تازہ ترینخالد محمود ساحر

حقیقت بزبان عام۔۔۔۔۔وہ انوکھی جنگ جس میں لڑنے کے لئے پہلے دوست بننا پڑتا ہے۔

……..تحریر: خالد محمود ساحر…….


بعض لوگوں نے اپنا وغیرہ بنا لیا ہے کہ دوسروں کے الفاظ کو ٹٹولتے ہیں اور بزعم خود منصف بن کر فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ کون درست ہے اور کون غلط بیانی کر رہا ہے۔ان کے نزدیک وہ خود اور وہی لوگ درست ہیں جن کے الفاظ ان کے خیالات کے موافق ہو۔
ان حضرات نے غالب کے اس شعر کو کچھ ذیادہ ہی سنجیدہ لیکر خود سے بھی منسوب کر رکھا ہے۔
کہتے ہیں غالب کا ہے انداز بیاں اور
” میرے الفاظ سر تا پا درست اور پتھر کی لکیر ”
ایسوں کو ہر لفظ مولا کہہ سکتے ہیں یا ان سے متعلق چپ ہی سادہ لینا بہتر ہے وگرنہ ان کے منہ سے نکلنے والے جملوں کا اندازہ نہیں۔
آج کے دور میں باہمی بیٹھک، محافل و مجالس گو کم ہیں لیکن سماجی رابطوں کے ذرائع (فیس بک،ٹوئٹر وغیرہ) میں مختلف موضوعات پر بحث ومبحاثہ گرم رہتا ہے۔ایک دوسرے کی خوب کھچائی ہوتی ہے ۔بزبان موبائیل جنگ کے نقارے بجائے جاتے ہیں۔فیس بک اور ٹوئٹر میدان جنگ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
جنگ سے مراد ہی دشمن سے زور آزمائی ہے لیکن یہ وہ واحد اور انوکھی جنگ ہےجہاں لڑنے کے لئے پہلے دوست بننا پڑتا ہے۔
لڑائی ختم کرنے کے لئے دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا جاتا ہے لیکن اس جنگ میں جو سبقت لے جائے اس سے دوستی توڑ دی جاتی ہے۔فیس بک کی زبان میں اسے بلاک یا ان فرینڈ کرنا کہتے ہیں۔یوں نہ رابطہ باقی رہتا ہے اور نہ ہی لڑائی کی گنجائش ۔
اس میں جیت اور ہار کا تعین مشکل ہے۔البتہ بلاک ہونے والے کو آدھا فاتح کہا جاسکتا ہے۔
اس مباحثے (جنگ) میں چار فریق بن جاتے ہیں۔
پہلا فریق ان خیالات کی حامی بھرتا ہے شواہد پیش کرتا ہے اوران الفاظ کے حق میں بلند بانگ شور مچاتا ہے۔چاہے اس بات کے خلاف بڑے سے بڑا دلیل پیش کیا جائے تاریخی پس منظر سے حوالہ دیا جائے وہ کسی صورت حمایت نہیں چھوڑتا۔
دوسرا فریق ان خیالات کے بالکل مخالف ہوتا ہے۔
کسی بات کا حوالہ جب تک تاریخ سے نہ دیا جائے بات چاہے کتنی ہی پختہ اور حقیقی کیوں نہ ہو من گھڑت لگتی ہے۔(جتنی منہ اتنی باتیں)
اسی لئے بات دفاع کی کے لئے تاریخی دلائل ڈھال کی صورت اشد ہیں۔
بڑے سے بڑا حقیقی واقعہ بھی ایسے لوگوں کو ٹس سے مس نہیں کر پاتا یہ اپنے ضد پر قائم رہتے ہیں اور مخالفت کا علم ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
ایسوں کو آگر خود قائد بھی نظریہ پاکستان کی طرف راغب کریں تو بھی مخالفت سے دریغ نہیں کریں گے۔۔
تیسرا فریق اس معاملے میں چپ سادھ لینے کو غنیمت سمجھتا ہے۔نہ لڑائی کو ہوا دیتا ہے اور نہ ہی اس میں حصہ لیتا ہے۔ان ذرائع کا محض تفریح اور باہمی رابطے کے لئے استعمال پر اکتفا کرتا ہے۔
چوتھا اور آخری فریق لڑائی کا شیدائی ہوتا ہے۔نہ گھر کا ہوتا ہے اور نہ ہی گھاٹ کا۔پہلے کے دونوں فریقوں میں لڑائی کروانے کے تگ و دو میں رہتا ہےاور موقع پاتے ہی تیر چھوڑت دیتا ہے۔
اس لڑائی میں یہ دو حربے استعمال کرتا ہے اور دونوں ہی کارگر ثابت ہوتے ہیں۔
چونکہ ملک میں جمہوریت ہے۔حق رائے دہی سب کو حاصل ہے۔سیاسی جماعتیں اورسیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں۔
پہلا ہتھیار یہ ان سیاسی اختلافات کو بناتا ہے۔چاہے بات جو بھی اسے سیاست سے جوڑ کر سیاسی لڑائی کرواتا ہے۔
پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی۔
ہم سب کو پاکستان اور ہمارے دین سے محبت ہےاور اسی محبت کو یہ اپنا حربہ بنا لیتے ہیں اور ہم پر داغتے ہیں۔مذہب کے نام پر لڑائی کو فروغ دیتے ہیں اور دین کے نام پر لوگوں کو اکساتے ہیں۔
بات چاہے ملک کی ترقی، اقلیتوں کے حقوق،سیاحت، ووٹ، دوسرے ملکوں کے ساتھ باہمی تعلقات عرض جس موضوع سے ہو اسے توڑ مروڑ کر مذہب کے خلاف گردانتے ہیں اور مسلمانوں جو بھائی بھائی ہیں ان کے درمیاں پھوٹ ڈالنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں ۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ کونسا فریق درست ہے اور کونسا غلط؟
کسی بات کی حمایت یا اس کی مخالفت کرنے کے لئے اس بات کو سرے سے پرکھنا ہوگا، حقیقت پسند ہونا پڑے گا اس سے متعلق تاریخی پس منظر کو دیکھنا ہوگا۔تب جاکر کسی بات کی مخالفت یا حمایت کی جاسکتی ہے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر یعنی اچھے باتوں کی تلقین اور برے باتوں کی مذمت ہمارا اخلاقی فریضہ اور اللہ رب لغزت کا حکم ہے۔لیکن سب سے ضروری غلط(جھوٹ ) اور درست (سچ)میں فرق کرنا ہے جسکے لئے ہمیں فرقان حمید (قرآن) سے رجوع کرنا ہوگا جو ہر قسم کے جھوٹ سے پاک اور سچ کا علمبردار ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق