
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کاطورخم بارڈرکادورہ،بارڈرفینسنگ اوربارڈرپرمختلف اداروں کی سرگرمیوں کامعائنہ
پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے طور خم بارڈر کا دورہ کیا جہاں اُنہوں نے بارڈر فینسنگ اور بارڈر پر مختلف اداروں کی سرگرمیوں کا معائنہ کیا ۔صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر بھی اُن کے ہمراہ تھے ۔ یہ کسی بھی وزیراعلیٰ کی طرف سے ضلع خیبر کا پہلا دورہ ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر تجارتی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ طور خم ،غلام خان، چمن اور دیگر ملحقہ علاقوں پر مشتمل یہ خطہ سی پیک کے تناظر میں پاکستان کی معیشت کی شہ رگ بننے جار ہا ہے ۔یہ خطہ پہلے ٹریڈ کوریڈر تھا اب انرجی کوریڈور بننے جار ہا ہے ۔ مغربی روٹ اور دیگر سرگرمیوں کے نتیجے میں یہ خطہ نہ صرف وسطی ایشیاء بلکہ پوری دُنیا کی تجارت کا حب بن سکتا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ رشکئی اور حطار سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں 17 اکنامک زون کے قیام کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان ایکسپریس وے بنائی جائے گی ۔ گلگت سے چترال دیر تا چکدرہ روڈ سی پیک کے متبادل روٹ کے طور پر تجویز کیا گیا ہے ۔
صوبے کے وسائل سے سوات موٹروے تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے ۔اس مربوط روڈ کمیونیکشن کی وجہ سے خطے میں معیشت کو فروغ ملے گا۔ پاٹا ، فاٹا اور ہزارہ میں سیاحت ایک مربوط انداز میں صنعت کے طور پر سامنے آئے گی ۔قدرتی وسائل اور آبی وسائل کو صوبے کی ترقی کیلئے بروئے کار لانے کی پالیسی ہے۔ صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کریں گے جس سے معاشی سرگرمیوں کاجال بچھ جائے گا۔ اُنہوں نے کہاکہ عوام کو روزگار کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے ۔ بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہمیں چیلنجز بھی درپیش ہوں گے جن سے نمٹنے کی منصوبہ ہم پہلے سے کر چکے ہیں۔ مستقبل قریب میں درکار افرادی قوت کے سلسلے میں ٹیوٹا کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور ایئر فورس کی معاونت سے نوجوانوں کو فنی تربیت دی جارہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ بد قسمتی سے اس صوبے کے لئے کبھی کسی نے نہیں سوچا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پہلی بار مستقبل کو مدنظر رکھ کر پالیسی سازی کا کلچر متعار ف کرایا ہے ۔ صوبے میں پہلی بار انوسٹمنٹ پالیسی بنائی گئی ہے جس کے تحت سرمایہ کاری کو سہولت دی جائے گی ۔ صوبے میں سرمایہ کاروں کیلئے ون ونڈ و آپریشن میسر ہو گاجس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنس ٹیکنالوجی کو بھی شامل کیا جائے گا۔ چشمہ لفٹ ایرگیشن سکیم کی وجہ سے زرعی ترقی کا راستہ ہموار ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ملک میں روزگار کی فراہمی عمران خان کا وژن ہے ۔ صرف خیبرپختونخوا میں اتنی استعداد موجود ہے کہ ہر شعبے میں ایک پائیدار صنعت اُبھر کر سامنے آسکتی ہے جس سے روزگار کی فراہمی کا ہدف مکمل کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی ۔ اُن کی حکومت نوجوانوں کی فلاح پر خصوصی توجہ دے رہی ہے کاٹیج انڈسٹری کے فروغ کیلئے کام جاری ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کو روزگار کا ایک آسان اور سستا ذریعہ میسر ہو گااور وہ اپنے ساتھ دیگر نوجوانوں کو روزگار فراہم کرسکیں گے ۔ اس موقع پرسکیورٹی اہلکاروں نے وزیراعلیٰ کو بارڈر پر مختلف سرگرمیوں اور بارڈر فینسنگ کے حوالے سے بریفینگ دی ۔ وزیراعلیٰ نے موقع پر موجود لوگوں کی شکایات بھی سنیں اور اُن کے فوری ازالے کیلئے ہدایات جاری کیں۔ اُنہوں نے خصوصی طور پر ٹریفک کا مسئلہ ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی ۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری کے گھر گئے جہاں اُنہوں نے نورالحق قادری کے والد حضرت شیخ گل جی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے غمزدہ لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا او رمرحوم کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی ۔ صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے ۔
