تازہ ترینعنایت اللہ اسیر

گردگان بر گمبد کیا واپڈا پر کسی کی حکومت ہے

…..عنایت اللہ اسیر……
گولین گول پاور پراجیکٹ کی ڈیزاییں میں جو غلطی کیا گیا اور اربون روپیے لگا کر 108 میگا واٹ کا تخمینہ لگا کر گولین کے ایسے اونچائی میں جاکر سرنگ بناکر پانی میلوں دور لایا گیا کہ گولین وادی اور نالے کے اکثر چشمے اس ھیڈ سے بہت نیچے وافر مقدار میں ضائع ہورہے ہیں اور یہ بجلی گھر جون سے لیکر اگست اور ستمبر کے اخر تک بھی 108 میگا واٹ دینے کے قابل نہیں کئی سال سے اربوں روپیے لگاکر اسٹیمیٹ سے 80 میگا واٹ کم بجلی پیدا کرنے پر واپڈا والوں سے کون پوچھے گا
غلط اسٹیمیٹ اور 108 میگا واٹ کے تخمینے کی وجہ سے مین ٹرانسمیشن لائین بروز ایون کے کثیر ابادی اور زرعی ذمینات کو غیر اباد اسان علاقہ دستیاب ہونے کے با وجود تباہ کرکے لاییں لاکھوں جانون کو خطرے میں ڈال کر بچھایا گیا باشندگان علاقہ کے فریاد کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی
ٹرانسمیشن لایین 108 میگا واٹ کو نیشنل گرڈ سے ملانے کے لیے بچھایا گیا مگر بجلی صرف 12 سے 20 میگاواٹ پیدا ہوتا ہے اور گرمیوں بھی 30 سے 50 میگا واٹ ہی دستیاب ہوگا اگراس ھایڈرل پاور کو نیشنل گرڈ سے ملایا جاے تو چترال کے لاکھوں کی آبادی اور وسیع علاقہ بجلی سے محروم ھو جائیگا اور چترال کے باشندے پھر سے جنگلات کی تباہی کی طرف مجبوراً متوجہ ہونگے اور ماحول بچانا نا ممکن نہیں ہوگا
لہذا چترال کے لیے اعلان کردہ 36 میگا واٹ کو بروز گرڈ اسٹیشن سے کنٹرول کرکے پرانے ٹرانسمیشن لائن سے زیارت اور چترال کے تمام دیہات کو اس وافر بجلی سے مستفید کیا جائے اور چترال کے تمام باشندوں کو یہ بجلی 5 روپیہ فی یونٹ کے نرخ پر فراہم کیاجایے تاک چترال کے باشندے روشنی ,گرمائش اور پکانے کے لیے اس چترال میں پیدا ہونے والے وافربجلی سے بھر پور استفادہ کر سکیں اور چترال کے جنگالات پر دباو ختم ہوجائےہمارے گلیشرز کا پگلنا بند ہو جائے جس سے پاکستان کے پانی کے ذخائر محفوظ ہوجاییں مگر آیے دن واپڈا,شیڈواورپیڈو کےاپس میں مس کوارڈینیشن سے چترال کے باشندے ایک عذاب میں مبتلا ہیں بجلی ہوتے ہوئے کئی کئی دن بجلی غایب کیجاتی ہے جس سے امن و امان کا مسلہ درپیش رہتاہے چترال کے پرامن شہریوں کو تنگ کرکے ان کو تشدد پراُکسایا جاتا ہے یہ واپڈا کے مس مینیجمنٹ ہی کا نتیجہ ہوتا ہے اس اہم مسلے کو مستقل حل کرنا ہی حکومت کی فعالیت کا ثبوت ہوگا
بجلی کی موجود گی میں اس مسلے کو حل کیاجائے


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق