تازہ ترین

حکومت خیبرپختونخوا اور جائیکا مشن ٹیم کے درمیا ن وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کا انعقاد

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کے 17 مختلف اضلاع کے دیہی علاقوں میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور جاپان انٹرنیشنل کو آپریشن ایجنسی(جائیکا) کیباہمی تعاون سے 589 کلومیٹر طویل مختلف سڑکوں کی تعمیر نو و بحالی کیلئے سروے کرانے کا عندیہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس منصوبے میں ضلع سوات کے مختلف دیہی علاقوں میں مختلف نوعیت کے 53 کلومیٹر طویل مختلف روڈ زاورپانچ پلوں کی تعمیر کیلئے بھی سروے عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جائیکا کی مدد سے مینگورہ میں ایگرکلچر ریسرچ سٹیشن کا قیام بھی ممکن بنایا جائے گا۔انہوں نے جائیکا کی ٹیم کو حکومت کی جانب سے مکمل مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے حکومت خیبرپختونخوا اور جائیکا مشن ٹیم کے درمیا ن وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران کیا۔اجلاس میں وزیر مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ محمد اسرار ، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، سیکرٹری پی اینڈ ڈی ، جائیکا ٹیم ممبر نائلہ الماس اور عامر بخاری کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے بھی شر کت کی۔اجلاس کو جائیکا ٹیم کی طرف سے خیبرپختونخوا رورل روڈز امپورومنٹ اور ری ہبلیٹیشن پراجیکٹ پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اور دوبارہ بحالی کے حوالے سے پری فزبیلٹی رپورٹ بھی اجلاس کو پیش کی گئی ۔ اجلاس کو منصوبے کے طریقہ کار ، عمل درآمد اور ٹائم لائن کے حوالے سے بھی تفصیلاً بتایا گیا۔اجلاس میں صوبے میں پلوں کی مرمت کے حوالے سے فنڈ ز کی فراہمی کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فروری سے جائیکا ٹیم ان منصوبوں کیلئے طریقہ کار وضع کرے گی جس کے بعد جون اور جولائی میں حکومتی سطح پرایگریمنٹ کیا جائے گا اور ستمبر میں اس پرباضابطہ عملی کام کوممکن بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ روڈوں اور پلوں کی بحالی کے اس عمل کیلئے پہلے سے نشاندہی کی جا چکی ہے ۔ صوبائی حکومت کی طرف سے کوئی بھی مسئلہ درپیش نہ ہو گااور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ چونکہ سوات ایک سیلاب زدہ اور جنگ زدہ علاقہ رہ چکا ہے لہٰذا حکومت کی خواہش ہے کہ سوات اوراس طرح دیگر پسماندہ علاقوں میں بحالی کاکام جلد مکمل کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاحت کو فروغ دینے کیلئے سوات اور اس جیسے علاقوں میں روڈ وں اور پلوں کی بحالی سے نہ صرف وہاں کے علاقے ترقی کر سکیں گے بلکہ یہ پورے صوبے کے خاطر خواہ مفاد میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے خواہش ظاہر کی کہ جائیکا کی ٹیم زراعت کے شعبے میں کیپسٹی بلڈنگ کے حوالے سے بھی صوبے میں کام کرے اور زمینداروں کی شعبہ زراعت میں ٹریننگ کو ممکن بنائے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سوات میں پھلوں اور سبزیوں کے روزگار کو ایک صنعت کے طور پر متعارف کرایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں خصوصاً سوات میں روڈز اور پلوں کی بحالی پر پانچ سے چھ مہینوں میں کام کے عمل کو ممکن بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سوات میں روڈز اور پلوں کی تعمیر کیلئے درکار اراضی کی فراہمی کو حکومت ممکن بنائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سوات کو سیاحت کا مرکز بنایاجائے گا جس سے پورے صوبے کے ترقی کے عمل کو ممکن بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے جائیکا کی ٹیم کو چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی اور کہاکہ یہ منصوبہ زراعت کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق