تازہ ترین

 شارپ کے زیر انتظام یورپین یو نین ہیومنٹیرین ایڈ اور آئی سی ایم سی کے تعاون سے چترال پریس کلب میں ایک روزہ سنسٹائزیشن ورکشاپ کاانعقاداآ

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پریزنر ز ایڈ ( شارپ )کے زیر انتظام یورپین یو نین ہیومنٹیرین ایڈ اور آئی سی ایم سی کے تعاون سے ایک روزہ سنسٹائزیشن ورکشاپ برائے سول سوسائٹی اور میڈیا چترال پریس کلب میں منعقد ہوا ۔ جس میں سول سوسائٹی کے نمایندگان اور چترال پریس کلب کے جملہ صحافیوں نے شرکت کی ۔ اس موقع پرا نچارج شارپ چترال قاضی سجاد ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان جنگ کے لاکھوں مہاجرین کو رہائش اور دیگر سہولت مہیا کی ۔ آج بھی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں قیام پذیر ہے۔ انہوں نے کہا ۔ کہ شارپ کے زیر انتظام ان مہاجرین کے مسائل معلوم کرکے ان کی مدد کی جاتی ہے ۔ جس میں عدالتی سطح پر امداد بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مہاجرین کے مسائل کو سمجھنے اور ان کی ہر ممکن مدد کوکیلئے پولیس ، صحافیوں اور عدالتی اسٹاف کی ٹریننگ اس سلسلے کی کڑی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اگست 2016سے چترال میں دفتر کے قیام کے بعد افغان مہاجرین سے قریب ترین روابط استوار کرکے ان کے مسائل کے بارے میں معلومات اکھٹی کی جاتی ہیں ۔ اور پھر متعلقہ اسٹاف ان کے حل کیلئے اقدامات کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکو مت نے افغان مہاجرین کو بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دی ہے ۔ تاہم چترال میں ابھی تک یہ سہولت صحیح معنوں میں مہاجرین کو حاصل نہیں ہیں ۔ اس موقع پر مہمان خصو صی سابق صدر پریس کلب محکم الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اسلام بنی نوع انسان کی خدمت ، مدداور عزت کرنے کا درس دیتا ہے ۔ جبکہ تکلیف سے دوچار مسلمانوں کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔ افغان مہاجرین ہمارے بھائی ہیں ۔ کڑے وقت میں اُن کی مدد کرکے ہم نے اپنا فریضہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ دوسرے شہروں کی نسبت چترال میں افغان مہاجرین کے ساتھ مقامی لوگوں کے ساتھ رویہ انتہائی طور پر اچھا رہا ہے ۔ کیونکہ چترال کے لوگ امن پسند اور دوسروں کی عزت کرنے والے ہیں ۔ ورکشاپ کے اختتام پر نے مہمان خصوصی کو شارپ کی طرف سے شیلڈ پیش کیا گیا ۔ جبکہ سنیئر صحافی شہریار بیگ اور پی پی پی رہنما فضل لربی نے نگہت سیمہ ، عشرت فاطمہ اور فارا کو ان کی خدمات کے اعتراف میں سرٹفیکیتس دیے گئے ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق