تازہ ترینمحمد شریف شکیب

محکمہ تعلیم کا تازہ اعلامیہ

…………محمد شریف شکیب………..

Advertisements

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے خواتین اساتذہ سے مرد وں کی بالمشافہ یا ٹیلفونک بات چیت، ایس ایم ایس، واٹس ایپ ، ٹوئیٹر اور دیگر سماجی رابطوں کے ذریعے رابطہ کرنے پر فوری پابندی عائد کردی ہے۔ کوئی مرد افسر اپنی ماتحت خاتون افسر پر دھونس نہیں جما سکے گا نہ ہی کسی ماتحت مرد اہلکار کو خاتون افسر اور ٹیچر سے ویسے ہی رابطہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ خاتون افسر اور اساتذہ سے رابطہ کرنے کے لئے کسی خاتون کی ہی خدمات حاصل کرنی ہوں گی۔ یہ خبر سنی سنائی باتوں پر مبنی نہیں۔ بلکہ محکمہ تعلیم نے باقاعدہ نوٹی فیکیشن جاری کردیا ہے گویا یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ محکمہ تعلیم نے اس پابندی کی کوئی وجہ نہیں بتائی حالانکہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے بتانا چاہئے تھا کہ اس فیصلے کا شان نزول کیا ہے۔ پابندی کا سنتے ہی ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہو نہ ہو۔ یہ فیصلہ کسی بااثر خاتون افسر یا کسی بڑے سیاست دان کی رشتہ دار خاتون ٹیچر کی شکایت پرکیاگیا ہے۔ جو لامحالہ ہراسان کئے جانے کا شکار بنی ہوگی یا پھر کسی کو سبق سکھانے یا اپنے ہاتھ لمبے ہونے کا ثبوت دینے کے لئے ایساکیا ہوگا۔ بہر حال وجہ کچھ بھی ہو۔ فیصلہ کافی معقول ہے۔ سیاست اپنی جگہ۔ مذہبی قسم کی جماعتوں کو اس فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہئے تھا مگر کسی حلقے کی طرف سے فیصلے کی حمایت یا مخالفت میں کوئی بیان تا دم تحریر سامنے نہیں آیا۔ بلاشبہ محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار نے خواتین اہلکاروں کے بالمشافہ یا برقی آلات کے زریعے رابطے پر پابندی عائد کرنے سے قبل فیصلے کے مختلف پہلووں پر تفصیل سے غور کیا ہوگا۔مردوں اور خواتین کے باہمی رابطوں کے بغیرنہ گھر کا انتظام و انصرام چل سکتا ہے نہ ہی کسی ادارے یا معاشرے میں اشتراک عمل کے بغیر کام کرنا ممکن ہے۔ بالفرض کسی خاتون افسر کو ماتحت مرد اہلکار یا مرد افسر کو کسی خاتون ماتحت افسر یا ٹیچر سے بہرصورت بات کرنی ہو۔ تو اس مسئلے کا کیا حل ہوگا۔ بعید نہیں کہ ان رابطوں کے لئے تیسری جنس کے اہلکاروں کو باہمی رابطوں کے لئے رابطہ کار کے طور پر تعینات کیا جائے گا۔ مسئلے کا دوسرا ممکنہ حل یہ ہے کہ کسی مرد افسر کو خواتین اہلکاروں سے رابطے کے لئے اپنی بیگمات کو بھی دفتر میں ساتھ رکھنا ہوگا۔ تاکہ باہمی رابطوں کے گھروں میں رونما ہونے والے سائیڈ ایفیکٹس کا بھی ازالہ ہوسکے اور کارسرکارچلانے میں بھی سہولت ہو۔اور خواتین افسروں اور اہلکاروں کو مردوں سے رابطوں کے لئے اپنے گھر کے قریبی رشتہ دار مردوں کو دفتر میں بیگار پر رکھنا ہوگا۔ تاکہ وہ محکمے کے مرد اہلکاروں اور افسروں تک اپنی خواتین کے احکامات یا پیغامات پہنچا سکیں۔انسان ہونے کے ناطے یہ ہماری جبلت میں شامل ہے کہ کسی کی بات سن کر دوسرے تک بلاکم و کاست پہنچا ہی نہیں سکتے۔ دو چارباتیں اپنی طرف سے بھی پیغام میں شامل کرنا ہماری عادت یا کمزوری ہے۔ خاص طور پر جب بات تڑی اور دھونس جمانے کی ہو۔ تو اس میں مبالغہ کرنا ہم اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ سہولت کار یا رابطہ کار کے ذریعے بات آگے پہنچانے کا رواج عام ہوا تو ہر دفتر میں روز نہ سہی ۔ہردوسرے تیسرے دن لڑائی جھگڑوں کا ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوسکتا ہے جس پر قابو پانا محکمہ تعلیم کے لئے نیا درد سر ہوگا۔لیکن یہ سب ہماری قیاس یا خدشات ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر خدشہ درست بھی ثابت ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم جس حد تک کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں ۔حقیقت میں معاملہ اس سے بھی زیادہ شدت اختیار کرسکتا ہے۔ان سب باتوں سے ہماری مراد محکمہ تعلیم کے اقدامات پر تحفظات کا اظہار یا اعتراض کرنا ہرگز نہیں۔ بلکہ ہم تو ایسے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ہر جنس کو اپنی حد کے اندر رہ کر کام کرنا چاہئے۔ افراط اور تفریط جہاں بھی ہو۔ اس کے مضر اثرات ظاہر ہونا فطری امر ہے۔تاہم ہمارا معصومانہ مشورہ یہ ہے کہ کوئی ایسا فیصلہ عجلت میں نہ کیجئے۔ جس سے کچھ عرصے بعد ردالفساد کے خدشے سے پیچھے ہٹنا پڑے۔ اور اس کا الزام بھی حکومت پر لگے کہ اس نے یو ٹرن لیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى