اقرار الدین خسروتازہ ترین

چترالی مزدور سے بزنس ٹائیکون تک  کا سفر

….۔۔(اقرارالدین خسرو ) …….
دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے بہت کم وقت میں بہت زیادہ کامیابی حاصل کرکے مثال قائم کرلیتے ہیں۔ کسی بھی فیلڈ میں کامیابی کیلیے اخلاص اور محنت بنیادی شرائط ہیں۔ کہتے ہیں کہ محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔ محنت کے زریعے کم وقت میں زیادہ نام پیدا کرنے والے لوگوں کا تعلق اگر بڑے شہر سے ہو۔تو اتنی تعجب نہیں ہوتی مگر آج میں آپ کو ایک ایسے چترالی شخص سے ملوارہا ہوں جو چترال کے دور دراز علاقے یارخون لشٹ میں پیدا ہوا۔ کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہوے ان دنوں اسلام آباد ائیر پورٹ کے قریب چترال ٹاؤن کے نام سے  ایک بہت بڑا شہر  آباد کررہا ہے۔ جس میں چترال کے عوام کو شہری زندگی کی تمام تر سہولیات بھی میسر ہونگی اور اپنی زبان اور ثقافت کو بھی محفوظ رکھ سکیں گے۔ اسی شخصیت کا نام سلطان ولی ہے۔ سلطان صاحب 1955 میں چترال کے دوردراز علاقے یارخون لشٹ میں پیدا ہوئے۔ ناظرہ قرآن پاک سمیت ابتدائی تعلیم گاؤں سے حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں انہوں نے محسوس کیا کہ اسے کچھ کرنا ہے اور کچھ بننا ہے۔ اسلیے گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔مختلف شہروں سے  بحیثیت مزدور اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ چھ مہینے تک مزدوری کرنے کے بعد اسے احساس ہوا، کہ ہر جگہ ہم چترالی گینتی اور بیلچہ لے کے مزدوری کرتے ہیں۔ ہمارے اوپر فورمین / ٹھیکہ دار وغیرہ غیر چترالی (پٹھان/ پنجابی ) ہوتے ہیں۔ کیوں ہم ٹھیکہ داری نہیں کر سکتے ہم مزدوری ہی کیوں کرتے ہیں۔ یہ سوچ کر انہوں نے سکینڈ ٹائم تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ تاہم وہ میٹرک تک تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ پھر بھی لکھنے اور پڑھنے سے واقفیت بھی اس زمانے میں بڑی بات تھی۔ جسکی مدد سے وہ ایک کمپنی کے فورمین کے طور پر  کام کا آغاز کیا۔ پھر کنسٹرکشن کے کاموں کا ٹھیکہ لینا شروع کیا۔ کامیابی ہر بار قدم چومتی رہی۔
اس کے بعد زمینوں کی خریدوفروخت اور زاتی خرید کردہ رقبوں پر رہائیشی منصوبوں کا سلسلہ شروع کیا جن میں سے متعدد منصوبے مکمل ہوچکے ہیں سلطان ولی صاحب کے رہائیشی پراجیکٹس اسلام آباد ، راولپنڈی اور پشاور میں ہیں جن میں تین سو کنال پرمشتمل چترال سٹی ٹھنڈاپانی اسلام آباد، 10 ہزار کنال کا بہت بڑا منصوبہ “چنار ولاز ” مگر ان سب سے بہت ہی اہم منصوبہ “چترال ٹاؤن” کا ہی ہے۔
چترال ٹاؤن اسلام آباد کے نیو ائیرپورٹ  سے صرف دس پندرہ منٹ اور راولپنڈی صدر سے صرف بیس منٹ پر واقع ہے۔ اس علاقے کا کل رقبہ تقریباً تین ہزار کنال ہے۔ پانی،بجلی، سیوریج سسٹم ، پختہ سڑکوں اور مین گیس لائن سمیت تمام سہولیات یہاں میسر ہیں۔ اور سب سے اہم بات چترال ٹاؤن کا ایک بڑا حصہ صرف چترال اور گلگت والوں  کیلیے مخصوص ہے ۔
یہاں مسجد اور جماعت خانوں کیلیے بھی جگہ مختص ہیں۔ کچھ چترالی خاندان یہاں آباد بھی ہوچکے ہیں ۔ اس علاقے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ  اسلام آباد سے ملحقہ ایک شہر منی چترال آباد ہونے جا رہا ہے۔ جہاں چترالی اپنی زبان اور ثقافت کو بھی محفوظ کر سکتے ہیں۔
سلطان ولی صاحب  کے منصوبوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تمام زمینات سلطان ولی صاحب کے نام پر بذریعہ رجسٹری/انتقال منتقل شدہ ہیں جن کو بعد ازاں مالکانہ حقوق کے ساتھ خریدار کے نام پررجسٹری/انتقال کیا جاتا ہے اور اس طرح اب تک ہزاروں چترالی و گلگتی خاندان اسلام آباد،راولپنڈی اور پشاور میں اپنی زمین/گھر کے مالک بن چُکے ہیں۔
سلطان صاحب کی زندگی تمام چترالیوں بالخصوص ان لوگوں کیلیے مشعل راہ ہے جو جوانی میں مزدوری کیلیے گھروں سے نکلتے ہیں اور پوری زندگی مزدور ہی رہتے ہیں۔ سلطان صاحب کامیابی کیلیے تین چیزوں کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ سب سے پہلے نیک نیتی پھر رسک لینے کی صلاحیت، اس کے بعد کام ، کام  بس کام ، خود بھی ان چیزوں پہ عمل پیر ہوکے کامیاب ہوے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے ہیں۔ سلطان صاحب کا بڑا بیٹا پیار علی  کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ پیار علی نام کے مطابق اسم با مسمٰی ہیں۔ بہت پیار کرنے والے انسان ہیں۔ بزمنس ایڈمنسٹریش میں ماسٹر کرچکے ہیں اور ان دنوں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ دلچسب بات یہ جس یونیورسٹی  کی تعمیر کے وقت سلطان صاحب نے وہاں  بطور سائٹ  فورمین کام کیا تھا۔ اسی ادارے سے اس کے بیٹے نے گول مڈل حاصل کی ہے۔
سلطان صاحب کے دل میں چترالیوں کیلیے بہت زیادہ محبت ہے چترال ٹاؤن بھی اسی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاؤہ بھی چترال کے غریبوں کی مدد دل کھول کر کرلیتے ہیں۔ چترال ایسوسی ایٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کی زیر نگرانی کئی پراجیکٹس میں درجنوں ملازمین کے علاؤہ  سینکڑوں مزدوروں کے گھروں کے چولہے بھی جل رہے ہیں۔ سلطان صاحب کے ساتھ ملاقات میں جب ہم نے ان سے پوچھا کہ چترالی عوام کیلیے آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ بھی کاروبار میں آگے ائے۔ انہوں نے پہلے تین چیزوں کا زکر کیا۔ نیک نیتی/ رسک لینے کی صلاحیت  اور دن رات کی محنت ۔۔ اس کے علاؤہ انہوں نے مشورہ دیا کہ چترالیوں کے پاس زیادہ پیسہ نہیں اسلیے کاروبار میں جلدی آگے جانے کیلیے انھیں چاہیے ایک دوسرے پہ بھروسہ کرنا سیکھے اور گروپ میں کاروبار شروع کرے۔ اس صورت میں وہ مل کے آگے جاسکتے ہیں۔
سلطان صاحب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ کہ اسے پبلسٹی کا شوق نہیں۔ وہ کام اور خدمت پہ یقین رکھتا ہے۔ وہ بے لوث خدمت کرتا ہے۔ اور خدمت کے زریعے اسکی تشہیر خود بخود ہو جاتی ہے۔ سلطان صاحب کی زندگی بلاشبہ ان لوگوں کیلیے جو کم پیسے سے کاروبار کا آغاز کرنا چاہتے ہیں مشعل راہ ہے۔
سلطان صاحب کے پراجیکٹس ان لوگوں کیلیے کسی نعمت سے کم نہیں جو دوردراز علاقوں کے باسی ہیں شہروں کی طرف ہجرت کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر قلیل آمدنی کیوجہ سے یہ خواہش دل میں رہ جاتی تھی۔ ان کیلیے آسان اقساط میں پلاٹس کی فراہمی اور آسان اقساط ہی میں مکانات کی تعمیر کسی نعمت سے کم نہیں۔ جس سے چھوٹے ملازمین کافی خوش اور مطمئن بھی ہیں۔ خدا کرے کامیابیوں کا سفر یوں ہی جاری و ساری رہے  سلطان صاحب اور اس کے  بیٹوں کے دلوں میں خدمت خلق کے جذبے میں مزید اضافہ ہو۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق