تازہ ترین

پی پی اے ایف نے صوابی اور طورغر میں چھوٹے کسانوں کے لئے پروجیکٹ کا آغاز کردیا

صوابی(چترال ایکسپریس) پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ نے خیبرپختونخوا کے اضلاع صوابی اور طورغر میں غذائی تحفظ کے لئے زراعت کے شعبہ میں معاونت کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبہ پر عمل درآمد صوابی اور ظورغر کی 12 یونین کونسلز میں کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ زراعت کے جدید طریقوں اور فصل کی پیداوار میں سہولت کا نظام قائم کرکے چھوٹے کسانوں کی زندگی میں بہتری لائی جائے۔ اس حوالے سے صوابی میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف سرکاری محکمہ جات اور اراکین قومی و صوبائی سمیت پی پی اے ایف کے حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر حکومت پاکستان کے تخفیف غربت کے بنیادی منصوبے احساس پروگرام کے زیر اہتمام بلاسود قرضوں کے چیک تقسیم کئے گئے۔

Advertisements

قومی اسمبلی کے اسد قیصر نے پی پی اے ایف اور ان کے ساتھ شریک اداروں کی جانب سے کسانوں کی فلاح و بہبود کے منفرد اقدام کے آغاز کو سراہتے ہوئے کہا، “کسان ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب میں خیبر پختونخواہ اسمبلی کا اسپیکر تھا، تو اس وقت میں زراعت کے شعبے کے بہت قریب تھا۔ ہم نے متحرک زرعی نظام کیلئے بہت سے منصوبوں کا آغاز کیا اور مستقبل میں ہم اسی انداز میں کام کرنے کے خواہ ہیں۔زراعت کے شعبے میں جدید طریقوں کو رائج کرنا لازمی ہے۔ جس نوعیت کے منصوبے کا ہم نے آج اجراء کیا ہے، اس سے نہ صرف مقامی افراد کو کھیتی باڑی کے منافع بخش متبادل طریقوں پر عمل درآمد میسر آئے گا بلکہ انکی صلاحیتوں میں بھی بہتری آئے گی۔“

افتتاحی تقریب میں پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، “پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ پسماندہ طبقے کو بااختیار بنانے کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ ہم جدت انگیز زرعی طریقے متعارف کروا کر غربت کے خاتمہ ک کے پائیدار ترقیاتی پروگرام کے اہداف کے حصول کے لئے پرعزم ہیں اور ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو فائدہ پہنچے گا۔”

پی پی اے ایف کے ہیڈ آف پروگرامز سیمی کمال نے معاشی ترقی میں تیزی لانے کے لئے زرعی شعبے میں جدید طریقے اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، “پاکستان کی ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) بہت زیادہ زرعی ترقی پر انحصار کرتی ہے اور چھوٹے کسان ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ یہ ہمارے لئے انتہائی ضروری ہے کہ کسانوں کو موثر انداز سے پانی کے استعمال سمیت مختلف پائیدار طریقوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل ہو اور وہ دانش مندی سے وسائل استعمال کرسکیں۔ یہ پروجیکٹ ہم سب کے لئے مستحکم بنیاد کی راہ ہموار کرے گا۔”

اس پروجیکٹ پر پی پی ایف کے شراکتی ادارے سیرڈ (CERD) اور آئیڈیا (IDEA) کی جانب سے عمل درآمد کیا جارہا ہے جنہوں نے خراب فصل اور فصل سے حاصل کم آمدن کے نازک مسئلہ کے خاتمے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت موثر انداز سے پانی کے حصول اور زرعی پیداوار سے حاصل آمدن میں بہتری لانے کے منصوبے کے لئے مختلف سرگرمیاں ترتیب دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے علاقائی سطح پر ادارے قائم کرنے کے ساتھ کسانوں کے لئے فیلڈ اسکولز بھی تعمیر کئے جائیں گے جہاں وہ پائیدار طریقوں کے بارے میں آگہی حاصل کرسکیں گے۔ مزید یہ کہ ان علاقائی اداروں کے لئے جدید زرعی کاروباری ادارے بھی تیار کئے جائیں گے۔

پی پی اے ایف احساس پروگرام کے تحت بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے اپنے شراکتی اداروں کے ذریعے کام کررہا ہے۔ اب تک 4 لاکھ 90 ہزار 122 افراد میں 16.65 ارب روپے قرضہ تقسیم کیا جاچکا ہے جن میں 45 فیصد خواتین ہیں۔ صرف خیبرپختونخوا میں تقریبا 40 ہزار افراد کو 1.24 ارب روپے تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ اس اقدام کے لئے حکومت پاکستان، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (آئی ایف اے ڈی) اور ایشین ترقیاتی بینک (اے ڈی پی) کی جانب سے مالی وسائل فراہم کئے جارہے ہیں۔

احساس پروگرام کے تحت ملک بھر کے 110 اضلاع کے لئے 42.65 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس میں 50 فیصد خواتین بشمول نوجوان، معذوری کے شکار افراد، خواجہ سرا، اقلیتوں اور پسماندہ طبقے کے افراد ہیں۔ اگلے چار سالوں کے دوران 2.28 ملین افراد کو 3.8 ملین بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ اس پروگرام سے مجموعی طور پر 14.7 ملین مستفید ہوں گے جس پر پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) اور اخوت کے ذریعے پروگرام پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى