تازہ ترین

پیسکو پشاور اور اس کے گرد و نواح میں بجلی کیبلز کو ایریل بنڈلڈ کیبلز میں تبدیلی کا عمل جلد مکمل کرلے گا۔ 

پشاور(چترال ایکسپریس)پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو ) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی ( این ٹی ڈی سی ) نے پشاور اور گرد و نواح میں بجلی کی ناکارہ تاروں کو تبدیل کرکے اے بی سی کیبل بچھانے کا عمل شروع کر دیا ہے ، جو جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ اس امر کا انکشاف اسلام آبا د میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور وفاقی وزیر عمر ایوب خان کی صدارت میں ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ وفاقی وزیر مراد سعید ، خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، سینیٹر فدا حسین، پیسکو اور ٹیسکو کے چیف ایگزیکٹیو افسران ، ایم ڈی این ٹی ڈی سی اور ان کمپنیوں کے تعمیراتی محکموں کے سربراہان نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو اے بی سی یعنی ایریل بنڈلڈ کیبلز کی ساخت ، اس کے دیر پا ہونے اور اس کی افادیت کے حوالے سے بریف کیا گیا ۔ اجلاس میں صوبے کے دور افتادہ علاقوں بشمول نئے ضم شدہ اضلاع میں بجلی کی فراہمی اور سوات میں دو گرڈ اسٹیشنز کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ موسم گرما سے پہلے پیسکو دفاتر کے نچلی سطح پر ٹرالی کے ساتھ انونٹری ٹرانسفارمرز کی کافی تعداد فراہم کی جائے گی تاکہ ٹرانسفر میں کسی بھی مسئلے کی صورت میں متعلقہ فیڈنگ ایریا کو بجلی کی فراہمی یقینی ہو سکے دوسری طرف صوبہ بھر میں ٹرانسفارمر بنانے والی کمپنیوں کو بھی فعال کیا جائے گاتاکہ خراب اور متاثرہ ٹرانسفار مر کی فوری تبدیلی یا مرمت کی جا سکے ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ لوڈ شیڈنگ کی کمی کیلئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں ۔ 16 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کو کم کرکے چار گھنٹوں تک لایا گیا ہے جبکہ بجلی کی چوری بھی پیسکو ، صوبائی حکومت ، کنزیومرز اور عوام کے تعاون سے کافی حد تک کنٹرول کی گئی ہے ۔ اجلاس میں مقامی سطح پر کنزیومرز کے مسائل حل نہ کئے جانے اور اضافی بلوں کے حوالے سے شکایات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کنزیومرز کی شکایات کو مناسب انداز میں دور کرنے کیلئے قابل عمل طریق کار اختیار کیا جائے گا۔ اجلا س میں بجلی چوری اور کنڈ ا کلچر کے خلاف مہم میں عوام کے تعاون کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مقامی عمائدین کے تعاون سے کبل اور مٹہ(سوات ) میں گرڈ اسٹیشنز کے قیام کیلئے زمین کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق