تازہ ترینوقاص احمد ایڈوکیٹ

یہ منظر آج کے دن کے لیے تھا

…….تحریر: وقاص احمد ایڈوکیٹ


ایف ایس سی پاس کرنےکی میری عمر اٹھارہ سال کوپہنچ گیا دوست نے بتایا اٸی ایس ایس بی کی طرف سے اشتہار جاری ہوا ہے کہ پاکستان آرمی میں جاٸن کرنا چاہتے ہو دل باغ باغ ہو گیا جاکر والدہ سے مشورہ کیا چونکہ والدہ نے کہا کہ اپنے والد سے جاکر پوچھو میں تو اپکی طرف سے ارض پاک کی حفاظت کو ایک عبادت سمجھتی ںوں لیکن بیٹا میرے پاس تجھےکرایہ دینے کو کچھ نہیں باہر نکلنے والا تھا والدہ نے پیچھے سےآواز دی بیٹا ایک گائے میں فروخت کرسکتی ہوں میں نے امی کا شکریہ ادا کیا ۔والد صاحب کےپاس گیا ان کو بتایا ابا نے جواب دیا کہ بیٹا حسین دکاندار سے قرض لیکر تمہیں کو دونگا دو سیکنڈ ھنڈ پتلون ،شارٹ اور دو جوڑے کپڑے بہنوں نے دھو لیے صبح اٹھا امی اور ابو نے پیار سے رخصت کیا بہنوں سے انکےسہلیوں نے پوچھا کہ کدھر جارہا ہے، بہنوں نے کہا کپٹن بننےجارہا ہے۔ فارم جمع کیا گیا۔ بلایا گیا ابتداٸی ٹسٹ کوالفائی کیا بھر تمام مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا لیٹرایک ہفتے کے بعدآٸیگا لیٹر کےانتظار میں تھا،لیٹر آگیا خوشی سےآنسوں نکل گئے۔ ماں کو فون کیا ماں نے کہا کہ بیٹا گاٸےکا ایک بھچڑا گھر میں موجود ہے ان کو زبح کیا گیا ہمساٸے مبارک دینے پہنچ گئے۔دودن گزار کر پی ایم اے پہنچا۔ یدایت جاری ہوا ایک جی تھری اور 25کے جی کیٹ آپکے دوست ہونگے تین مہنے تک گھر فون کرنا بند، کمرے سے باہر نکل کر دوڑنا ہی ہے ،لکچر دیا گیا کہ ارض پاک کے لیے آپ وقف ہو چکے ہیں غازی ہونا ہے یا شہید ۔دل تو شہادت چاہتا تھا شہدا اور coas کے تصاویر اویزان تھے دل چاہتا تھا کہ کب سینہ تان کر دشمن کےسامنے لوہے کی دیوار بن جاو مس چارچ۔و اخرجات کاٹ کر 25000 دیا گیا کچھ والدہ کو ارسال کیا پی ایم اے کے کورس مکمل کر نے پر پاسنگ آوٹ کی تیاری مکمل ہوٸی آخر میں انسٹکٹر نے سلوٹ کیا آذاد کشمیر کے لیے تعنات کیا گیا یونٹ پہنچا تو ایک سٹار لگاٸی گئی صبح سلوٹ دیا گیا تو جذباتی ہوکر آنسو نکل گئے دوسری صبح نماز پڑھکر یونیفارم پہن کرشیشہ میں دیکھا کہ چہرے پر کچھ بال نظر آرہے ہیں ۔سوچھا کہ شادی ہو جائے اس دوران چند سینئر افسر افسردگی کے عالم میں میرے کمرے میں آگئے مجھے تسلی سے بیٹنے کو کہا قرآن پاک کے ایات کی تلاوت کی گئی اور مجھے بتایا گیا کہ والد صاحب اس دنیامیں نہیں رہیں بس حوصلہ پست نہیں ہواان سب حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں تربیت دی گئی تھی گھر پہنچا والد کی تجہز تکفین ہوگئی تھی چند دن گزرکرواپس یونٹ پہنچا ایک سال تک چھٹی نہیں ملی ایک سال بعد والدہ کا فون آیا کہ میں عمر کےآخری حصے میں ہوں چاہتی ہوں کہ تمہاری شادی ہو جائے لڑکی میں نے دیکھی ہے میں نےکہا امی جان آپ پر جان قربان مجھے منظور ہے ۔لیکن شادی اگلے سال ہو گی چونکہ پیسوں کا بندوبست کرنا تھا دوسری سال شادی ھوگئی مونچھے بھی نمودار ہوئی ۔ پھر واپس یونٹ پہنچا تو جنوبی وزیرستان تبادلہ کیا گیا ۔پھر کبھی کبھی گھر آنے کا موقعہ ملتا تھا شادی کے تین سال بعد میں نواپاس میں ڈیوٹی پرموجود تھا کہ اطلاع ملی کہ آپ کا بیٹا ہوا ہے ۔خوش ہوا حالات خراب تھی ایک سال تک چھٹی نھیں ملی ایک سال بعد گھر آیا تو بیٹا اٹھ سکتا تھا اور میٹھی میٹھی باتیں شروع کی تھی صبح اپنی زندگی کا پہلی شیو کر کےبیٹے کو لیکر بازار میں تھا کہ فون آیاجلد یونٹ پہنچ جائے وہاں سے واپس گھرآکر یونٹ کے لیے گھر سے نکلا ماں نےرخصت کیا یونٹ پہنچا تو حکم ملا کہ آپ کو ایک مشن پر یو گنڈا جانا ہے یوگنڈا پہنچا چار سال تک چھٹی نہیں ملی جب چار سال بعد واپس ایا تو بیٹے کی میٹھاس ختم ہوچکی تھی اور کے جی میں داخلہ لیا تھا ۔دو مہنے تک چھٹی گزرا پھر یونٹ چلاگیا بتایا گیا اپریشن راہ راست شروع ہوا ہے دھشت گردوں کے خلاف لڑنا ہےایک سال بعد پیغام آیا کہ اپکی بیٹی ہوٸی ہے دل باغ باغ ہو گیا لیکن ایک سال اور گزرنا پڑا ایک سال بعد واپس ایا تو ایک ہفتے تک بیٹی مجھے دیکھکر روتی تھی ایک ھفتے بعد بہ مشکل بیٹی میرے پاس انے لگی ۔اچانک کال آیا کہ جلدی یونٹ پہنچ جاوجب یونٹ پہنچا تو ایل او سی  کے ایک پیکٹ پر پہنچنے کا حکم ایا ایل او سی پہنچ کر ڈیوٹی شروع کی دوسال تک ڈیوٹی دیتا رہا اچانک اطلاع ملی کہ والدہ وفات پا گئی ہے گھر پہنچا تو ماتھے پر چومنے والی اور دعا دینے والی کوٸی نہیں رہی ہے ۔چند دن گزارنے کے بعد یونٹ پہنچا تو کہا کیا اپرشن ضرب عضب شروع ہے خیبر ایجنسی سے دھشت گردوں کو بگانا ہے دو سال تک یہ اپریشن جاری رہا دوسال بعد واپس ایا تو بیٹی سکول جارہی تھی چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس ایا تو حکم ملا کہ سیاچین میں دشمن مشکوک حرکت کر رہی ہے چونکہ میں سینئرافسر بن گیا تھا مجھے سیاچین کے ونگ کی سربراہی ملی دو سال گزرنےکے بعد سایکوٹ تبادلہ کیا گیا وہاں سے چھٹی لیکر گھر پہنچا تو بیٹا فسٹ اٸیراوربیٹی اٹھویں جماعت میں پڑھتی تھی پھر گھر سے یونٹ آیا تو کچھ دفتری زمہ داری مل گئی اور کام کرنے کے لیے عینک کی ضرورت پڑی دو سال بعد اپریشن ردا لفساد شروع ہوا بحثیت سینئر افسر اپریشین کی نگرانی کرتا رہا جب چھٹی پرگھرآیا تو گھر کی مالکن کی سر کے چند بالیں سفید نظرآنے لگی اورجب فوجی ملازمت ختم ہوٸی تو بیٹے اور بیٹی کی شادی ہوٸی اور چند سالوں تک خود جاکر پنشن وصول کرتا رہا پھر ٹیڑا عینک لگاکر بیٹے کی سہارے سے پنشین وصول کرتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہے  ایک پاک سپاہی کی کہانی ۔ماں باپ کی محبت ،بچوں کی شیرینی ،بیوی کی جوانی کہاں ہے ۔اپ اس پر سوچھے کہ قوم اور ملک کا اصل جانثاراور ہیرو کون ہے؟۔۔۔۔۔۔خلاٸی مخلوق کا طنعہ دینے والے درمیان میں کہاں ہیں ؟ ۔وہ کھربوں روپوں کی جاٸداد بنانے والے اورگھوڑوں کو مربع کھلانے والوں کا کوٸی کردار ؟ سوچھے اور آئیے آج ہم اپنےغازیوں کو خراج تحسین اور شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرےاورآج عہد کرکے اپنے اپنے گاوں اورعلاقے کے شہیدوں کے قبروں پرحاظری دینگے اورغازیوں سےملکران کو سلوٹ پیش کرینگے۔ یہ بات ان لوگوں کو پتہ ہوگا جنکے گھر والوں نے شہادت دیکھی ہو یا غازی ۔ پاکستان زندہ باد ،پاک فوج پاٸندہ باد ۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق