تازہ ترین

مردان ،سوشل میڈیاپربعض عناصرکی جانب سے پھیلانے والے خبرویں من گھڑت اورجھوٹ کا پلندہ ہے۔راحت اللہ

مردان (چترال ایکسپریس) واٹر اینڈ سینٹیشن سروسز کمپنی کے ترجمان راحت اللہ نے سوشل میڈیا پر بعض عناصر کی جانب سے پھیلانے والے خبروں کو من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کے وجود میں آنے کے بعد شہری علاقوں میں صفائی کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔یہاں جاری کردہ ایک بیان میں ترجمان نے کہاہے کہ کمپنی نے ملازمین کو یونیفارم اور جدید مشینری مہیا کی ہے جس سے صفائی، نکاسی آب اور صاف پانی کی فراہمی میں واضح تبدیلی آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ مختلف بلدیاتی نمائندوں نے کمپنی کے کردار کو سراہتے ہوئے ملازمین کو توصیفی اسناد سے بھی نوازا ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹی ایم اے دور میں صفائی کی صورتحال ابتر تھی اور شہر کے تمام چودہ یونین کونسلوں میں سالہاسال سے گندگی کے بڑے بڑے ڈھیر پڑے تھے جسے کمپنی نے جدید اور محفوظ طریقے سے صاف کیا ۔انہوں نے سوشل میڈیا پر بعض عناصر کی جانب سے جن یونین کونسلوں میں صفائی نہ ہونے کا ذکر کیا ہے وہاں کے عوام سابقہ نظام کے بجائے موجود ہ نظام سے کافی مطمئن ہیں۔ کلپانی نالہ کے کناروں پر کچرے کے ڈھیر ٹی ایم اے دور کے ہیں کمپنی نے اپنے اہلکاروں کو ان کناروں کے اطراف میں گند اور کچرا پھینکنے سے سختی سے منع کیا ہے اور اسکی صفائی بھی کی جارہی ہے۔اسی طرح ٹی ایم اے دور میں کنٹینروں کی شدید کمی تھی جبکہ کمپنی نے مختلف یونین کونسلوں میں اس کمی کو کافی حد تک پورا کیا ہے اور خاص طور پر یونین کونسل سکندری میں ٹی ایم اے دور میں کوئی کنٹینر نہیں تھا جبکہ کمپنی نے وہاں پر تین کنٹینر رکھ دیے ہیں ۔اسکے علاوہ مختلف یونین کونسلوں میں کچرا اکٹھا اور اسے محفوظ طور پر منتقل کر نے کے لئے چھوٹی گاڑیاں فراہم کی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ٹی ایم اے نے سماء معاہدے کے تحت پینے کے صاف پانی کی فراہمی سکیموں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لئے نومبر2016میں صرف ایک سہ ماہی قسط جو کہ دو کروڑ بیس لاکھ روپے بنتی ہیں ادا کئے ہیں جبکہ دسمبر 2016سے اگست2018تک ساڑھے انتیس کروڑ روپے کمپنی کو ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں منتقل کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ستمبر2018سے فروری2019تک ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں کمپنی نے اپنے وسائل سے دس کروڑ روپے ادا کئے ہیں جو کہ ٹی ایم اے کی ذمہ داری بنتی ہے لیکن تحصیل کونسل کی قرار داد کے باعث تنخواہوں کی ادائیگی روک دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ تحصیل کونسل کی قرار داد کی منظوری کے باعث کمپنی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومت نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئےat source deduction کی جو26کروڑ روپے بنتی ہے ۔اس کے علاوہ دیگر مدوں جیسے گاڑیو ں کی مرمت ،ٹیوب ویلوں کی مرمت ،بجلی اور تیل کے بلوں کی ادائیگی بھی ٹی ایم اے کے ذمے تھی لیکن وہ بھی کمپنی کو نہیں کی جارہی ہے مگر اس کے باوجو دبھی کمپنی نے ملازمین کو ڈیپوٹیشن الاؤنسزکی مد میں چار کروڑ 83لاکھ روپے کی ادائیگی کی ہے۔انہوں نے کہاکہ کمپنی اپنے محدود وسائل کے باوجود عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں جس کا ثبوت ٹی ایم اے کے دائرہ کار میں موجود تمام یونین کونسلوں کے عوام کے پرزور مطالبات ہیں جو کمپنی کی خدمات کی فراہمی کا دائرہ کار ان یونین کونسلوں تک بڑھانے کے خواہشمند ہیں اور بار بار درخواستیں ارسال کررہے ہیں ۔ جہاں تک خدمات کے عوض ادائیگی کی بات ہے تو اس کی وضاحت کمپنی بار بار کر چکی ہے کہ کمپنی کسی بھی شخص یا ادارے کے ذاتی خدمات کی حصول کی صورت میں معاوضہ طلب کرنے کی پابند ہے جو صوبائی حکومت کے احکامات کے عین مطابق ہے اور جہاں تک سیکرٹریٹ اور جنرل بس سٹینڈ کی صفائی کی بات ہے تو اسکے لئے اپنا مخصوص بجٹ اور عملہ پہلے ہی سے موجود ہوتا ہے کمپنی وہاں پر خدمات کی فراہمی کی پابند نہیں ہے جبکہ بازاروں ، گلی کوچوں اور سڑکوں کی روزانہ معمول کے مطابق صفائی کی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دے رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کمپنی لیبر قوانین کی خلاف ورزی کی بھی بھر پور تردید کرتی ہے۔ کمپنی اپنے تمام اہلکاروں کو قانون کے مطابق تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ادائیگی کرتی ہے جبکہ پرائیویٹ اہلکاروں کی ادائیگیاں پرائیویٹ ٹھیکیدار کے ذمے ہیں جو ان تمام ملازمین کی انشورنس اور ای او بی آئی کا پابند ہے۔کمپنی کے ترجمان نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ کمپنی کمرشل بنیادوں اور صرف سر سری طور پر دکھاوے کے لئے کام کر کے محدود وسائل استعمال کر کے منافع کما رہی ہے بلکہ مینجمنٹ کے بہترین اور جدید اصولوں کو بروئے کار لا کر کم خرچ بالا نشیں کے اصولوں پر کاربند ہے کیونکہ بہترین اور قابل انتظامیہ محدود وسائل کے اندر رہ کر بہترین خدمات کی فراہمی پر یقین رکھتی ہے۔کمپنی کے ترجمان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہاکہ جو عناصر کمپنی کو بدنام کرنے کے لئے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم کو استعمال کر کے منفی پروپیگنڈا اور غلط بیانی کر رہے ہیں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عند یہ دیا ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق