تازہ ترینفرہاد خان

فکروخیال……قابلِ غور

………۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرہاد خان

Advertisements

آج بیٹی کی کتابون کے پاس رجسٹر پر نظر پڑی تو ایک دم چونک گیا،رجسٹر کے سرورق پر قائداعظم کی تصویر کے ساتھ جنرل قمر باجوہ کی تصویر لگی تھی ،اس ملک میں قائداعظم کی تصویر کے ساتھ کیا کیا نہیں ہوتا،سیاسی پارٹیان اپنی سیاست چمکانے کے لئے اس کے تصویر کے ساتھ جو کھیل کھیلتے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے۔یہ بیچارہ تصویر پتہ نہیں کتنی ازیت سہتا آرہا ہے اسے کبھی نوازشریف اور شہباز شریف کے ساتھ لگاکر تضحیک کی جاتی ہے تو کبھی اس نام کا اور تصویر کا سہا لے کر قوم کو مذید لٌوٹنے اور برباد کرنے کی تیاری کی جاتی ہے۔بابائے قوم کی روح اپنےساتھ اس مذاق کو دیکھ کر پتہ نہیں کتنا ٹڑپ رہا ہوگا اس کے قدآور تصویر کے نیچے پٌراسائش سیٹون میں بیٹھے ہمارے معزز پارلینٹیرین جو کچھ کر گزرتے ہیں اس پر بھی قائد کا روح کتنا ٹڑپتا ہے وہ بھی بیان سے باہر ہے اور اس کے بنائے ہوئے ملک کا جو حشر کیا جاچٌکا وہ بھی سب کچھ ہمارے سامنے ہے۔آج کی تصویر دیکھ کر حیران اس لئے ہوں کہ ہمارے نونہالان کو ان تصویرون کے زریعے کیا سکھایا جارہا ہے۔کیا چھاپنے کو ہمارے پاس صرف ایسی ہی تصویرین رہ گئی ہیں کیا ہی اچھا ہوتا کہ سیکھنے کے اس انتہائی اہم مرحلے میں ہمارے نونہالان وطن کو سائنسی ایجادات اور کائنات کے اہم رازوں سے پردہ اٌٹھانے والے سائنس کے بانی ہمارے مسلمان سائنسدانون ابن الہیثم ،جابر بن حیان ،الخوازمی،بو علی سینا کی جھلک بھی دکھائی جائے،انہیں ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر عبدالقدیر کا چہرہ بھی دیکھنا نصیب ہو اور انہیں مسلمانون کی تعلیمی ترقی کے لئے جہدوجہد کرنے والے عظیم لیڈر سرسید آحمد خان اور سر سلطان محمد شاہ آغاخان کا ایک جھلک بھی دکھایا جائے تاکہ نونہالان وطن اپنے اسلاف اور اپنے عظیم رہنماون کے بارے کچھ تو جان سکیں۔ اس ملک کے لئے شاندار فلاحی خدمات انجام دینے والے ہمارے محسن عبدالستار ایدھی کی تصویر کا بھی حق بنتا ہے کہ ایسے نوٹ بکس و رجسٹرون پر چھپ جائے۔ اور کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ سائنس ٹیکنالوجی،فلسفی،ادب ،سماجی و فلاحی خدمات سرانجام دینے والے ہمارے دیگر محسنون کے نام بھی بمع تصاویر چھاپ دیئے جائیں تاکہ ہمارے نونہالان کو زندگی کے ہر شعبے میں قابل فخر کام انجام دینے والے ان عظیم شخصیات کو دیکھ کر ان میں علم سیکھنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کا عظیم جذبہ پیدا ہوسکے۔اس تحریر کا مقصد کسی کی تنقید نہیں ،پاک فوج ہمارا فخر اور سرمایہ ہے اور ہمارے سرحدوں پر ڈیوٹی دینے والے ہمارے محافظ فوج کے جوان ہمارے قابل فخر سپوت ہیں۔بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمارے نونہالان کو ان کے شاندار ماضی اور حال کے ان تمام کردارون کی جھلک دکھادی جائے اور یہ یک طرفہ نہ ہو، صرف جرنیل ،اور سیاست دان ہی کیوں مشتہر ہوتے ہیں دوسرے کردارون کو مشتہر کرنا بھی ہم سب پر فرض ہے تاکہ ہم جدید دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم اپنے اسلاف کے کارنامون سے کچھ تو سبق حاصل کرسکیں۔ افغان روس جنگ میں بھی ضیاالحق کو مرد مجاہد مرد حق کہہ کر مخصوص نصاب رائج کرکے ہمارے ملک کے ساتھ جو کچھ ہٌوا اس کا خیمازہ ہم اب تک بگھت رہے ہیں۔ ہمارا بچپن گواہ ہے کہ نوے کی دھائی میں امریکہ عراق جنگ کے دوران ہمارے سادہ لوح عوام کو اسلام کے نام پر عراقی صدر صدام حسیں کی تصاویر اور اس کے ساتھ جٹ تیارون اور میزائلون کی تصاویر دکھا جنگ و جدل اور نفرت کی تبلیغ کی گئی اور اس مخصوص ایجینڈے کا کسے فائدہ ہوا سب کو معلوم ہے ۔اب ان تمام سازشون سے نکلنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔اس ملک کو اب سائنس دانون ،طبعیات دانون ،ماہرین تعلیم اور فلسفیون کی ضرورت ہے میزائیل ،ٹینک،بم،کرپٹ سیاستدانوں، چودھریون، نوابون اور وڈیرون کی نہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى