تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ….اسلام کا خو ف

علا مہ اقبال نے 100 سال پہلے ایک بات کہی تھی وہ بات درست ثابت ہو رہی ہے
میخا نے کی بنیاد میں آیا ہے تزلز ل
بیٹھے ہیں اس فکر میں پیرانِ خرابات
واشنگٹن ، پیرس اور لند ن سے لیکر نیو یارک ، دہلی اور جینوا تک ایک ہی بات زیر غور ہے اسلا م کے ساتھ کیسے نمٹا جائے ؟ یہ ایسا مذہب ، ایسا نظر یہ ہے جس کو جتنا دبا تے ہیں اتنا یہ پھلتا ،پھو لتا اور پھیلتا ہے اصطلا حی زبان میں اس طرز فکر کو ’’ اسلا مو فو بیا ‘‘ یعنی اسلا م کا خوف کہا جاتا ہے ملک کے مشہور جغرافیہ دان پروفیسر اسرار الدین اس بات پر نا لاں اور پر یشان ہیں کہ عیسا ئیوں ، یہو دیوں اور ہند و وں کو سود سے پاک معیشت کا خوف ہے انسانی مساوات پر مبنی معاشرت کا خوف ہے سفارش اور رشوت سے پاک عدالت کا خوف ہے جو اسلا م کی خصو صیات ہیں مسلما نوں کی صفوں میں بیٹھے ہو ئے حکمرانوں ، با دشاہوں ، سیاستدانوں اور دانشوروں کے ایک بڑے موثر طبقے کو اسلام کا خوف کیوں ستا تا ہے ؟ مسلمانوں کا اشر ا فیہ طبقہ اسلام سے دور کیوں بھا گتا ہے ؟ یہ طبقہ اسلا می نظام حکومت اور اسلامی شریعت سے کیوں خو ف زدہ ہے ؟ آخر اس خوف کی وجہ کیا ہے ؟ علما ئے حق نے اس بات کی بے شمار و جو ہات سے پر دہ اُٹھا یا ہے یہاں فقہی اور شرعی مبا حث کی گنجا ئش نہیں ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کر نا کا فی ہو گا آج کل کے مسلما ن اشر افیہ ، جاگیر دارطبقہ ، سرمایہ دار طبقہ ، حکمرانوں طبقہ اور دانشور طبقہ وہی ہے جو 717 عیسوی میں شام ،عراق اور حجاز کے اطراف وا کناف میں مو جو د تھا عمر بن عبد العز یز کو 35 سال کی عمر میں خلافت کے تخت پر بٹھایا گیا تو بنو اُمیہ کے بڑے بڑے سردار، شہز ادے ، تاج وتخت کے دعو یدار ، طلبگار اور بڑے بڑے شاہی عہد ں کے اُمید وار ’’ اسلا مو فوبیا ‘‘ کا شکار ہو گئے بنو اُمیہ کے اکا برین نے عمر بن عبدالعز یز کو ’’اپنے پا ؤ ں پر کلہاڑی مارنے والے نادان ‘‘ کے لقب سے نوا زا وجہ کیا تھی ؟ وجہ یہ تھی کہ عمر بن عبدالعزیز نے اسلا می نظام نافذ کیا تھا اور اپنے گھر سے اسلامی نظام کے نفاذ کا آغاز کیا تھا اپنی جا گیر واپس کر دی ، بیوی کے زیورات بیت المال میں جمع کرادیے،بنو امیہ کے شہز ادوں کی تمام مراعات واپس لے لی گئیں ، معیشت کو اسلا می بنیادوں پرمنظم کیا گیا ، قاضی کی عدالت میں قرآن و سنت کے مطابق فیصلے ہو نے لگے کوئی جا گیر دار ، کوئی سپہ سالار ، کوئی شاہی اہلکار ، کوئی درباری ، کوئی بڑا تاجر اور صنعتکار قانو ن کی گرفت سے نہیں بچ سکتا تھا قیتبہ ابن مسلم باہلی نے اُن کے دور خلافت میں سمر قند کو فتح کیا سمر قند کے عیسا ئی پا دری نے اپنا ایلچی خلیفہ کے پاس بھیجا اور ایک خط لکھ کر شکایت لگائی کہ قیتبہ ابن مسلم باہلی نے ہمیں جنگ سے پہلے اسلام قبول کر نے یا جز یہ دینے کی پیشکش نہیں کی اسلامی قانون کے مطابق سوچنے اور مشورہ کرنے کے لئے 3دنوں کی مہلت نہیں دی اچانک حملہ کر کے شہر کو فتح کر لیا ہماری داد رسی کی جائے ، عمر بن عبدالغزیز نے سمر قند کے قاضی کے پاس یہ شکایت بھیج دی قاضی نے قیتبہ ابن مسلم باہلی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا قتیبہ نے عدالت کے سامنے اقرار کیا کہ انہوں نے سمر قند والوں کو مسلمان ہونے کی دعوت نہیں دی ، جزیہ دینے پر جان و مال کے امان کی پیش کش نہیں کی بے خبر ی میں سمر قند کو فتح کر لیا قاضی نے حکم دیا کہ شرعی قانون کی پامالی ہوئی ہے تم اپنی فوج ،اپنے لوگوں کو فوراََ یہاں سے نکال دو اور سمر قند کو خالی کرو حکم دینے کے بعد قاضی خود اُٹھا ، اپنے اہل و عیال کو لیکر سمر قند سے نکلا ، قیتبہ ابن مسلم باہلی بھی فوج کو لیکر سمر قند سے نکلے پادری اور عیسائی اس واقعے سے متاثر ہو کر ایمان لے آئے ، وفد لیکر قتیبہ ابن مسلم کے پاس گئے اور ان کو واپس لاکر شہر ان کے حوالے کر دیا عمر ابن عبدالعزیز نے 717سے 720تک 2سال 8ماہ حکومت کی 38سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی تو اسلامی خلافت کا جو سورج 17سال بعد مختصر مد ت کے لئے طلو ع ہو ا تھا وہ ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا اور مسلمان اشرافیہ کی جان میں جان آگئی آج بھی مسلمانوں کے اشرافیہ طبقے (ایلیٹ کلاس) کو اسلام کاوہی خوف لاحق ہے جو عمر ابن عبدالعزیزکے مختصر دورِ حکومت میں اُ س وقت کے اموی شہز ادوں، دوسرے جاگیر داروں ، بڑے تاجروں ، صنعتکاروں اور اونچے رتبوں پر فائز درباریوں کو لاحق تھا ان کا اسلامو فو بیا عیسائیوں ، ہندووں اور یہودیوں کے اسلا موفوبیا سے مختلف نہیں تھا آج کل بھی مفادات کا ٹکراؤ ہے ان لوگو ں نے اپنا طرز معاشرت اسلام کے خلاف تر تیب دیا ہے عرب حکمرانوں سے لیکر پاکستان کے سیاستدانوں تک سب کو یہ فکر لاحق ہے کہ اسلامی شریعت نافذ ہو ا تو ہمارا کیا حشر ہوگا؟ عمر بن عبدالعزیز کے دور کی طر ح طرز حکمرانی آگئی تو ہمارا اور ہماری اولاد کا کیا مستقبل ہوگا؟ کو ئی چشمِ تصور سے دیکھنے کی کوشش کرے تو پتہ لگ جائے گا کہ مسلمان اشرافیہ اسلام سے، اسلامی نظام سے اور شریعت کے نفاذ سے کیوں ڈرتاہے ؟ حکمرانوں کا پورا دارومدار اور انحصار سودی معیشت پر ہے 20لاکھ روپے سودی قرض کو 50لاکھ کر کے وصول کرتے ہیں عیسائیوں اور یہودیوں سے اگر 20لاکھ سودی قرض لیتے ہیں تو 40لاکھ کر کے اس کی ادائیگی کرتے ہیں علامہ اقبال نے کہا ؂
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لئے مرگِ مفاجات
اس طرح نظام عدل پر سرمایہ داروں کی اجارہ داری ہے اسلامی نظام آیاتو یہ اجارہ داری ختم ہو جائیگی سماجی تحفظ کے نظام کو سرمایہ داروں نے دبا رکھا ہے اسلامی نظام آیا تو سماجی تحفظ کا حق غریبوں کو ملے گا یہ وہی خوف ہے جو ابوجہل، عتبہ اور شیبہ کو لاحق تھا ابو جہل سے اُن کے اپنے ساتھوں نے پوچھا تھا آخر ایمان لانے میں کیاہرج ہے ؟ ابو جہل نے کہا کلمہ پڑھنے کا مطلب اپنی سرداری سے دست بردارہونا ہے میں سرداری سے ہاتھ دھو بیٹھناکھبی قبول نہیں کرونگا آج مسلمانوں کے جس طبقے کو اسلا م کا خوف ہے یہ وہی طبقہ ہے جو بنو اُمیہ کے شہزادوں اور ابو جہل کے ساتھیوں کی طرح اپنے مفادات کے چکر میں ہے
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق