تازہ ترینمحمد شریف شکیب

احترام انسانیت

……محمد شریف شکیب…..

Advertisements

وفاقی وزیرانسانی حقوق کی سربراہی میں حقائق معلوم کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں قید 28ہزار 800 قیدیوں کو عدالتوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ پنجاب میں 45فیصد‘ بلوچستان میں 41فیصد‘ سندھ میں 30فیصد اور خیبرپختونخوا میں 29فیصد قیدیوں کے مقدمات کسی بھی عدالت میں زیر سماعت نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھرکی جیلوں میں 73ہزار 661 قیدی ہیں جن میں سے صرف 44ہزار 853قیدیوں پر مقدمات مختلف عدالتوں میں چل رہے ہیں،پنجاب بھر کی جیلوں میں 45ہزار 324 قیدی ہیں جن میں سے 25ہزار 54 قیدیوں کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہیں جبکہ 20ہزار 270قیدیوں کے کسی بھی عدالت میں مقدمات زیر سماعت نہیں۔ خیبرپختونخوا کی جیلوں میں مجموعی طور پر9ہزار 900قیدی موجود ہیں جن میں سے 7ہزار 67قیدیوں کے مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ 2883ایسے قیدی ہیں جن کے کسی بھی عدالت میں مقدمات زیر سماعت نہیں۔ سندھ میں ناکردہ گناہ کی سزا کاٹنے والے قیدیوں کی تعداد 4ہزار 827اور بلوچستان میں 878ہے۔یہ وہ بدقسمت قیدی ہیں جنہیں پولیس نے شک کی بنیاد پرگرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔ لیکن ان پر مقدمہ دائر کرنا بھول گئی۔معمولی جرائم میں ملوث ہزاروں قیدی ایسے بھی ہیں جو وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس وجہ سے برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ رہے ہیں۔ملک میں سینکڑوں ہزاروں ایسے قیدی بھی ہیں جو اپنی عمر کے بیس پچیس سال مفت میں جیلوں میں گذار کر ضائع کردیئے اور آخر میں عدالتوں نے انہیں باعزت بری کردیا۔فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ان بے گناہ قیدیوں کے اعدادوشمار نہیں بتائے جواپنی ماوں کے ساتھ جیلوں میں گئے اور کسی جرم کے بغیر کئی کئی سال ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتتے رہے۔ آج بھی ہماری جیلوں میں ایسے سینکڑوں قیدی موجود ہیں۔ پولیس کا روزانہ درجنوں جرائم پیشہ اور مشتبہ افراد سے نمٹنا ہوتا ہے۔ وہ کسی بے گناہ کو جیل بھیج کر بھول گئے تو اسے انسان کی فطری کمزوری قرار دیا جاسکتا ہے لیکن جیل کے ارباب اختیار کو تو ہر قیدی کی تاریخ، جغرافیہ اور حدود اربعہ کا پورا علم ہے ان کے پاس ہر قیدی کا ریکارڈ اور کرائم شیٹ موجود ہے۔ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ قیدیوں میں سے کون گنہگار اور کون بے گناہ ہے۔ مگرانہیں بھی کسی بے گناہ کو اللہ کی خوشنودی کے لئے آزاد کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔کسی کو بے جرم و خطا طویل عرصے تک پابند سلاسل رکھنا ہمارے ملک کے تفتیشی نظام پرایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا؟کسی جرم کے بغیر اس نے اپنی عمر کے دس پندرہ قیمتی سال قید میں گذارے اس کا مداوا کون اور کیسے کرے گا؟ان سوالوں کا جواب نہ ہمارے تفتیشی نظام وضع کرنے اور قانون نافذ کرنے والوں کے پاس ہے نہ ہی عدالتی نظام میں بے گناہوں کی سزا کا کوئی مداوا ہے۔بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم بے حس ہوچکے ہیں۔ ہم نے احترام انسانیت کا سبق بھلا دیا ہے ہمارے دلوں میں خوف خدا نہیں رہا۔ ہمیں یہ احساس ایک لمحے کے لئے بھی نہیں ہوتا۔ کہ دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے یہاں جو کچھ ہم بوئیں گے اگلے جنم میں اسی کا پھل کھائیں گے۔قرآن نے بڑا واضح پیغام دیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’جس نے زرہ برابر نیکی کی اس کا اجر پائے گا اور جس نے زرہ برابر بدی کی اس کا انجام بھی بھگتے گا‘۔ہم اللہ کے کلام کو صرف عربی تلفظ کے ساتھ پڑھناہی کافی سمجھتے ہیں۔اس کی تعلیمات پر غورکرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔یہی ہماری بے حسی کی بنیادی وجہ ہے۔میرے ایک محترم استاد پروفیسر بدرالزمان کہا کرتے تھے کہ جس کے دل میں احساس گناہ باقی ہے اس کا ایمان زندہ ہے۔ جب احساس گناہ ختم ہوجائے تو ایمان بھی باقی نہیں رہتا۔ وفاقی وزیرکی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ہمارے نظام انصاف میں بھاری سقم اور خلاء کی نشاندہی کردی ہے۔ اب قانون سازوں، قانون نافذ کرنے والوں اور منصفی کے منصب پر فائز لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بے جرم و خطا برسوں تک سزائے قید بھگتنے والے بے گناہوں کو باعزت جیلوں سے نکالیں اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور ظلم کا مداوا بھی کریں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى