
دادبیداد……بڑے گھر میں یو نیورسٹی
بڑی خبر یہ ہے کہ اسلام آباد کے بڑے گھر میں بڑی یو نیورسٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیاہے
وزیر تعلیم شفقت محمود نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوے خوشخبری سنائی ہے کہ ریڈ زون میں واقع وزیر اعظم ہاوس میں یو نیورسٹی قائم کی جائے گی اس کا فیصلہ بڑے اجلاس میں کیا گیا اجلاس کے صدارت وزیر اعظم عمران خان نے کی ملک کے نوجوانوں کے لئے اورشائقین علم کے لئے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے راولپنڈی اور اسلام آباد کے عوام کے لئے ملک بھرسے مختلف کاموں کے سلسلے میں اسلام آباد آنے جانے والے عوام کے لئے بھی یہ خبر کسی خوشخبری سے کم نہیں کیونکہ عوام کو ریڈ زون میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا تھا ٹیکسی اور بس کا داخلہ ممنوع تھا پرائیویٹ گاڑیوں کو صرف پاس جاری ہونے کے بعد اس علاقے میں جانے کی اجازت ملتی تھی یو نیورسٹی میں 8ہزار طلبہ اور طالبات آئینگی 2 ہزار ملازمین ہونگے کم و بیش 4 ہزار لوگ مختلف کاموں کے لیے یو نیورسٹی کا دورہ کرینگے اس طرح کم از کم (100 ) بسیں اور کم از کم ایک ہزار ٹیکسی گاڑیا ں شہراہ دستور پر ہر روز چلینگی عوام کے لیے اس سے بڑی خوشخبری اور کیا ہوگی! شاہراہ دستورکو سابقہ حکمرانوں نے ریڈ زون قرار دیا تھا کیونکہ اس شاہراہ پر پارلیمنٹ ہاوس ہے ایوان صدرہے وزیراعظم ہاوس اور وزیر اعظم سکر ٹر یٹ کی دو الگ الگ عمارتیں ہیں سپریم کورٹ کی پرشکوہ عمارت ہے ،نیشنل لائبریری ہے ایف بی آر کا ہیڈ کوارٹر ہے ذراع ابلاغ کی اہم تنصیبات ہیں
ماضی میں غیر قانونی طور پر اس علاقے میں داخل ہونے والوں پر مقدمات چلائے جاتے تھے وزیر اعظم عمران خان خود ایک ایسے ہی مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں وزیر اعظم ہاوس میںیو نیورسٹی بننے کے بعد ریڈ زون کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا ،شاہراہ دستور کی حیثیت راجہ بازار، مری روڈ اورکشمیر ہائی وے جیسی ہو جائے گی اس کے بغیر تعلیمی ادارہ چل نہیں سکتا بڑی خبر کی بڑی خوشخبری کا سلسلہ اسلام آبادتک محدودنہیں لاہور، کراچی،کوئٹہ اور پشاور کے گورنر ہاوسز بھی ختم کر دیئے گئے ہیں ان میں عجائب گھر ،پبلک پارک اور چلڈرن پارک قائم کیے جا رہے ہیں پشاور کے قدیم عجائب گھر کے تہہ خانوں سے 30 ہزار قیمتی نوادرات کو گورنر ہاوس کے دربار ہال میں منتقل کیا جائے گا اور عوام کو دعوت عام دی جائے گی صدر روڈ اور خیبر روڈ سے گورنرہاوس آنے والے تمام راستے کھول دیئے جائینگے کاریں،ویگنیں، اور بسیں اس روڈ پر چلیں گی ایک طرف سے آنے والی گاڑیاں چیف منسٹر سیکٹریٹ کے سامنے سواریوں کو اتارئینگی دوسری طرف سے آنے والی گاڑیاں قدیمی عجائب گھر کے سامنے سواریوں کو اتارئینگی ٹیکسی اوررکشہ پر آنے والے کسی رکاوٹ کے بغیر گورنر ہاوس کے اندر جائینگے گویا انگریزی اصطلاح کی رو سے ،،نو گو ایریا،، ختم ہو گا گورنر ہاوس کی حیثیت چوک یاد گار اور قصہ خوانی جیسی ہو جا ئیگی سردست ملک بھر میں 13 سرکاری عمارتوں کو تعلیمی اداروں اور پبلک پارکوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس سکیم سے حکومت کوایک ارب30 کروڑ کی سالانہ بچت ہوگی ملک کی آبادی میں ،یونیورسٹی،عجائب گھر اور پبلک پارک سے فائدہ اٹھانے والے 50 فیصد ہونگے تا ہم وزیر اعظم ہاوس اور گورنر ہاوس کو جانے والے راستے کھل جانے سے 100 فیصد عوام کو فائدہ ہوگا بسوں،ٹیکسیوں، رکشوں،ٹانگوں اورپرایؤیٹ کاروں میں سفر کرنے والے اس فیصلے سے مستفید ہونگے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوے وفاقی وزیر نے مژدہ سنایا ہے کہ یہ پہلا فیز ہے اگلے فیز میں مزید سرکاری عمارتوں کو بھی تعلیمی اداروں ،عجائب گھروں،ہوٹلوں اور پبلک پارکوں میں تبدیل کیا جاے گا کیا ہی اچھا ہو گا اگر اگلے فیز میں پشاور قلعہ بلاحصار میں میڈیکل کالج اور اٹک کے قدیم قلعے میں انجینئرنگ یونیورسٹی بنائی جائے۔
پشاور کے عوام اپنے رکشوں ،ٹانگوں اور ویگینوں میں بیٹھ کر بلا جھجک قلعہ بلا حصار میں داخل ہونگے اوراٹک کے عوام پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ قلعہ اٹک کی سیرکالطف اٹھا ینگے جن لوگوں نے کشمیرہائی وے اور بلیوایریا سے شاہرا ہ دستور کی طرف آتے ہوئے راستے میں جگہ جگہ ناکہ بندی کی وجہ سے بار بار گاڑیوں سے اُتار دیے گئے تھے وہ لوگ وزیر اعظم ہاوس پارلیمنٹ ہاوس ایوان صدر اور سپر یم کورٹ کی اور سپر یم کورٹ کی طرف جانے والے راستوں کو نئ یو نیورسٹی کی وجہ سے عوام کے لیے کھلتا ہو ا دیکھینگے توخو شی سے پھو لے نہیں سماینگے البتہ فیلڈمارشل ایوب خان کی روح تڑپ اٹھے گی جنہوں نے 1960ٖٖٖٖٖمیں اسلام آباد کا ماسٹر پلان بناتے وقت شاہراہ دستور، وزیر اعظم ہا و س، ا یون صدر ،سپر یم کورٹ اور پارلیمنٹ ہاوس کے لیے ریڈزون کا علاقہ تجویز کیا تھا اور سیکورٹی کے تقا ضوں کو مد نظر رکھ کر اہم والے راستوں کو نئ یو نیو رسٹی کی وجہ سے عوام کے لیے کھلتا ہوا دیکھنگے توخوشی سے پھولے نہیں سما ینگے آج ناکہ بندیوں کو ٹوٹتا ہوا دیکھ کر ہم لوگ موجودہ حکومت کو دعائیں دیتے ہیں۔
