تازہ ترینفرہاد خان

فکروخیال….پی۔ایس۔ایل 4 یا عرب امارات میں “حلال سٹہ”.

متحدہ عرب امارات میں ان دنوں پی۔ایس۔ایل۔فور کے نام سے پاکستانیوں کا ” حلال سٹہ” شروغ ہوچکاہے۔ جس کی پذیرائی کے لئے گزشتہ تین مہینوں سے ملک کے مشہور پرائیوٹ چینلز پرعجیب وغریب گانون کے ساتھ بھرپور پبلسٹی کی گئی ۔ٹیموں کے لئے کھلاڑیوں کے انتخاب سے لے کر انہیں بھاری بھررقوم سے خریداری تک کا تمام مرحلہ نیوز بلٹن میں ہمیشہ سرفہرست ہی رہا ۔چونکہ کراچی کنگز کا سرپرست اے۔ار۔وائی چینل کا مالک سلمان اقبال ہے۔ اس لئے کنگز کی مدح سرائی میں جو حال اے۔ار۔وائی نے اپنے ناظرین کا کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ جنہیں دیکھ کر اور سن کر کان پک چُکے۔اسی طرح جیو ٹی وی لاہور قلندر کی پبلسٹی میں اگے اگے ہے اور وہیں بھی ناظرین کا حال دیکھنے لائق ہے۔ ہنوز یہ پبلسٹی ان چینلز پر جاری و ساری ہے ۔ دیگر ٹیموں کے مالکان بھی اپنے اپنے ٹیم کی کامیابی کے لئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ کروڑون روپے دے کر غیرملکی کھلاڑیوں کو ہرسال دبئی لایا جاتا ہے اوریون پاکستان کے نام پر متحدہ عرب امارات کی معشت کو اربون روپے کا فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔اب اسے سٹہ نہ کہا جائے تو اور کیا نام دیں۔اگر یہ ٹیم مالکان واقعی میں ملک کے خیرخواہ ہوتے تو اپنا پیسہ اپنے ملک میں اسی قوم کے نوجوان ٹلینٹ پر خرچ کرتے۔ اگرغیرملکی کھلاڑی آپ کے ملک آکر کھیلنے میں راضی نہیں تو چھوڑئے اُنہیں، منت سماجت کرکے کسی دوسرے لاکر کروڑون روپے نچھاورکرنا کونسی ملک کی خدمت ہے۔ اس ایک غیرملکی کھلاڑی کو کروڑون میں خرید کر لانے کی بجائے اسی رقم  سے اپنے ملک میں موجود کئی غریب ٹیلٹ کو اوپر لایا جاسکتا تھا ۔سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ اپنے ملک کے میدان آباد کرنے کی بجائے ملک کا پیسہ دبئی اور شارجہ میں خرچ کرکے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور پھر دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان جیت گیا ۔ واہ جی واہ ۔ اب یہ کون سمجھائے کہ اپنے ایونٹ کو کسی غیر ملک میں منعقد کرکے اپنا پیسہ غیرملکی کھلاڑیوں پر نچھاور کرکے بڑے فخر سے پاکستان جیت گیا کے معنی کیا ہے ؟۔ ہان پاکستان واقعی میں جیت جاتا، اگر ملک کے “خیرخواہ ” اور ملک سے وفاداری کے دعویدار پہلے اپنے ملک کے میدان آباد کرتے ،اپنے ٹیلنٹ کو آگے لاتے، کروڑون میں نہیں بلکہ چند لاکھ روپون میں آپ کا اپنا ٹلینٹ سامنے آتا۔ملک کا سرمایہ ملک میں ہی خرچ ہوتا ۔ ملکی میعشت کو تھوڑا بہت سہارا ضرور ملتا ، ملک کے غریب ریڑھی والے سے لے کر ہوٹل مالکان تک سب کو تھوڑا بہت فائدہ ضرور ہوتا۔ملک کے باسی اپنے دیس میں اپنے کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھتے۔ہرسال ملک کا نیا ٹیلنٹ سامنے آتا اور یوں یہ تاثر ملتا کہ واقعی پاکستان اب پرامن ملک ہے جہان اس کے گراونڈ پھر سے آباد ہونا شروغ ہوگئے۔ مگر نہیں۔  یہ جو اجکل کا کرکٹ ہے یہ مشغلے سے زیادہ کاروبار بن چکاہے اور جب  کاروباری زہیں کھیل میں کود جاتے ہیں تو پھر اس کا ستیاناس ہو جانا حیرت کی بات نہیں۔ ۔پھر یہ کھیل، کھیل یا  مشغلہ نہیں بلکہ سٹہ بن جاتا ہے اور یون اجکل کھیل کے نام سے ٹیم مالکان اربوں روپے کے “حلال” سٹے میں مصروف ہیں اور ہم ہیں کہ کام کاج چھوڑ کر دیوانہ وار سلمان اقبال اور دیگر ٹیم مالکان کی ٹیم کے جیتنے کی اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں ۔ سچ بات تو یہ ہے کہ یہ بڑے لوگوں کا سب سے منافع بخش کاروبار بن چُکا جہاں کروڑون کے سودے طے ہوتے ہیں۔ اور اربون کی امدنی کمائی جاتی ہے ۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرنے والے ان چیلنز اور ٹیم مالکان سے مودبانہ گزارش ہے کہ خُدارا اپنے ملک کا سوچیں اس میں سرمایہ کاری کریں ۔اس کے حقیقی ٹیلنٹ کو آگے لانے میں مدد کرین ۔اپنے کاروبار کی خاطر ملک کے نوجوان نسل کا وقت ضائع کرنے کی بجائےانہیں تعلیم اور تحقیق کے میدان آگے لے جانے کا سوچیں ۔ قوم کے مستقبل کا قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے ملک کے حقیقی خیرخواہ قوم کو اس “حلال سٹے ” سے باہر نکل کر کچھ اور کرنے کا پیغام دین تاکہ ملک کا بھلا ہو ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق