تازہ ترین

ضلعی نائب ناظم اسد علی کشمیری کا نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے محمدشہزاد ارباب اور صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی سے ملاقات

مردان (چترال ایکسپریس ) ضلعی نائب ناظم اسد علی کشمیری نے نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے وزیر اعظم کے مشیر محمدشہزاد ارباب اور صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی سے ملاقات کی ۔ملاقات میں ضلع کونسل کے خاتمے کی مجوزہ تجویز اور نئے بلدیاتی نظام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ضلع نائب ناظم اسد علی نے انہیں بلدیاتی نظام کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلدیاتی اداروں کا مقصد عوام کو گھر کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اگر بلدیاتی اداروں کو مالی،انتظامی اور سیاسی اختیارات دیے گئے تو عوام کے سو فیصد مسائل حل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبے میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے حکومت نے جو ڈرافٹ تیا ر کیا ہے اس میں ضلع ناظمین اور نائب ناظمین کی تجاویز کو شامل کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ عوامی نمائندوں کو عوام کے مسائل کا احساس ہوتا ہے اور بلدیاتی اداروں کو مضبوط کر کے ہی عوامی مسائل میں کمی آسکتی ہے۔انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر کوبتایاکہ2015سے اب تک جتنے بھی اضلاع کو ترقیاتی بجٹ میں جو کٹوتی کی گئی ہے اسکی فراہمی کوجلد از جلد یقینی بنایا جائے تاکہ مفاد عامہ کے ادھورے منصوبے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر محمد ارباب شہزاد نے ضلعی نائب ناظم مردان اسد علی کو یقین دلایا کہ مقامی حکومتوں کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مشاورت کی جائے گی اور انکے ویژن کے مطابق مقامی حکومتوں کو اختیارات اور وسائل فراہم کریں گے۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت عوام کو اختیارات دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اسکے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتیں اپنی مقرر ہ وقت پر ہی تحلیل کی جائے گی۔ملاقات کے موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہاکہ تحریک انصاف نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ عوام کے پاس اختیار ہو گا اور صوبے میں اختیارات عوام کے پاس ہے ۔نئے بلدیاتی نظام میں اختیارات کوحقیقی معنوں میں نچلی سطح پر منتقل کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ عوام کو گھر کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے کے لئے صوبائی حکومت نے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق