تازہ ترین

بھارت خطے میں دہشت گردی کو فروغ دینے سے باز رہے۔ پاکستانی قوم پاک افواج کے ساتھ ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے بھارتی فضائیہ کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بھارت خطے میں دہشت گردی کو فروغ دینے سے باز رہے۔ پاکستانی قوم ملک کے دفاع کیلئے پاک افواج کے ساتھ ہے۔ انہوں نے وزرا ء کوسابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے دوروں کا شیڈول جلد دینے کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے نئے اضلاع کے 25 سب ڈویژن کیلئے 25 تھانوں کی منظوری دی ہے ۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل قانون کے قیام کیلئے وزیرقانون ، وزیرخزانہ اور وزیر اطلاعات پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو کابینہ کے اگلے اجلاس میں اپنی سفارشات منظوری کیلئے پیش کریگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزراء ، معاونین خصوصی ، مشیروں، چیف سیکرٹری، صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں بھارت کی طرف سے دراندازی کے واقعے کی سخت مذمت کی گئی ۔ وزیراعلیٰ نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی خوش فہمی میں نہ رہے پاک افواج ملک و قوم کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور پوری پاکستانی قوم ملک کے دفاع کیلئے پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ مودی سرکار الیکشن ہتھکنڈوں سے باز رہے۔ انڈیا خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔انڈیا کو چاہئے کہ وہ شدت پسندانہ حرکتوں اور کشمیری عوام پر ظلم کرنے سے باز رہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی محکموں کے بورڈز میں اچھی ساکھ کے لوگ ڈالنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اور کہا کہ اس کی اسمبلی سے منظوری لینگے، ہم شفافیت اور میرٹ کی بات کرتے ہیں۔میرٹ اور شفافیت کے بغیر عوامی فلاح اور مفاد صرف قصہ رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد تمام محکمانہ قوانین رولز ریگولیشن کی توسیع ہوچکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ملازمین کے ریگولیشن میں خامیوں کو دور کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی ،صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا ، شوکت یوسفزئی اور سلطان محمد خان کمیٹی میں شامل ہیں۔کمیٹی اس مقصد کیلئے اپنی سفارشات جلد پیش کرے گی ۔ وزیراعلیٰ نے ادارہ جاتی یاداشت اور علم کوآنے والے نئے افسر کو منتقل کرنے کیلئے منظم طریق کار کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تروسائل غیر ترقیاتی اخراجات تنخواہوں ، پنشن اور دیگر ضروریات پر صرف ہوتے ہیں، ترقیاتی کاموں کیلئے وسائل کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے غیر ترقیاتی اخراجات کم کر کے ترقیاتی و فلاحی بجٹ میں اضافہ کرینگے۔ہم نے ترقیاتی کاموں کیلئے وسائل پیدا کرنے ہیں ، محکمے اس پر ہوم ورک مکمل کریں ، اس سلسلے میں مکمل گائیڈ لائن دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکمرانی میں جذباتی فیصلے نہیں ہوا کرتے، عوامی ترقی ، خوشحالی اور فلاحی فیصلوں کی سوچ اپنانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے اور ترقیاتی حکمت عملی کے نفاذ کیلئے وفاق سے وسائل کی منتقلی کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ خصوصی طور پر پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے واجبات جلد ملنے کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں اے جی این قاضی فارمولا پر عمل درآمد صورت حال کو کافی بہتر بناسکتا ہے مالی حالات بدل سکتے ہیں وزیراعلیٰ نے سوشل ویلفیئر تنظیم للسائل و المحروم کے ایم ڈی کی تقرری کیلئے سمری کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ غفلت اور کوتاہی قابل مواخذہ ہوگی۔انہوں نے پرانی گاڑیوں کوآکشن/ نیلام کرنے کی بھی ہدایت کی۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق