تازہ ترینمضامین

خوفِ خدا اور فکرِ آخرت

          ……. بہرام علی شاہ……. کراچی…….

کہا جاتا ہے کہ “سونا اس سبب سے قیمتی واقع نہیں ہوا ہے کہ وہ زرد اور پگھلنے والا ہے بلکہ وہ اپنے اندر لطیف جوہر اور نفس لطیف کی وجہ سے قیمتی ہے.بلکل اسی طرح حیوان روح لطیف کی بدولت زندہ ہے.عقل شریف کی بدولت انسان اشرف ہے”. انسانی معاشرے کا اکثر طبقہ اپنے اندر خفیف جوہر اور قوتِ ارادی کی کمی کی وجہ سے خوفِ بے جا میں مبتلا نظر آتا ہے. ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں اللہ سے رابطہ استوار کرنے کے لیے جس خوف اور ڈر سے گزرنا پڑتا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟؟ یاد رہے کہ یہ خوفِ خدا نہیں جو جہنم کی آگ اور جنت کی لالچ دلا کر لوگوں کو ڈرایا جائے. سوشل میڈیا میں ایسے ویڈیوز اور تصاویر کی بھرمار کرنا کہ جس سے عوام کو جہنم کی آگ اور اللہ کی غضب سے ڈرایا جا رہا ہو. قرآن شریف کے آیات کے ساتھ آگ کے شعلوں اور تباہکاریوں کے ویڈیوز اپلوڈ کرکے اللہ تعالیٰ کو نعوذباللہ نہایت ہی غضبناک انداز میں پیش کیا جا رہا ہو.لوگوں کے اندر خوف کی کیفیت کو پیدا کرنا نہ صرف ذہنی بیماری کا نتیجہ ہو سکتا ہے بلکہ خوفِ بے جا کی علامت بھی یہی ہے. جنت کی لالچ اور دوزخ کے خوف سے اللہ کی طرف متوجہ ہونا خوفِ بے جا اور اللہ کی محبت اور عشق میں اسے یاد رکھنا خوفِ خدا کہلاتا ہے. مثال کے طور پر دو بچون کو ان کے والدین ہر صبح کتابوں اور لنچ بکس کے ساتھ اسکول بھیج دیتے ہیں, ساتھ ساتھ اسکول میں ان کی تعلیم و تربیت کے لیے اساتذہ بھی مقرر کۓ جاتے ہیں, اس امید اور خواہش کے ساتھ کہ ہمارا بچہ اچھی طرح سے پڑھ لکھ کر گھر کو لوٹے.ان دو بچوں میں سے ایک نہ اسکول کا کام ٹھیک طریقے سے کر لیتا ہے بلکہ کتابیں بھی نہیں سنبھال سکتا ہے. نتیجتاً وہ فیل ہو کر گھر لوٹتا ہے. ان کے دل میں یہ خوف ہو گا کہ وہ والدیں کو کیا منہ دیکھاۓ گا. یہ جو خوف شرمندگی کی صورت میں بچے کے اندر ہے اسے خوفِ بے جا کہتے ہیں. دوسرا بچہ اسکول میں نہ صرف دلجمعی کے ساتھ پڑھتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ کتابیں اور دیگر اشیاء کو بھی سنبھالتا ہے.نتیجتاً وہ اچھے نمبروں کے ساتھ پاس ہو جاتا ہے. اس کے دل میں سرپرائیز کی صورت میں ایک خوف ہے کہ وہ جب اچھے مارکس شیٹ کے ساتھ گھر پہنچے گا تو ان کے والدیں کتنے خوش ہونگے! اسی طرح روزمرہ کے معاملات اللہ کی محبت اور عشق میں ان کی رضا حاصل کرنے کے لیے انجام دینا خوفِ خدا کہلاتا ہے. کچھ بچے اپنے ماں باپ سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ وہ انہیں سزا دیں گے اور کچھ والدیں کے محبت اور شفقت کے بدلے میں ان کے بھروسے کو نہ توڑنے اور محبت میں کمی واقع نہ ہونے کا خوف اپنے دل میں رکھتے ہیں.ان دو صورتوں میں ہم  اندازہ کر سکیں گے کہ ہم خوفِ بے جا میں مبتلا ہیں یا خوفِ خدا سے سرشار ہیں.جو بچے اپنے والدیں کے بھروسے کو اپنا فخر سمجھتے ہیں وہ دنیا کے ہر مشکل کام کو عزم اور ولولے کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں. وہ اس بھروسے پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی اسے توڑنے کا سوچ سکتے ہیں. اس کے برعکس جو بچے والدین کے بھروسے پر سمجھوتہ کرتے ہیں ان کا ضمیر ہمیشہ انہیں ملامت کرتا رہے گا. وہ منتشر ذہن کے حامل ہوتے ہیں اس لیے کوئی بھی کام ولولے اور جانفشانی سے نہیں کر سکیں گے. وہ جتنے بھی مطمئن رہنے کی کوشش کریں لیکن ان کے دل میں یہ احساس کھٹکتا رہے گا کہ انہون نے اپنے آپ کو,اپنے والدیں کو,اپنے رب کو دھوکہ دیا ہے. لہذا دل کی یہ کھوٹ انہیں دلجمعی کے ساتھ کوئی کام کرنے نہیں دے گا. نتیجتاً قوتِ ارادی کی کمی سے وہ ناکام ذندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. بلکل اسی طرح انسان اور اللہ کے درمیان رشتہ ہے.اللہ بھی انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر پیدا کیا. نہ صرف پیدا کیا ہے بلکہ انسان کی حاجت روائی کے کیے ذرائع بھی پیدا کیا ہے. انسان کی جسمانی پرورش کے لیے عناصرِ اربع, سورج,چاند, ستارے, دن رات وغیرہ مقرر کیا ہے. اسی طرح روحانی اور عقلی پرورش کے لیے انبیاء و اولیاء دنیا میں بھیجا تاکہ انسان کی جسمانی پرورش کے ساتھ ساتھ روحانی و عقلانی پرورش ہو سکے. علوم کا منبع وہ روحِ کُلی ہے جسے ہم اللہ تعالیٰ کے مبارک نام سے پکارتے ہیں. لہذا اگر ہم انبیاء و اولیاء کے تعلیمات کی روشنی میں ذندگی گزارنے کی کوشش کرین گے, جس طرح ایک بچہ اسکول کے قائدے اور قانون کے مطابق محنت کرتا ہے, تو یقیناً نتیجے کے طور پر ہم کسی خوفِ بے جا میں ہرگز مبتلا نہیں ہونگے.
میرے دوسرے دوست کا کہنا ہے کہ اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک جبّار اور قہھار بھی ہیں. ہم کہتے ہیں کہ بے شک جبّار اور قہھار بھی اللہ ہی کے نام ہیں. لیکن یاد رہے کہ اللہ کی شفقت اور رحمت ان کے غضب پر سبقت لے جاتے ہیں. ان کی شفقت 70 ماؤں کی شفقت سے بھی ذیادہ ہے. جس طرح دنیاوی ماں باپ اور اساتذہ کے اصلاحی غضب کے پیچھے ان کی محبت اور شفقت چھپی ہوئی ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں قہھار  اور جبّار میں بھی بہت بڑی مصلحت اور حکمت ہے. جس طرح قرآن میں لفظ قیامت گنہگاروں کے لیے شرمندگی اور ندامت کا دن ہے اس لیے ان کے لیے لفظ قیامت خوفِ بے جا کی علامت ہے اور مومنیں کے لیے خوفِ خدا کی کیونکہ روز قیامت وہ اپنے رب کے دیدارِ اقدس کے شوق اور چاہت سے ہمیشہ مسرور رہتے ہیں.
اللہ تعالیٰ ہم سب کے دلوں کو خوفِ خدا کی نعمت سے نوازے. آمین.

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔