تازہ ترینجی کے سریر

چترال میں لینڈ سیٹلمنٹ اور حقائق ۔۔۔۔۔۔۔۔قسط-1: پس منظر

……تحریر: جے کے سریر……..
ضلع چترال میں سیٹلمنٹ اور لینڈ ریکارڈ کا کام گزشتہ پندرہ سالوں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ ابھی تک تقریباً 70٪ کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ جون 2019 تک سارے ریکارڈ کو حتمی شکل دےکر داخل دفتر کیا جائے گا۔ آخری مراحل تک پہنچتے پہنچتے چترالیوں کو احساس ہوچلا ہے ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور بہت سارے معروضی حقائق کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ان سطور میں ہم جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ اصل حقیقت کیا کچھ ہے اور چترال کے باشندوں کے پاس انتخاب کی کونسی راہیں کھلی ہیں۔
چترال میں لینڈ ریکارڈ کا موجودہ عمل ملاکنڈ ڈویژن کے لیے مختص لینڈ ڈسپیوٹ انکوئری کمیشن رپورٹ کے تناظر میں 1975 کو جاری شدہ نوٹیفکیشن پر مبنی ہے۔ مذکورہ نوٹیفکیشن بنیادی طور پر چترال کے الحاق کے بعد سابقہ حکمرانوں/شہزادوں اور حکومت پاکستان کے درمیاں اثاثوں کی تقسیم سے متعلق ہے جس میں سرکاری املاک کی تفصیل کے علاؤہ سابقہ حکمرانوں کی نجی ملکیت کا ذکر ملتا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق دو شق زیادہ دلچسپی کے باعث ہیں جن میں تمام پہاڑ، جنگلات، چراگاہ، شکار گاہ، غیر آباد زمینات، معدنیات وغیرہ اور دریا کنارے علاقے یعنی ریور بیڈ حکومتی املاک قرار دیے گئے ہیں۔ اسی طرح تمام سرکاری دفاتر بشمول ان عمارات اور قلعوں کے جنہیں اس وقت کے حکمران اور گورنر سرکاری حیثیت سے زیر استعمال لاتے تھے سرکاری املاک میں شامل کیے گئے ہیں۔
سابق حکمرانوں کے ساتھ اس سمجھوتے کےعلاؤہ چترال میں ہر جگہ انسانی بستیوں سے متصل صدیوں سے لوگوں کے تصرف میں رہنے والی چراگاہوں،غیر آباد جگہوں وغیرہ کی تسلی بخش تفصیل و تشریح نہیں ملتی یا ان کے لیے الگ سے اصول وضع نہیں کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی درجہ بالا شقوں کی مناسبت سے موجودہ حالات کے مدنظر یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ 1975 کے نوٹیفکیشن کی پوری دیانتداری اور اس کی روح کے مطابق تعمیل نہیں ہوئی ہے۔ سرکاری قرار دیے جانے والے بہت سے جنگلات، چراگاہیں، قلعہ جات وغیرہ آج بھی لوگوں کی نجی ملکیت میں ہیں، چند عدالتی کارروائیوں کے زریعے سرکاری ملکیت کے اصول کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے جبکہ کئی ایک قانونی چارہ جوئی میں اجتماعی املاک پر نجی ملکیت کے دعوے داروں کو شکست کھانی پڑی ہے۔
حالیہ دنوں میڈیا میں سیٹلمنٹ کے محکمے پر علاقے کے مخصوص حالات، رواجات اور رسومات کو خاطر میں نہ لانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کافی دنوں کی چھان بین کے بعد راقم آخری تجزیے کے طور پر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ موجودہ وقت میں متعلقہ محکمہ قانونی حدود اور چترال میں گزشتہ ایک عشرے سے زائد جاری لینڈ ریکارڈ کے طریقہء کار کے اندر فرائض کی انجام دہی میں کسی حد تک حق بجانب ہے۔ درحقیقت علاقے میں سیٹلمنٹ کے موجودہ تنازعات کے زمرے میں آغاز کار سے مخاصمت، غفلت اور ناواقفیت کی مرتکب تمام تر سیاسی قیادت کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ محکمے کے ابتدائی زمہ داروں پر لازم تھا کہ وہ دیواروں پر نوٹس آویزاں کرنے کے علاؤہ پیمائش اور ریکارڈ اکھٹے کرتے وقت عوامی شعوروآگہی اُجاگر کرنے کا خاطرخواہ انتظام کرتے۔ یوں لگتا ہے کہ لینڈ ریکارڈ کی جملہ پیچیدگیوں سے متعلق ابتدائی دنوں میں عوام الناس کو جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔
علاقے کی مخصوص روایات سے متعلق امور پر باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اصول و ضوابط کہ جنہیں “ملکی دستور” کا نام دیا جاتا ہے ہر علاقے کے لینڈ ریکارڈ کے آخر میں “واجب العرض” نام کی دستاویز کی صورت میں لف کیے جائیں گے جن میں وہاں کے مراسم و رواجات وغیرہ کی پوری تفصیل ہوگی۔ مگر کیا وہ لازماً لوگوں کے جملہ مفادات کے عین مطابق ہوں گے، اس کا جاننا بہت ضروری ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق