تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…..ضم شدہ اضلا ع

……..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی……

Advertisements

ملکی اخبارات نے اردو کے دا من کو خاصی وسعت دی ہے ضم شدہ اضلاع کی نئی تر کیب بھی اردو زبان میں ایک اضا فہ ہے اس سے پہلے دھا ندلی کا لفظ آیا، نجکا ری کا لفظ آیا، پار لیمان کا لفظ آیا شکر ہے ہارس ٹریڈنگ کا متبا دل اردو میں اب تک نہیں آیا اگر اس کا تر جمہ کیا جا تا تو لفظی تر جمہ ”گھوڑا بازی“ ہو سکتا تھا با محا ورہ تر جمہ کیا جا تا تو اس کا ممکنہ نعم البدل ”بازارِ پار لیمان“ ہو سکتا تھا اتوار بازار اور جمعہ بازار کے وزن پر اس کا تر جمہ پار لیمان بازار بھی کہا جا سکتا تھا مگر اب تک مقتدر حلقوں نے اس پر غور نہیں کیا، فروغ اردو کے اداروں اور قا موس اردو کے دا نشور وں نے اس پر توجہ نہیں دی کہنے کو اور بھی بہت کچھ ہے مثلاً کمیٹی کا لفظ ہے جو ہمارے روز مرہ میں شا مل ہو چکا ہے اس کا متبا دل اردو میں آنا چاہئیے تھا فن تر جمہ کے ما ہرین نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں سیکشن افیسر کا تر جمہ منصرم صیغہ کیا تو ضمیر جعفری نے کہا کہ اس اردو سے انگریزی بہت آسان ہے چنا نچہ منصرم صیغہ کا سکہ نہ چل سکا تمہید قدرے لمبی ہو گئی بات ہورہی تھی ضم شدہ اضلاع کی جب سے حکومت نے قبائلی ایجنسیوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا ہے تب سے ان کے لئے ضم شدہ اضلاع کی تر کیب استعمال ہورہی ہے اخبارات میں جو خبریں آرہی ہیں ان کی رو سے نئے اضلاع میں نئے اداروں کے قیام کی رفتار بہت سست ہے ایک حا لیہ اعلامیہ کی رو سے حکومت نے ضم شدہ اضلاع میں عدلیہ کے قیام کے بجائے پرانے جر گہ سسٹم کو بحال کر دیا ہے اور ڈپٹی کمشنر کو جر گہ ارا کین کے تقرر کا اختیار دیدیا ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر جر گہ کا ممبر ہو گا مگر جر گہ میں حصہ نہیں لے سکیگا دوسری اہم بات یہ ہے کہ 2015اور 2016ء میں دہشت گر دوں کے خلاف اپریشن کے دوران جن لو گوں کو گھروں سے نکال کر عارضی طور پر قریبی اضلاع میں رکھا گیا تھا وہ لو گ4سال بعد بھی گھروں کو نہ جا سکے ان کو مسمار ہونے والے گھروں کا معاوضہ نہیں ملاان کے گھروں کے معا وضے کی جو فہرستیں بنی ہیں ان میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا اگر 30لاکھ کی ما لیت کا قلعہ گرایا گیا ہے تو معا وضہ ایک لاکھ 32ہزار لکھا گیا ہے یہ در بدر لو گ انصاف کے لئے در،در پر صدائیں دے رہے ہیں کوئی سُنتا نہیں اب یہ سارا ملبہ ضم شدہ اضلاع کے نام پر صو بائی حکومت کے سر پر گرایا گیا ہے اس کے بوجھہ تلے صو بائی حکومت کی کمردہری ہو تی جا رہی ہے نئے اضلاع کے لئے پو لیسنگ کا معا ملہ ابھی تک حل نہیں ہوا قبائلی ایجنسیوں میں خا صہ دار ہوا کرتے تھے جن کو لیوی بھی کہا جا تا تھا خا صہ دار فورس کا صو بیدار میجر ایجنسی میں ڈسٹرکٹ پو لیس افیسر کا کام کر تا تھا سر کاری کا غذ ات میں خا صہ دار کو لیوی ہی لکھا جا تا تھا البتہ لیوی سپا ہی مہما نوں کے ساتھ حفا ظتی ڈیو ٹی پر ہو تا تو بداگہ کہلا تا تھا ایجنسی کو ضلع بنا نے سے پہلے اس پر کوئی غور نہیں ہو اکہ پو لیس آنے کے بعد لیوی فورس کا مستقبل کیا ہو گا؟ صو بیدار میجر اور ڈسٹرکٹ پو لیس افیسر میں کسطرح ہم آہنگی ہو گی؟ اورخا صہ داروں کے خا ص الخاص قوا نیں کو پو لیس رولز میں کسطرح تبدیل کیا جا ئے گا؟ اگر خا صہ داروں کو پو لیس میں لے لیا گیا تو تعلیم،ٹریننگ،کیڈر اور تر قی کے کیا اصول ہونگے؟ ان تمام امور پر اب غور ہو رہا ہے یہ بہت بڑا مسئلہ ہے جو صو بائی حکومت کے سامنے ہے ایک اہم مسئلہ جس پر اب تک غور نہیں ہوا وہ ضم شدہ اضلاع میں تر قیاتی کا موں کا ہے 2015ء سے 2017ء تک انضمام کی کمیٹی نے سر تاج کی سر برا ہی میں قبائلی علا قوں کا دورہ کر کے تجربہ کار ملکوں اور پر جو ش نو جوانوں سے وعدہ کیا تھا کہ انضمام کے بعد ان علا قوں میں تر قیاتی کاموں کا جال بچھا یا جائے گا جن کے ثمرات بڑے پیما نے پر عوام کو ملینگے اُس وقت کے حزب اختلاف میں نامور لیڈر اور مو جودہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی تر قیاتی کاموں کا حوالہ دیکر انضمام کی پر زور حما یت کی تھی لیکن تر قیاتی کاموں کے سامنے دو رکاوٹیں ہیں پہلی رکاوٹ یہ ہے کہ پو لیٹکل ایجنٹ ہو تاتھا ڈپٹی کمشنر کو پو لٹیکل محرر کے برا بر اختیارات بھی حا صل نہیں ہیں وہ تر قیاتی کاموں کی نگرانی کسطرح کرے گا؟ دوسری رکا وٹ یہ ہے کہ پو لیٹکل انتظا میہ کے تحت پا ک فوج کو تر قیا تی کاموں کا فنڈ ملتا تھا سڑ کوں اور ہسپتا لوں کی تعمیر، سکو لوں اور کا لجوں کی تعمیر میں پا ک فوج بہت فعال کر دار ادا کرتی تھی ضلعی انتظا میہ کے تحت پا ک فوج کا کردار محدود کر دیا گیا ہے اس وجہ سے مو جودہ ما لی سال کا تر قیا تی بجٹ گذشتہ 6مہینوں میں خرچ نہیں ہو سکا 66ارب روپے کے تر قیا تی بجٹ میں سے 29ارب روپے وا پس کئے گئے دلچسپ بات یہ ہے کہ بنیادی ڈھا نچے کے تر قیا تی کاموں کے لئے ضلعی انتظا مہ کو بنیا دی ڈھا نچہ فرا ہم نہیں کیا گیا 2015ء میں قبا ئلی ایجنسیوں کے اندر انضمام کے خلاف جو آوازیں اُٹھ رہی تھیں 5سال بعد اُن آوازوں کو تقویت مل رہی ہے ضم شدہ اضلاع میں انظمام کے خلاف آوازوں کا اُٹھنا صو بائی حکومت کے لئے ایک اور درد سر ہے علامہ اقبال کا مشہور قطعہ ہے ؎
خدائی اہتمام خشک وتر ہے
خدا وندا!خدا ئی درد سر ہے
ولیکن بندگی، استغفراللہ
یہ درد سر نہیں، درد جگر ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى