تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا۔۔۔۔محب وطن

’’منکہ مسمی محب وطن ساکن اسلام آباد پاکستان آج کے بعد کسی عالم دین، وکیل، اُستاد، اخبار نویس، سرکاری افیسراور سیاستدانوں سے کوئی رابطہ نہیں رکھونگا‘‘ یہ اُس حلف نامے کا ابتدائیہ ہے جو میرے دوست نے مجھے بھیجا ہے میرے دوست کے پاس ایک دستاویز ہے اُس میں کہا گیا ہے کہ دشمن نے پاکستان کے خلاف نئی جنگ کے لئے چار طبقوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے علمائے دین کو استعمال کیا جائے گا سیاستدانوں کو استعمال کیا جائے گا وکلاء، اخبار نویسیوں،اساتذہ اورسول افیسروں کو استعمال کیا جائے گا


علماء کو مذہب کے نام پر میدان میں لایا جائے گا، سیاستدانوں کوجمہوریت کا لبادہ پہنایا جائے گا وکلاء، اساتذہ اور صحافیوں کو انسانی حقوق، سول سوسائیٹی اور شہری آزادی کے پُر فریب نعرے دیئے جائینگے سول انتظامیہ کو قانون کے نام پر ملک اورقوم کےخلاف استعمال کیا جائے گا اس لئے محب وطن عوام کو ان کے قریب نہیں جانا چاہیے بلکہ ملکی ادارے اورانسٹیٹوشن کے ساتھ وفاداری نبھا نی چاہیے حلفیہ بیان کی رُو سے محب وطن آدمی اکیلا ہوتا ہے 21کروڑ کی آبادی میں جو شخص کسی عالم دین،کسی سیا ستدان،کسی وکیل،اخبارنویس،استاداورسول انتظا میہ کےافیسر کا دوست نہ ہو،ایسےشخص کو محب وطن سمجھا جائے گا،جس شخص کی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوستی ہو وہ ہرگزمحب وطن نہیں ہو سکتا مجھے یہ بیاں حلفی پڑ ھ کر 1993 میں ملاکنڈ ڈویژن کے ضلع اپر دیر کے مقام میدان سے جاری ہو نے والا گشتی مراسلہ یادآیا گشتی مراسلے میں ملا کنڈ ڈویژن کےعوام کو خبردار کیا گیا تھا کہ چار قسم کے لوگ مسلمان نہیں ہیں نفاذ شریعت کے مخالف ہیں،اُن چار قسم کے لوگوں سے دور رہ کر شریعت کے نفاذ کے لئے اخلاص کے ساتھ کام کر و دنیا اور آخرت میں فلاح پا ؤ گے جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ان کی پہلی قسم وہ ہے جو کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی رکھتے ہیں دوسری قسم وہ ہے جو جمہو ریت اورانتخا بات کو جا ئز سمجھتے ہیں تیسری قسم وہ ہے جو ووٹ میں اُمید واربن کر سامنےآتےہیں اورووٹ مانگتے ہیں چوتھی قسم وہ ہے کہ کسی کو ووٹ دیتے ہیں یہ چاروں دائرہ اسلام سےخارج ہیں یہ گشتی مراسلہ ہماری مسجد میں پڑھ کر سنا یا گیا تو ایک بزرگ نے کھڑے ہو کر کہا اگر یہ سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو پھر ملا کنڈ ڈویژن کی ساری آبادی غیر مسلموں کی ہو گئی شریعت کس پر نافذ کر ینگے؟ مسجد میں خا مو شی ہو ئی کچھ دیر بعد اُس بزرگ نے کہا خدا کے لئے لوگوں کو اسلا م کی طرف بلا ؤ اسلام سے خارج مت کرو یہی حال ’’محب وطن‘‘ کا ہو گیا ہے اگر علما ئے دین، سیا ستدانوں، قانون دانوں، صحافیوں، پروفیسروں اور پڑھے لکھے لوگوں کو سول انتظا میہ کے افیسروں کے ساتھ ملا کر محب وطن کے درجے سے گرادیا گیا تو باقی کو ن بچے گا ؟ پھر وطن کے کیا معنی ہو ئے اور محب وطن کے کیا معنی ہو ئے؟

انگریز ی میں دو متضاد الفاظ اس صورت حال کی تصویر کشی کرتے ہیں ایک لفظ ہے’’ایکسکلوزیو‘‘ دوسرا لفظ ہے ’’انکلوزیو‘‘ ایکسکلوزیو کا مطلب ہے سب کو باہر نکال کر خود اکیلے رہو و انکلوزیو کا مطلب ہے سب کے ساتھ رہو، سب کو ساتھ لےلو ،اور سب کو لیکرآگے بڑھو یہ اسلا م کا بھی اصول ہےاسلام سب کو ساتھ لیکر چلنے کا درس دیتا ہے سب سے الگ تھلک ہو نے کا اصول ابوجہل کا تھا اس اصول کو اپنا کر ہٹلر نے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو برباد کر دیا قومی زندگی میں سب کو ساتھ لیکر چلنے کا اصول کارفرما ہوتا ہے امریکہ اورچین کی ترقی کا راز یہی ہے ترکی اورانڈ و نیشیا کی طاقت کا راز بھی یہی ہے دنیا کی دیگر قوموں میں سے جس قوم نے ترقی کی ہے وہ سب اس اصول پر کاربند ہیں

پاکستان کی ابادی کا بڑ احصہ علماء، سیاستدانوں اورسول سو سائیٹی کے نامور لوگوں پر مشتمل ہے اس میں قانو ن دان، صحافی، اساتذہ اور دوسرے پڑ ھے لکھے لوگ شامل ہیں باقی قوم ان کی پیر وی کر تی ہے سب مل کر پاکستانی قوم کہلا تے ہیں اگران سب لوگوں کو محب وطن کے زمرے سے الگ کیا گیا توپھر محب طن کون رہ جا ئیگا ؟ اسطرح کا بیا نیہ منظر عام پر لا کر ہم خود اپنے پا ؤں پر کلہاری کا وار کرینگے پھر ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہے گی اس کے مقابلے میں مثبت اور کار آمد بیا نیہ یہ ہے کہ پاکستان کےعلماء،سیاست دان،وکلاء صحافی، پڑھے لکھے لوگ، اساتذہ اورسول سو سائیٹی کے تمام کارکن اپنےادارے یاانسٹیٹو شن کے ساتھ ہیں سول انتظا میہ کےحکام بھی اپنےادارے یا انسٹیٹو شن کے ساتھ ہیں اور سب کے سب محب وطن ہیں میراحلفیہ بیان یہ ہوگا کہ منکہ مسمی محب وطن پاکستانی اپنےعلماء سیا ستدانوں،وکلا ء، صحافیوں، سول سو سائیٹی کے فعال کارکنو ں اور سول انتظا میہ کےحکام کے ساتھ ہوں، ہم سب اپنے ادارے انسٹیٹو شن اور فوج کے ساتھ ہیں اوپر پاکستان کا پر چم ہے اور’’اس پر چم کے سایے تلےہم ایک ہیں‘‘ یہ وہ مثبت بیا نیہ ہے جو دشمن کی نیند یں حرام کر دیگا نہ کہ وہ بیا نیہ جس میں 21 کروڑ کی آبادی کو الگ کر کے ادارہ یا انسٹیٹو شن کو الگ کیا گیا ہے سب کو الگ کر نے اور دائرہ حب الوطنی سے نکا لنے کا عمل 1993 ء میں ملا کنڈ کے لوگوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر کے نفاذ شریعت کا مطا لبہ کر نے کے مترادف ہو گا مرزا غالب نے دو مصرعوں میں گویا دریا کو ایک کوزے میں بند کر دیا ہے
وفا کیسی ! کہاں کا عشق ! جب سرپھوڑ نا ٹھہر ا
تو پھر اے سنگِ دل تیرا ہی سنگِ آستا ں کیو ں ہو

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق