تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد …سب سے بڑا نقصان 

ساہیوال میں کا ونٹر ٹررزم ڈیپارٹمنٹ کے پو لیس سکواڈ کی فائرنگ سے خلیل انکی بیوی،13سالہ بچی اور ڈرائیور ذیشان کا قتل اتنا بڑا واقعہ نہیں تھا مگر بچ جانے والے تین معصوم بچوں کی تصاویر نے اس وا قعے کو ہو لنا ک صورت میں اجا گر کیا ایک بچے کا بیان میڈیا پر آیا تو وا قعے کی شدت میں اضا فہ ہو ا خلیل اپنے بچوں کو لیکر شادی کی تقریب میں شر کت کے لئے لا ہور سے ساہیوال جا رہا تھا پو لیس کی فائرنگ سے 4 افراد جا ن بحق ہوئے ایک بچہ اور دو بچیاں زندہ بچ گئیں عوام کی طرف سے پو لیس وا لوں کو پھا نسی پر لٹکا نے کا مطا لبہ ہو رہا ہے پو لیس کہتی ہے کہ خلیل ، اسکی بیوی اور ذیشان دہشت گر د تھے داعش سے اُن کا تعلق تھا وا قعے کے بعد یہ بھی نقصان ہواہے کہ تین جا نیں ض ئع ہوئیں اور یہ بھی نقصان ہے کہ 3بچے یتیم ہو کر ایسے معا شرے پر بو جھ بن گئے جہاں ، سویڈن ، بر طا نیہ اور نا ر وے کی طرح یتیموں کی پر ورش کے لئے کوئی سو شل سیکور ٹی نہیں کوئی بیمہ پا لیسی نہیں ، کوئی معا شرتی سہو لت نہیں ایدھی ہوم کی واحد سہو لت کتنے یتیموں کی کفالت کرے گی ؟ ان دو نقصانوں کے علا وہ تیسرا نقصان بھی سامنے آیا ہے اور یہ سب سے بڑا نقصان ہے حکومت پر لو گوں کا اعتماد نہیں رہا وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پر لو گوں کا کوئی اعتماد نہیں عدا لت پر لو گوں کا اعتماد نہیں تفتیشی اداروں پر لو گوں کا اعتماد نہیں پو لیس پر لو گوں کا اعتماد نہیں اور یہ وہ بات ہے جسکو انگریزی میں Breach of Trust کہا جا تا ہے بھر وسے کا فقدان قوموں کو دیمک کی طرح چاٹ لیتاہے ایسا نظر آتا ہے کہ ایک طرف حکومت ہے پو لیس ہے ، عدا لت ہے اور فوج ہے دوسری طرف 21کروڑ عوام ہیں دو نوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں دونوں کا آپس میں مقا بلہ ہے سما جی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک لطیفہ آیا ہے جس کو43لاکھ نا ظرین نے پسند کیا ہے لطیفہ یہ ہے کہ امتحان میں سوال آیا دو قو می نظریے کی تشریح کرو جواب دینے والے نے لکھا سر سید احمد خان ،علامہ اقبال اور قائد اعظم نے پا کستان بنا یا تھا اُن کا وژن یہ تھا کہ پا کستان میں دو قو می نظام ہو گا جو لوگ حکومت ،عدالت ، پو لیس اور فوج میں ہونگے وہ الگ قوم تسلیم کئے جائینگے جو لوگ ووٹ دینے والے ہونگے ان کو الگ قوم تسلیم کیا جا ئے گا ووٹ دینے والوں کو ہندوو ں کی ذات پات کے حساب سے اچھوت اور شودر کا درجہ حا صل ہو گا اُن کو بلا جواز گو لی مار دی جائیگی ان کے ما ل و جان کے تحفظ کی کوئی ضما نت نہیں ہو گی پاکستان کا نظام قانون اس دو قو می نظریے کی اساس پر قا ئم ہے اور پھل پھول رہا ہے لطیفہ پڑ ھ کر مجھے تحریک آزادی کے نا مور مجا ہد اور تحریک پاکستان کے سر گرم کارکن مولا نا حسرت مو ہانی یاد آگئے قیام پاکستان سے پہلے حسرت مو ہا نی نے آزادی کی جنگ لڑ ی بار ہا قید ہوئے ، جیل کی سزائیں کا ٹیں جیل میں اُن سے مشقت لی جا تی تھی انہی کا شعر ہے ؂
ہے مشق سخن جاری ، چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تما شا ہے حسرت کی طبیعت بھی
آزادی کے بعد حسرت مو ہا نی پاکستان نہیں آئے ، مہا جر بننے پر موہان میں بھارتی شہری بن کر رہنے کو تر جیح دی اخباری رپورٹروں نے حسرت مو ہانی سے پو چھا کہ تم نے پا کستان ہجرت کیوں نہیں کی ؟ حسرت مو ہا نی نے کہا بھارت میں اگر مجھے قتل کیا گیا تو مسلمان کہہ کر ماردیا جائے گا پاکستان میں اگر مجھے ما را گیا تو کا فر کا فتویٰ لگا کر قتل کر دیا جائے گا میں وہاں جا کر کافر کی مو ت مر نے سے یہاں رہ کر مسلمان کی مو ت مر نا زیا دہ پسند کرتا ہوں پنجاب پولیس نے خلیل ، اسکی بیوی ،بچی اور ڈرائیور ذیشان کو مارنے کے 24گھنٹے بعد خود کش جیکٹ سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ ان کے کھا تے میں ڈال دیا ہے اور الزام لگا یا ہے کہ انہوں نے پو لیس پر فائرنگ کی جوابی حملے میں ما رے گئے پو لیس نے خلیل اور ذیشان کے مقا بلے کی کارگر ایف آئی آر بھی کٹوائی ہے جبکہ خلیل اسکی بیوی،بچی اورذیشان کے قتل کی ایف آئی آرکاٹتے وقت نا معلوم افراد کو نا مزد کیا گیا حا لانکہ قا تلوں کے نا م سب کو معلوم تھے ؂
میں کس کے ہا تھ پر اپنا لہو تلاش کرو ں
سارے شہر نے پہنے ہیں دستانے
اب کیا ہو گا ؟ یہ سب کو معلوم ہے حکومت جے آئی ٹی بنائے گی جے آئی ٹی مرنے وا لوں کو دہشت گرد قرار دے گی زخمی بچے کابیان قا نون کے سامنے وقعت نہیں پا ئے گا واقعے کے عینی گواہوں نے شہا دت دی ہے کہ گاڑی سے فائرنگ نہیں ہوئی ، گاڑی سے کوئی اسلحہ بر آمد نہیں ہو ا صرف لاشیں برآمد ہوئیں بچوں کو زندہ نکا لا گیا ماں باپ نے گو لیاں کھا کر بچوں کی جانیں بچانے کا فریضہ انجام دیا ان عینی شاہدین کو منحرف کیا جائے گا عدالت کے سامنے آکر وہ کہیں گے کہ ہم پر منحرف ہونے کے لئے کوئی دباؤ نہیں ہے ہم اپنی مر ضی سے منحرف ہورہے ہیں اس کے بعد خلیل اورذیشان کے ورثاء عدالت کے سامنے آکر بیان دینگے کہ ہم نے اپنے عزیزوں کا خون معاف کیا ہے وہ قانون کا پیٹ بھر نے کے لئے یہ بھی کہینگے کہ ہم پر خون معاف کرنے کے لئے کوئی دباؤ نہیں تھا یوں سال ڈیڑھ سال بعد قصہ ختم ہو جائے گا ؂
نہ مدعی ،نہ شہادت ،حساب پا ک ہوا
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا
نقیب اللہ محسود ، خلیل اور ذیشان جیسے مقتولین کی تعداد پاکستان میں ہزاروں ، لاکھوں سے تجا وز کر گئی ہے مظلوم انصاف مانگتے ہیں تو حکومت کہتی ہے کہ فو جی عدالتوں کا قا نون پا س کرو تمہیں انصاف ملے گا اگر انصاف کے لئے فو جی عدا لتیں ضروری ہیں تو پھر حکومت کے دوسرے ستون عدلیہ کا کر دار کیا ہے ؟ ساہیوال کا واقعہ پاکستان کے ہر شہر میں ہر روز پیش آتا ہے اصل نقصان یہ نہیں کہ بے گنا ہ لوگ مارے جا تے ہیں اصل نقصان یہ ہے حکومت ،عدالت ، پو لیس اور قا نون پر سے عوام کا اعتماد اُٹھ گیا ہے بھروسے کا فقدان سب سے بڑا نقصان ہے لوگ انصاف کے لئے صدر مملکت ،وزیر اعظم اورچیف جسٹس کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ آرمی چیف سے انصاف کا تقا ضا کر تے ہیں ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق