تازہ ترین

اداروں میں شفافیت کا فروغ پاکستان تحریک انصاف کا منشور اور وژن ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) میں نئی بھرتیاں این ٹی ایس کے ذریعے کرنے کیلئے طریق کار وضع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اداروں میں شفافیت کا فروغ پاکستان تحریک انصاف کا منشور اور وژن ہے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ٹیوٹا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تیرہویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، بورڈ کے اراکین اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بورڈ کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد، آئندہ کے لائحہ عمل اور سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور چند اہم فیصلے بھی کئے گئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ2011 میں نوجوانوں کیلئے سی ایم فری ٹیکنیکل ایجوکیشن پروگرام شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت تین مختلف مرحلوں میں 3500 نوجوانوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ کا ہدف رکھا گیا تھا جسکے لئے 700 ملین روپے مختص کئے گئے تھے۔ مذکورہ ہدف کے تعاقب میں تین مرحلوں میں 3233 نوجوانوں کو تربیت دی جاچکی ہے جس پر 400 ملین روپے اخراجات آئے ہیں۔ پروگرام کے تحت دوسرے مرحلے میں خواتین کیلئے 25 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے بورڈ کی تجویز پر دستیاب رقم سے دوبارہ پروگرام شروع کرنے اور صوبے بشمول نئے قبائلی اضلاع میں نوجوانوں کیلئے مختصر المدتی ٹریننگ کا انتظام کرنے کی منظوری دی،دستیاب وسائل کے اندر تقریبا 4000 نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جاسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ویمن چیمبر آف کامرس کی خواتین کو بھی مذکورہ پروگرام کے تحت تربیت دینے کی منظوری دی۔اجلاس میں بھرتیوں کے عمل میں تیزی لانے کی سفارش بھی کی گئی اور انکشاف کیا گیا کہ ٹیوٹا کے تحت 2016 میں دی گئی آسامیوں پر 40 فیصد بھرتی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ ٹیوٹا کے مختلف اداروں میں 472 نئی آسامیاں بھی تخلیق کی گئی ہیں جن پر تیز رفتار بھرتی کی ضرورت ہے۔ موجود سسٹم کے تحت پریکٹیکل ٹیسٹ کا طریق کار زیادہ طویل اور سست ہے جسکو مختصر اور تیز کرنے کی ضرورت ہے وزیراعلیٰ نے اراکین کی تجویز پرپہلے سے موجود / مشتہر آسامیوں کو موجود ہ طریقہ کار کے تحت مگر تیز رفتاری سے تین ماہ کے اندر پر کرنے ہدایت کی تاہم انہوں نے نئی آسامیوں پر بھرتی این ٹی ایس کے ذریعے عمل میں لانے کی منظوری دی اور اس سلسلے میں این ٹی ایس کی مشاورت سے قابل عمل طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری اداروں میں بھرتیوں ، تبادلوں، تعیناتیوں سمیت جملہ امور میں شفافیت پی ٹی آئی کا منشور اور وژن ہے۔ اجلاس میں چکدرہ ، لوئر دیر اور مٹہ سوات کے گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر(بی)) B )GTVC کی گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل انسٹٹیوٹس (GPIs ) تک اپگریڈیشن کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ میدان لوئر دیر میں گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر (بی) کے قیام کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے ٹیوٹا کے اے ڈی پی منصوبوں میں ترجیحات کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ صوبائی حکومت کی پالیسی کے مطابق تکمیل کے قریب اور اہم نوعیت کے منصوبوں کو پہلی فرصت میں مکمل کیا جاسکے۔ اجلاس میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل انسٹٹیوٹ ہری پور کو جی سی ٹی تک اپگریڈیشن کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ٹیکنیکل اداروں کے قیام کیلئے ایک واضح کرائٹیریا ہونا چاہئے جس علاقے میں انڈسٹریل زون وغیرہ ہیں وہاں تربیت یافتہ افراد کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے اس لئے صنعتی سرگرمیوں والے علاقوں میں ٹیکنیکل اداروں کے قیام کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے اس عمل سے نا صرف کارخانوں کو درکار تربیت کے حامل افرادی قوت کی ضرورت بھی پوری ہوگی بلکہ لوگوں کو روزگاربھی میسر آئے گا ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نئے فنی تعلیمی اداروں کیلئے نئی عمارتیں بنانے کی بجائے پہلے سے دستیاب عمارتوں کو استعمال میں لایا جائے۔ اجلاس میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹٹیوٹ برائے خواتین تیمرگرہ کو فعال کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ٹیوٹا کی پروکیورمنٹ کمیٹی کی توثیق کی گئی جبکہ ٹیوٹا کے مجوزہ نظرثانی شدہ ریگولیشنز 2019کو مجوزہ ترامیم کو حتمی شکل دینے کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی جو تین ہفتوں کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کی پابند ہوگی۔ اجلاس میں ٹیوٹا کے تحت منصوبوں اور سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں باہمی مشاورت سے واضح اور حقیقت پسندانہ تجویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق