تازہ ترین

عالمی یومِ مادری زبان (ریڈیو پروگرام جائزہ رپورٹ)

چترال(چترال ایکسپریس) مادری زبانوں کی اہمیت سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے ہر سال 21 فروری کو “عالمی یوم مادری زبان” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے مذکورہ تاریخ کو سہارا چترال، پی-آئی-سی-ایل دروش اور انجمنِ ترقی کھوار حلقہ چترال کی جانب سے ایک شاندار پروگرام ایف-ایم 97 چترال میں منعقد کیا گیا۔ پروگرام میں مختلف ادباء و شعراء نے شرکت کی اور موجودہ دور میں مادری زبانوں کو درپیش چیلنجوں، امکانات اور ترقی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر محفل اور چترال یونیورسٹی کے پرووسٹ ڈاکٹر تاج الدین شرر صاحب نے مادری زبان کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ زبان جیسی نعمت ہے جو انسانوں کو باقی جانوروں سے ممیز کرتی اور ان کی صلاحیتوں کو مہمیز دیتی ہے۔ بڑا ہوکر سیکھی ہوئی زبان کی جگہ ماں کی بولی بچوں میں علم و تربیت حاصل کرنے کے عمل کو تقویت دیتی ہے۔ اس لیے بچوں کی ابتدائی تعلیم ہر صورت میں ان کی اپنی زبان میں دینا ضروری ہے۔ شرکاء میں سے پی-آئی-سی-ایل کے صدر اور مہمان خصوصی اعجاز احمد اعجاز صاحب کا کہنا تھا کہ چترال میں موجود چودرہ زبانوں کو تحفظ اور فروغ دینا وقت کی پکار ہے۔ مگر بدقسمتی سے علاقے میں حقیقی علمی و ادبی کام اور منظم و مشترکہ کوششوں کی جگہ تقسیم اور انفرادی مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے جس سے زبان و ادب اور ثقافت کو خاطر خواہ فائدہ کی جگہ نقصان پہنچ رہا یے۔ مکالمے میں شریک جناب محبوب الحق حقی صاحب نے اعجاز صاحب کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کھوار یا کسی بھی علاقائی زبان کی ترویج میں اہل علم و قلم باہم دست و گریباں رہیں گے مادری زبانوں کی خدمت کما حقہ نہیں ہوسکے گی۔ انہوں نے نصاب سازی سے متعلق اعجاز احمد کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اہل علم، ماہرین تعلیم اور ادباء و شعراء کے آگے آنے کو کہا تاکہ بچوں کو معیاری علمی مواد پڑھنے کو میسر آسکیں۔ ادبی و سماجی تنظیم سہارا چترال کے صدر جناب جی-کے صریر نے مادری زبانوں کے تحفظ و ترویج پر اظہار خیال کرتے ہوئے چند ضروری اقدامات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے نصابی سازی کا عمل تیز کرنے، سکولوں میں اگلی جماعتوں تک جلد سے جلد درسی کتابیں بڑھانے اور بچوں کی اپنے ثقافتی ماحول میں تربیت پر زور دیا۔ انہوں نے جدید الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کو زبانوں کو فروغ دینے، قیمتی ثقافتی اثاثوں اور ذرائعِ اظہار کو الیکٹرانک آلات کے ذریعے محفوظ بنانے اور شعرو شاعری کے علاؤہ نثری صنف میں ادبی کام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ نشست کا دوسرا حصہ شاعری پر مشتمل تھا جس میں ڈاکٹر تاج الدین شرر، شربڑنگ گداز، محمد نواز رفیع، شیر اکبر صبا، اعجاز احمد اعجاز، محبوب الحق حقی، مطیع الرحمان قمر، وارث خان وارث، نقیب سماک ملاکر کل چودرہ شرکاء نے اپنے کلام سے موقع کی مناسبت سے سامعین کو محظوظ کیا۔ پروگرام صدر محفل اور مہمان خصوصی کے مخصوص پیغامات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق