل ہیں ان کو ختم کرینگے اور پھر دیکھتے ہیں افغانستان میں کتنی دیر تک امریکہ رہ سکتا ہے
ہم علامہ اقبال کے اس شعر پر کھڑے ھوجاینگے
کہ(اے طایر لا ھوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے اتی ھو پرواز میں کوتاھی)
میرے ناقص زہین میں اس مسلے کا قابل عمل اور جلد حل موجود ھے سنٹرل ایشیاء کے تمام ممالک تک گوادر سے راستہ جو ان کی پرانی دلی ارزو خوھش اور تمنا اور انتہای ضرورت بھی ھے مجھے ان علاقون سے امید نظر ارھی ھے اورسی پیک کے طرز کا بہترین راستہ گوادر سے سنٹرل ایشیاء اس سے بہتر شرایط اور سہولیات کے ساتھ بناکر امریکہ کی غلامی سے مستقل ازادی حاصل کی جا سکتی ہے
میں اگرچہ 1996 میں تحریک انصاف کا چترال کا واحد صوبائی اسمبلی کا اُمید وار تھا اور تحریک انصاف کا بنیادی رکن تھا میں نے کسی سے کبھی اپنے ذات کے لیے فایدہ نہیں لیا نہ جماعت اسلامی سے نہ مسلم لیگ سے اور نہ تحریک انصاف سے اور 1998 سے میری جماعت اسلامی میں رکنیت کی بحالی کے بعد سے میں ایک کمزور گنہگار اور نالایق رکن جماعت اسلامی ہوں اور اپنی کمزوریون کا مجھے با خوبی علم ھے مگر پاکستان کو اسلام کا قلع اور مسلمانوں کی امیدون کا محور سمجھتے ہوئے اس کی بقاء کو اپنی بقاء سمجھتا ہوں
اور گوادر سنٹرل ایشیاء اکنامک کوری ڈور کے معاہدے کو اس وقت کی اشد ضرورت سمجھتا ہوئے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کرتا ہوں اور صرف چار ماہ کی مختصر مدت میں انشا اللہ 400 ارب ڈالر پاکستان کے خزانے میں جمع کرانے کا عزم صمیم لیکر RPEC کے سلسلے میں باعزت طریقے سے کام اگے بڑانا چاہتا ہوں
خودی نہ بیجھ غریبی میں نام پیدا کر

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔