تازہ ترینمحمد شریف شکیب

اقامہ بردار افسران اعلیٰ

……..محمد شریف شکیب……..
عدالت عظمیٰ میں پیش کی گئی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی اور صوبائی محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ایک ہزار ایک سو افسران دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ جن میں گریڈ بائیس کے چھ، گریڈ اکیس کے 40، ایم پی ون گریڈ کے گیارہ، گریڈ بیس کے 90، گریڈ اٹھارہ کے 220اور گریڈ سترہ کے 160افسران شامل ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق دوہری شہریت رکھنے والے اعلیٰ افسروں میں سے 540کے پاس کینیڈا کی شہریت ہے۔ 240افسران برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔ امریکی شہریت یعنی گرین کارڈ کے حامل افسروں کی تعداد190ہے۔سب سے زیادہ دوہری شہریت رکھنے والے افسروں کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے۔ محکمہ خارجہ اورمحکمہ خزانہ سے تعلق رکھنے والے بعض افسروں نے بھی ریٹائرمنٹ کے بعد روزگار کا مسئلہ حل کرنے کے لئے دوہری شہریت حاصل کررکھی ہے۔ دوہری شہریت رکھنے والوں کے پاس آسٹریلیا، آئرلینڈ، نیوزی لینڈ اور ملائشیا کے اقامے بھی ہیں۔سعودی عرب، دوبئی، شارجہ ،قطر اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی شہریت اور ورک پرمٹ رکھنے والوں کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔آئین اور قانون میں ان غیر ملکی نژاد پاکستانی افسروں کے بارے میں کیا حکم ہے۔ اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں۔ مجھ سمیت عام لوگوں کو غصہ اس بات کا ہے کہ بھاری بھر کم تنخواہ، پرکشش مراعات اور لامحدود اختیارات رکھنے والے ان افسروں کے پاس دوہری شہریت ہے تو ہمارے پاس کیوں نہیں۔ کیونکہ ہمیں ان کی نسبت دوہری شہریت کی زیادہ ضرورت ہے۔ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، فرانس، جرمنی اور دیگر مغربی ممالک سے بہت سے نظریاتی اختلافات ہیں۔ان کی نسلی امتیاز والی پالیسی بھی ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ مغربی ممالک میں ہمیں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ان ممالک کا سرد موسم بھی ہمارے مزاج سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود ہم سب پاکستانیوں کی یہ معصوم سی خواہش ہے کہ کسی ترقیافتہ مغربی ملک یا تیل کی دولت سے مالامال مشرق وسطیٰ کے کسی اچھے ملک میں ہمیں شہریت یا اقامہ مل جائے۔ہم یہ لکھ کر دینے کے لئے بھی تیار ہیں کہ ان ممالک میں مستقل قیام کا کبھی مطالبہ نہیں کریں گے۔ ان کے ہر نامناسب رویے کو نظر انداز کرکے صرف اپنے کام سے کام رکھیں گے اور جب کام نکل آئے تو اپنا بوریابستر سمیٹ کر سیدھا اپنے گھر آئیں گے۔واضح رہے کہ یہ صرف ہماری خواہش ہے۔ ضروری نہیں کہ انسان کی ہر خواہش پوری ہو۔ بہرحال اعلیٰ افسروں کے بیرون ملک اقاموں اور دوہری شہریت کاپول کھلنے پر زیرعتاب سیاست دانوں کو یک گونہ تسلی ہوئی ہوگی۔کیونکہ سیاست دانوں کی دوہری شہریت اور اقاموں کا کھوج بھی انہی افسروں نے لگایا تھا۔ جس پر سابق وزیراعظم کو عہدے سے محروم ہوکر جیل کی ہوا کھانی پڑی اور درجنوں دوسرے سیاست دانوں کے سروں پر تلوار لٹک رہی ہے۔سیاست دان بیچارے ہر دور میں زیرعتاب رہے ہیں۔ کبھی اپنے پیٹی بندوں نے سیاسی مخاصمت پر ان کے خلاف مقدمات بنائے کبھی غیر جمہوری عناصر نے انہیں دیوار سے لگا دیا۔ اور ان کے خلاف اس قدرمنفی پروپیگنڈہ کیا گیا کہ یہ بیچارے لوگوں سے منہ چھپائے پھیر رہے ہیں۔وہ چاہتے ہوں گے کہ ان کا برا سوچنے والے بھی اسی انجام سے دوچار ہوجائیں۔سیاست دانوں کو دھیمے لہجے میں اکثر یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا ہے کہ کرپشن کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد جیم سے
شروع ہونے والے طبقے کی ہے۔ مگر انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ سب ہاتھ دھوکر سیاست دانوں کے پیچھے پڑے ہیں۔ تاہم تعجب اس بات کی ہے کہ جب انہی سیاست دانوں کو اقتدار ملتا ہے تو وہ کارسرکار چلانے کے لئے جیم طبقے کا محتاج ہوتے ہیں۔یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ معروف جیم طبقے کے علاوہ جن لوگوں کا جیم سے شروع ہونے والے طبقے سے تعلق ہے وہ خود کو بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ جن اعلیٰ افسروں کی دوہری شہریت ثابت ہوچکی ہے ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے۔ قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے یہ الگ معمہ ہے۔ قانون مرتب کرنے والے اسے بوقت ضرورت تبدیل بھی کرسکتے ہیں ۔جب بات ایک دوسرے کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی آجائے تو قانون کو تبدیل کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔اقامہ بردار افسروں کا مستقبل کیاہوگا۔ اس بارے میں فی الحال کوئی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق