تازہ ترین

پی ٹی آئی چترال کے ضلعی صدر کا اخباری بیان محض الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے۔پی ٹی آئی کاکام ٹرانسفر کے علاوہ کچھ نہیں۔ایم پی اے ہدایت الرحمن

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)ایم پی اے چترال مولانا ہدایت الرحمن نے جواب آل غزل کے طورپر تحریک انصاف کے ضلعی صدر کے بے سروپا اخباری بیان کو محض الفاظ کا گورکھ دھندہ قرار دیتے ہوئے ہوئے کہا ہے انٹرویو منسوخی کے حوالے سے تحریک انصاف کے صدر کا اپنے حجم سے بڑھکر بیان قابل مذمت اور حقائق سے قوم کو دور رکھنے کی سعی لاحاصل ہے۔جہاں تک حالیہ انٹرویو منسوخی کا تعلق ہے اسکی وجہ محض میرٹ کی بالادستی قائم کرانا ہے۔کیونکہ 15فروری کو مشتہراسامیوں کیلئے19تاریخ کو انٹرویو کا دن طے کرانا ہرگز قریں قیاس نہیں ہے اور اسے میرٹ کا قتل عام ہونے کا بھرپوراندیشہ تھا۔اس پر مستزاد 15اور19فروری کے درمیان دودن کے سرکاری چھٹیاں تھیں۔صرف دودنوں میں چترال کے طول وعرض سے مستحق اُمیدواروں کا حصہ لینا محال تھا۔عدم منسوخی کی صورت میں کئی حقداروں کے جائز حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف تھا۔ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن نے کا کہنا تھا کہ کلاس فور آسامیاں پُر کرانے اور ریلکسیشن لینے کے سلسلے میں کسی کا کوئی بھی کردارنہیں ہے اور یہ میری ذاتی کوششوں سے ہی ممکن ہواتھا۔تحریک انصاف کے عہدیداروں کاکام سیکرٹریٹ میں ڈیرا ڈال کر ٹرانسفر کے علاوہ کچھ نہیںں وہ صرف پھل پکنے کے انتظار میں ہوتے ہیں اور پھر اس پر ناجائزقبضہ جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کو عوام نے مسترد کردیاہے وہ قوم کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے پانچ سال تک انتظارکریں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم غلط طریقہ کار اور کرپشن کے مخالفت کرتے رہیں گے۔ہم عوامی ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں چترالی قوم ہم سے پوچھنے کا حق رکھتی ہے اور ہم بحیثیت منتخب نمائندہ قوم کو جواب دہ ہیں۔ہم کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن نے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کے حوالے سے کہا کہ میں ان کا احترام کرتا ہوں اور ساتھ ہی تحریک انصاف کو خراج تحسین بھی پیش کرتا ہوں کہ اُس نے چترال کو اقلیتی کوٹے پر رکن اسمبلی دیا ہے۔لیکن یاد رہے کہ اپنے مینڈیٹ سے کھیلنے کی اجازت ہرگز نہیں دونگا۔وہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرے اور ضلعی صدر وزیرزادہ کی آڑ میں اپنے شکست چھپانے کی کوشش نہ کرے انکی پارٹی حیثیت حالیہ بلدیاتی الیکشن میں عیاں ہوچکی ہے۔اس پر مزیدکچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق