تازہ ترینمحمد شریف شکیب

چارٹر آف گورننس کی ضرورت

………محمد شریف شکیب……..
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نئے چارٹر آف گورننس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست دانوں،عدلیہ ، مقننہ ، انتظامیہ ، سویلین و فوجی افسروں اور خفیہ ایجنسیوں کو مل بیٹھ کر اپنی حدود کار کا تعین کرنا چاہئے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل دنیا بھر میں غلط سمجھا جاتا ہے۔ اگر فوجی عدالتوں کو اس بنیاد پر ترجیح دی جاتی ہے کہ وہاں مقدمات کے فیصلے جلد ہوتے ہیں تو اس کا حل یہ ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات کی جائیں تاکہ روایتی عدالتوں میں بھی مقدمات کے جلد فیصلے ہوں۔ ججوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تین ہزار ججوں پر انیس لاکھ مقدمات کا بوجھ ہے۔ چیف جسٹس نے پانی کی قلت کے ممکنہ بحران پر قابو پانے کے لئے ڈیم بنانے کے ساتھ عدالتوں میں جعلی مقدمات اور جعلی گواہوں کے خلاف بھی ڈیم بنانے کاعندیہ دیا۔چیف جسٹس نے واضح کیا کہ وہ ازخود نوٹس صرف اسی وقت لیں گے جب مسئلے کے حل کا کوئی دوسرا چارہ کار نہ رہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ریاست کے جثے کو لاحق مہلک امراض کی نشاندہی کے ساتھ ان کے تدارک کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ فی الواقع ہمارا ریاستی نظام کافی فرسودہ ہوچکا ہے۔ اس میں جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی گہری چھاپ موجود ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کو ریلیف نہیں مل پارہا۔ تیس چالیس سال پہلے ملک میں بائیس خاندانوں کی اجارہ داری تھی۔ اب مراعات یافتہ خاندانوں کی تعداد سینکڑوں سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ امیر روز بروز امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ اور غریب آدمی مزید غریب ہوچکا ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذارنے والوں کی تعداد مجموعی آبادی کے چالیس فیصد سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کے پاس دو وقت پیٹ بھر کر کھانے کے وسائل نہیں ہیں۔قومی ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں ملازمین کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں۔ عوام کے مسائل حل کرنے کی غرض سے قائم کئے گئے اداروں سے عام آدمی کو ریلیف اور انصاف نہیں مل رہا۔ عدالتوں میں بھی انصاف خریدنا پڑتا ہے جس کے پاس انصاف خریدنے کی استطاعت نہیں ہوتی۔ وہ حق بجانب ہونے کے باوجود انصاف سے محروم رہ جاتا ہے۔عدالتی ٹاوٹوں اور پیشہ ور عینی شاہدین بھی انصاف کے قتل میں ججوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں جس کا خود چیف جسٹس آف پاکستان نے اعتراف کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام لوگ بھی سرسری سماعت کی فوجی عدالتوں پر عام عدالتوں سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں کیونکہ وہاں سے فوری انصاف مل جاتا ہے۔حالانکہ پاک فوج کے ترجمان نے بھی واضح کیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع فوج کی خواہش نہیں۔ فوجی عدالتوں میں صرف دہشت گردوں کا ٹرائل کیا جاتا ہے اور اس معاملے کا براہ راست تعلق قومی سلامتی سے ہے۔ عدالتوں اور ریاستی اداروں سے ریلیف نہ ملنے کی وجہ سے عوام کا جمہوری نظام، ریاستی ڈھانچے اور سرکاری اداروں پر اعتماد نہیں رہا۔ اگر مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچانے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو صورتحال مزید گھمبیر ہوسکتی ہے۔ بیشتر اس کے کہ عوام قومی اداروں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں۔ارباب اختیار و اقتدار کوپانی سر کے اوپر سے گذرنے کا انتظار کئے بغیر اصلاح احوال کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔قومی اداروں اور جمہوریت پر عوام کا اعتماد اسی صورت میں بحال ہوسکتا ہے جب جمہوری نظام اور ریاستی ڈھانچے سے عوام کو ریلیف
ملنے لگے۔تبدیلی کا نعرہ لگاکر اقتدار میں آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بھی معاشی استحکام کے نام پر بھاری بھر کم قرضے لینے کے ساتھ منی بجٹ اور روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد ہی پی ٹی آئی کو پتہ چلا ہے کہ کرپشن میں اٹے نظام کوبدلنا آسان نہیں ہے۔ ہر موڑ پر بھاری رکاوٹیں حائل ہیں۔ کسی بااثر پر حکومت کا زور نہیں چلتا۔ صرف عام آدمی اور غریب لوگ ہی آسان شکار ہیں جن پر ہر حکومت معیشت کا بوجھ لادنا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ توقع ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے جس مرض کی تشخیص کی ہے اس کے علاج کے سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق