تازہ ترینشہزادی کوثر

نوائے سُرود       انسانی فکر و خیال کا مثبت استعمال 

                ……. شہزادی کوثر

Advertisements

انسان کی حیران کن صلاحیتوں میں سے ایک صلاحیت سوچ اور فکر ہے۔کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانے، دنیا کے معمے حل کرنے اور زندگی کی پیچیدگیاں سلجھانے کا کام اسی کے سپرد ہے۔ دنیا کی ہر بڑی اور حسین چیز سب سے پہلے فکرِ واحد سے پیدا ہوتی ہے، پتھروں کے سینے میں چھپے ہوئے شہکار پہلے فکر واحد ہوتا ہے جو کسی تخلیق کار یا مصور کے دماغی گوشوں میں لرزاں ہوتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک مستحکم اور قابلِ عمل سوچ بن کرشعور کی سطح پر نمودار ہونے لگتا ہے،اور کسی مخصوص سمے انسان کی انگلیوں میں منتقل ہو کر کبھی مونا لیزا بن کر کینوس کی زینت بڑھاتا ہے اور کبھی تاج محل کی صورت میں دھرتی کے سینےپہ سینہ تانے کھڑا رہتا ہے۔ انسان اگر اس فکر کو تعمیری رستے پہ ڈالے تو نوعِ انسانی کی بھلائی اور بہبود کے ناقابل یقین کام ممکن بن جاتے ہیں۔ یہی فکر اور سوچ دنیا کو اپنی رعنائی اور زیبائی سے جنت بناتی ہے۔ابتدائے ٓافرینش سے اب تک ٓائے دن کوئی نہ کوئی چیز انسان کے ہاتھوں تخلیق کی بھٹی میں پک کر سامنے ٓاتی ہے اور دوسروں کو ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔نئی نئی ایجادات نے زندگی کو کتنا سہل بنایا ہے اور ہم کم وقت میں مہینوں کا کام منٹوں میں نمٹانے کے قابل ہو گئے ہیں۔یہ سب کچھ اسی سوچ اور فکر کی وجہ سے ہی ممکن ہو گیا ہے جو کسی موجد اور سائنس دان کے ذہن کے نہاں خانوں میں محو خواب تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ارتقائی منازل طے کرتا ہوا کسی بڑی تخلیق یا ایجاد کی صورت پا کر انسانوں کے لیے ٓاسانی پیدا کرتا ہے۔ دھرتی کے سینے پہ ابھرنے والے تکون جنہیں دنیا احرام مصر کے نام سے جانتی ہے کسی ذہن کی تخلیقی سوچ ہو گی جو ٓاج بھی ہر ذی شعور کے لیے معمہ ہیں ۔یہ فکر ہی تھی جس نے  دعویَ کیا  کہ جس ذمیں پہ قدم جمائے ہم ٓاسمانوں کی ہمسری کے خواب دیکھتے ہیں دراصل گول ہے ۔چمکتے ستاروں کے درمیان نور کی تھال زمین کے باسیوں کے لیے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہی ہے اس منبعِ نور کو اپنے قدموں کی دھول بنتے دیکھنا بھی انسان کا ایک خیال تھا لیکن ٓاج یہی چاند اس کی رہگزر ہے۔

اسی فکر اور سوچ کے سہارے انسان اپنی سائکی اور باطن کی پرچھائیوں بھری  دنیا کی سیاحت کرتا ہے۔ذات کے نہاں خانوں میں فرد پر کیا گزرتی ہے اور لاشعور میں موجود بہت سے واقعات ،سانحات ٓارزو  وخواہشات کیا رنگ دکھاتی ہیں ان سب کو اپنی فکر کے زریعےکسی خاص تخلیق کی صورت میں سامنے لا کر اپنے دل کے اضطراب کو سکون بخشتا ہے۔من کی دنیا کو کھوجنے اور اس میں موجود عناصر کو کبھی مجسمے یا بت کی شکل مین سامنے لا کر اپنی حقیقت منکشف کرتا ہے کبھی خوبصورت منظر میں ڈھل کر ناظر کو اپنے سحر میں جکڑتا ہے یہ تخلیقات انوکھی خوشبو بن کراعصاب پر خوشگوار اثر ڈالتی ہے کیونکہ یہ شعورِ زیست کے ساتھ ساتھ شعار زیست بھی دے کر زندگی کو منور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بشرط یہ کہ انہیں سہی طور پر سمجھا جائے۔ایسی فکر ہر انسان کے ذہن کی پیداوار نہیں ہوتی بلکہ ایسے تخلیق کار میں پیدا ہوتی ہے جو زندگی کے تجربات و مشاہدات سے اخذ شدہ وژن رکھتا ہودوسری طرف وہ لاشعور میں غوطہ زن ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو،اس کی بصیرت محدود نہ ہو ۔ اپنے من کے سمندر میں ڈبکی لگا کر موتی لانے والا فنکار ہی اپنے افکار کو سہی طور پر دوسروں تک پہنچانے کا حق ادا کرتا ہے۔ وہ فنکار کسی شاعر کی صورت میں الفاظ کے تیشے سے زندگی کے چٹان کو کھود کر فکر کی نہریں جاری کرتا ہے جس سے لوگ حسبِ استطاعت سیراب ہوتے ہیں ۔بدلتی اقدارمیں مجروح انسانی شخصیت کے کرب کو خوبصورت پیرائے میں بیان کرتا ہےکہ سلگنے کی میٹھی میٹھی کیفیت محسوس ہوتی ہے اور ایسے دلنشین اداسی کا احساس ہوتا ہے جس پر ہزاروں خوشیاں بھی قربان کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یہی فنکار اپنے خوب صورت افکار کےذریعے بے رنگ اور بے رس زندگی کو مہک اور رس سے بھر دیتے ہیں۔ اسی طرح ہر خوفناک لڑائی اور تباہ کن جنگ بھی پہلے ایک خیال ہوتی ہے جسے اظہار کا مثبت ذریعہ نہ ملنے کے سبب یا اپنی انا کی تسکین کی خاطر فردِ واحد یا قوم دوسرون پر مسلط کرتا ہے ،کبھی اسے اپنی سالمیت کے استحکام کا نام دیتا ہےاور کبھی اپنی آزادی اور امن کو درپیش خطرہ کہ کر معصوم انسانیت کو ٓاگ میں جھونک دیتا ہے۔اسی فکر اور خیال کے بل بوتے پر ایک دوسرے پر غالب ٓانے کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے جو دنیا کے امن کو غارت کرتی ہے۔اقوامِ عالم کو سرنگوں کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھیار بنائے جا رہے ہیں جن کا مقصد دوسروں کے دلوں میں اپنی دھاک بٹھانا ہوتا ہے۔بحروبر اور فضا میں لڑنے والی افواج تو پہلے سے موجود تھی اب خلا کو میدانِ کار زار بنانے کے لیے افواج تیار کی گئی ہے۔ خود کار اسلحہ اور ٓالاتِ جنگ کی تیاری بھی نئی بات نہیں دیو ہیکل الات حرب سے لے کر مچھر جتنی جسامت کے اسلحے بھی سامنے ا چکے ہیں ،اب انسان اپنے شیطانی دماغ کا استعمال کر کے نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے نظر نہ ٓانے والی فوج تیار کر رہا ہے جو سامنے ہونے کے باوجود اسکی موجودگی کا کسی کو پتہ نہ چلے گا۔یہ سب کچھ فکر اور خیال کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے انسان اس کا منفی استعمال کرکے دنیا کوجہنم میں بدل سکتا ہے لیکن یہ امر سب سے زیادہ اہم ہے کہ فکر و خیال کا مثبت استعمال دنیا کو جنت بناتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى