تازہ ترینمحمد شریف شکیب

آٹا بحران اور چوہوں پرالزام

……..محمد شریف شکیب……

Advertisements

پنجاب سے آٹے کی ترسیل پر پابندی کے باعث خیبر پختونخوا میں ایک مرتبہ پھرآٹے کے بحران نے سر اٹھا لیا ہے ٗ مارکیٹ میں آٹا ناپید ہونے کے ساتھ قیمتوں میں اچانک اضافہ بھی ہوگیا۔ 85کلو فائن آٹے کی بوری 5ہزار ٗ 20کلو فائن کا تھیلہ 1250اور مکس آٹا 1150روپے کا ہوگیا ہے ٗ پشاور کی بڑی ہول سیل فوڈ گرین مارکیٹ میں 70فیصد دکانوں میں آٹے کا سٹاک ختم ہوگیا۔ صوبائی حکومت اور نانبائیوں کی تنظیموں کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور بھی ناکام ہوگیا ٗ 115گرام کی روٹی 10اور 170گرام کی روٹی 15 روپے میں فروخت کرنے پر اتفاق کے باوجو د صوبائی حکومت کی طرف سے اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔جس پر نانبائیوں نے پیر کے روز ہڑتال کا فیصلہ واپس لینے سے انکار کردیا۔وزیراعظم عمران خان نے آٹے کی قیمت میں اضافے کا نوٹس لے لیا۔انہوں نے جہانگیر ترین اور خسروبختیار پرمشتمل کمیٹی کو پنجاب وخیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کرکے آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لئے اقدامات کی ہدایت کردی۔وفاقی حکومت پاسکو کے کوٹے سے خیبرپختونخوا کو ایک لاکھ ٹن گندم فراہم کرے گی جبکہ حکومت رواں سال 3لاکھ ٹن گندم درآمد بھی کرے گی۔گندم درآمد کرنے کے لئے سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظور کرائی جائے گی۔ آٹا بحران کے پیش نظر پنجاب میں بھی آٹا مہنگا ہوگیا جس کے باعث پنجاب حکومت نے دیگر صوبوں کو آٹے کی ترسیل پر پابندی عائد کردی ہے۔لگتا ہے کہ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے۔ حکومت اسے دوبارہ پکڑ کر کسی چھوٹی بوتل میں بند کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے لیکن جن حکومت کے قابو ہی نہیں آرہا۔حیران اور کسی حد تک پریشان ہونے والی بات یہ ہے کہ ان چیزوں کی قیمتوں میں روزانہ کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے جو ہمارے اپنے ملک میں وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہیں۔ بجلی کو ہی لے لیجئے، حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار 26ہزار میگاواٹ سے متجاوز ہے جبکہ بجلی کی کھپت 22ہزار میگاواٹ ہے۔ چار ہزار میگاواٹ ملکی ضروریات سے زیادہ ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی اور قیمتوں میں بھی ماہوار دو تین مرتبہ اضافہ کیا جاتا ہے۔اگر پیداواری لاگت زیادہ ہے تو حکومت کو ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کا شوق کیوں چرا رہا ہے۔ اضافی لاگت حکومت قومی خزانے سے نہیں دیتی، صارفین کو نچوڑ کر وصول کیا جاتا ہے۔ پاکستان گندم کی پیداوار میں بھی ماشااللہ خود کفیل ہوچکا ہے۔اور اپنی ضرورت سے سے ڈیڑھ دو لاکھ ٹن زیادہ گندم پیدا ہونے کے دعوے کئے گئے تھے۔ نجانے پھر ہماری اضافی گندم کو چوہے کھا گئے یا پرندے چگ گئے کہ اچانگ گندم ملکی ضروریات سے بھی کم پڑگئی۔ فلو رملوں کا کوٹہ بھی گھٹا دیا گیا اور قیمتوں میں اچانک ایک ہزار روپے فی من اضافہ ہوگیا۔آٹھ سو روپے میں ملنے والا بیس کلو آٹے کا تھیلہ دیکھتے ہی دیکھتے ساڑھے بارہ سو روپے کا ہوگیا۔بڑے لوگ تو روٹی کی جگہ کیک، پیزہ،شوارما وغیرہ کھا کر بھی اپنی کلوریز کی ضرورت پوری کریں گے غریب لوگ کہاں جائیں۔ وہ دن میں تین وقت روٹی کھاتے ہیں۔ابھی دو مہینے پہلے کی بات ہے ایک تندوری پراٹھے یا دو روغنی روٹیوں پر پیٹ بھر کر ناشتہ ہوا کرتا تھا۔ اب تندوری پراٹھے اور روغنی کا سائز گھٹ گھٹ کر ساشے نما رہ گیا ہے۔ساتھ برکت بھی اٹھ گئی ہے۔ دو کے بجائے تین روغنی کھاکر بھی ناشتے کا شوق ادھورا رہ جاتا ہے۔ روٹی ہماری قومی خوراک ہے۔ ہم بطور انتقام بھی گندم کی روٹی کھاتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ہمارے بابا آدم ؑ اور بی بی حوا کو جنت سے نکالا گیا۔ اگر اس وقت شیطان کے بہکاوے میں آکر بابا آدمؑ گندم نہ کھاتے تو اقبال کے بقول ثریا سے زمین پر آسمان ہم کو دے مارتا۔ نہ ہمیں آٹے کے بحران کی فکر دامن گیر ہوتی۔چترال میں گودام کے ذخیرے میں کمی واقع ہوجائے تو اسے چوہوں کے کھاتے میں ڈال کر حساب پورا کیا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں ”خاڑاو کٹی“ کہا جاتا ہے۔محکمہ خوراک والوں نے بے زبان چوہے کو چوری کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے لاکھوں کروڑوں کی گندم ہڑپ کرلی۔کچھ لوگ پکڑے گئے جنہیں بلاشبہ بے گناہ چوہوں کی بددعا لگی ہوگی۔تاہم یہ بات ہضم نہیں ہورہی کہ ڈیڑھ دو لاکھ میٹرک ٹن گندم چوہوں نے کھائی ہوگی۔یقینایہ بڑی جسامت کے چوہے ہوں گے جو گندم کی آڑ میں لوگوں کا خون چوستے رہتے ہیں حکومت کو بے زبان چوہوں پر الزام دھر کے خاموش رہنے کے بجائے زبان دراز قسم کے دیوہیکل چوہوں کو لگام دینے کے لئے ضروری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ان کے بلوں سے غائب ہونے والی گندم بھی نکل آئے،آٹے کا بحران بھی ختم ہو اور غریبوں کو بھی ریلیف ملے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى