تازہ ترینفرہاد خان

فکروخیال۔۔۔۔اپوزیشن کے فرشتے۔

……فرہاد خان ۔


گزشتہ تین دنوں سے یہ کیا اوٹ پٹانگ مچایا جارہا ہے ،ساہیوال واقعے کو مکمل سیاسی رنگ دے کر سب اپنے اپ کو فرشتے ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں جبکہ حکومت وقت کو مکمل قصوروار ٹھہرانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا جارہا ، اس واقعے کے کئی پوشیدہ پہلو بھی ہوسکتے ہیں جن سے اب راز اٹھنے کی دیر ہے معاملے کے تحقیق کے دائرہ کار کو وسعت دے کر اس کی اصل تہہ تک پہنچنے کی بجائے اسے مکمل طور پر حکومت وقت کے سر تھوپنے کی کوشش ہورہی ہے اور اس کے لئے عدالتون کے ملزمان سے لیکر جےائی ٹی کے قصور تک سب کے سب فرشتے بن کر سیاست کررہے ہیں ، یہاں اس بات پر کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں کہ جو بھی ہوا ظلم ہوا ، بربریت ہوئی اور سب نے اس کی مذمت کی ،سب نے وزیراعلی پنچاب کے اس عمل کی بھی سرزنش کی کہ اسے متاثرہ غمزدہ بچوں کو پھول پیش نہیں کرنا چاہیئے تھا اور سب کو اس بات کا دکھ ہے کہ اگر یہ لوگ واقعی مجرم تھے تو انہیں گرفتار بھی کیا جاسکتا تھا ،بچون کی موجودگی میں والدین کو اس طرح بربریت کا نشانہ بنانا درندگی کی انتہا ہے مگر اس پر سیاست کرنا اس سے بھی قبیح کام ، اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کے مترادف ہے ، اس معاملے پر سیاست کرنے والے کیوں اپنے ادوار کے واقعات بھول گئے ، ماڈل ٹاوں میں قتل و غارت گری کرنے والے کیوں اپنے کرتوت چپھا کر دوسرون کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے لگ گئے ، پنچاب کے فرسودہ پنچائیت نظام تلے روز ایسے ایسے قبیح واقعات ہوتے ہیں جن کی میڈیا کوریج ہی نہیں کی جاتی اور معاملات کو دباو کے تحت ڈرا دھمکا کر دبایا جاتا ہے ، جن لوگوں نے پنچاب اور سندھ پولیس کو اپنے گھر کی لونڈی بنا کر تباہی کے دہانے پہنچایا وہی اب اس واقعے پر حکومت پر گرج رہے ہیں ۔پنچاب اور سندھ کی جاگیردارانہ و وڈیرانہ نظام سائے تلے پلنے والے ہمارے معزز سیاسی لیڈران پہلے اپنے اپنے گریبان جھانکنے کی تو کوشش کریں۔اپوزیشن کے فرشتوں کو کوں سمجھائے کہ وڈیرہ شاہی اور پنچائیت کے نظام کے تحت روز معصوم زندگیوں کو کچلا جاتا ہے ان کی زندگیوں کے ایسے فیصلے کئے جاتے ہیں کہ انسانیت کانپ اُٹھتی ہے ڈرا دھمکا کر شادیوں کا روام عام ہے۔ پنچائیت اپنی مرضی سے ہوش ربا فیصلے کرتے ہیں سودے بازیان کی جاتی ہیں کیا یہ سب درندگی نہیں ، ظلم و بربریت نہیں ،کیا غریب ہاریوں اور اپنے ملازمیں پر کُتے چھوڑنا ظلم نہیں اور کیا ان سارے واقعات کو بھلا کر صرف ایک واقعے کی بنیاد پر حکومت وقت کو مورد الزام ٹھہرانا ناانصافی نہیں۔ اس واقعے کی کئی پہلو ہوسکتے ہیں۔ اس معاملے پر تفتیش تو کرنے دیجئے ، گرفتار ملزمان اور ان کے کرتا درتا عوامل کی تہہ تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے،پہلے پہل یہ کام تو کرنے دیجئے رپورٹ کا انتظار تو کیجئے تحقیقات میں تفتیش میں وقت لگ سکتا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ معاملہ زاتی دشمنی کا ہو، ہوسکتا ہے کہ ایسے واقعات کسی سازش کے تحت کروائے جارہے ہوں اور اس کے پیچھے محرکات کچھ اور ہوں ، ہوسکتا ہے کہ اس واقعے کی آڑ میں دوسرے معاملات کو دبانے کی کوئی منظم شازش کی جارہی ہو اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ خاندانی دشمنی کی بنیاد پر کسی بڑے کے کہنے پر اس طرح کا کھیل کھیلا گیا ہو ۔اور بھی رخ ہوسکتے ہیں اس واقعے کے مگر، کل سے قومی اسمبلی کی کاروائی دیکھ کر لگ تو یہ رہا کہ اس واقعے کو صرف اور صرف پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور کچھ نہیں اور لگ تو یہ رہا کہ حکومت وقت پر تمام تر زمہ داری ڈال کر معاملے کو کوئی اور رُخ دیا جارہا، اپوزیشن کے کل کی تقاریر کا تو سو فیصد یہی خلاصہ ہے کہ جیسےایسے واقعات پاکستان میں اس سے پہلے کبھی وقوع پذیر نہ ہوچکی ہوں ،کل شہباز شریف اورخواجہ آصف سے لے کر پرویز اشرف تک سب فرشتے بن کر گونج رہے تھے اورمتاثرہ خاندان کے ساتھ ہمدردی میں اگے اگے رہے ،لیکں اپنے دور کے واقعات سارے بھول گئے۔ حیف صد حیف اس معاملے پر سیاست کی گنجائش ہی نہیں حکومت ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے اور اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا اعلان پہلے ہی دن سے کرچکی ہے اور مذید اس پر سیاست کرنا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔یہ منافقانہ رویہ اور یہی طرز عمل اور اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے سے قبل کسی کو بھی زمہ دار ٹھہرانے کی یہ روش نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ انتہائی قابل افسوس بھی ۔ پہلے کام کرنے دیجئے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عمل قانون کے تحت ہوہی جائیگا اور اس معاملے کے اصل کردار جلد اپنے انجام کو پہنچ ہی جائیں گے۔پہلے یہ ایک کام تو کرنے دیجیئے،خود کو فرشتے اور دوسرون کو مجرم ٹھہرانے کی یہ روش اچھی بات نہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق