تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد….پشاور کا پو ش علاقہ

…….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ……..

Advertisements

پشاور کے پو ش علاقے میں ہوائی فائرنگ روز کا معمول ہے اوارہ کتوں کی بہتاب ہے پو ش علا قہ وہ ہو تا ہے جہاں زند گی گزار نے کی جدید ترین سہو لیات دستیاب ہوں خوبصورت کوٹھیاں، کھلے اور کشادہ راستے، خوبصورت پارک، سامان تعیش سے بھرے ہوئے بازار اور بہترین ما حول ہو انگریزی میں اس کو ایلی گینس(Elegance)کہا جا تا ہے پا کستان کے شہروں میں بحریہ ٹاون، ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی اور اس طرز کی دیگر بستیاں پو ش کہلاتی ہیں اسلام آباد کا پورا شہر پوش کہلا تا ہے ایسی بستی کی تلا ش میں لو گ بڑے پاپڑ بیلتے ہیں عمر بھر کی کمائی صرف کر کے وہاں گھر بنا تے ہیں تا کہ اپنی بقیہ زندگی کیساتھ آنے والی نسلوں کو پر سکون رہا ئش دے سکیں اس کی مثال یوں ہے کہ بارہ کہو میں اگر 3بیڈ رومز کا گھر 60لاکھ روپے میں آتا ہے تو ایسا ہی گھر اسلام آباد کے کسی پو ش علا قے میں 3کروڑ روپے کا آتا ہے بارہ کہو میں جس گھر کا کرایہ 16ہزار روپے ہے اسلام آباد کے پو ش سیکٹر میں ایسے ہی مکا ن کا کرایہ 50ہزار روپے سے کم نہیں ہو تا وجہ یہ ہے کہ پوش علا قہ مہنگا ہو تا ہے حیات آباد پشاور کا پوش علا قہ کہا جا تا ہے 1976ء میں اس کی بنیا د رکھی گئی تو اس کا نقشہ جدید ترین بستی کا تھا آج بھی جدید ترین بستی ہے ڈیفنس کے بعد اس کا نمبر آتا ہے لیکن خیبر پختونخوا کی ثقافت اور لو گوں کے طرز عمل کیساتھ حکومتی مشینری کی لا پر واہی نے اس جدید بستی اور پوش علا قے کو رحمان بابا کے اُس شعر کا مصداق بنا دیا ہے جس کا تر جمہ ہے ”ظا لم حا کموں کے ہاتھوں ہمارا یہ حال ہوا ہے کہ آگ،قبر اور پشاور میں فرق نہیں رہا“ کمپیوٹر کی زبان میں کوٹھی، سڑک،شاپنگ مال اور پلا زوں کو ہارڈ وئیر کہتے ہیں لو گوں کے طرز معاشرت، رہن سہن، سلوک بر تاؤ اور سر کاری محکموں کی کار کردگی کو سافٹ وئیر کا نا م دیا جا تا ہے کسی پوش علا قے یا جدید بستی کا ہارڈ وئیر ایک وقت پر بنتا ہے اس کا سافٹ وئیر ہر وقت بنتا رہتا ہے اس کی ساخت گویا بہتے پانی کی طرح ہے جو کسی دریا، ندی یا نہر میں بہتا ہے ہارڈ وئیر کے لحا ظ سے حیات آباد کی جدید بستی میں آدمی 10کروڑ روپے کی کوٹھی بڑی خوشی سے خرید ے گا دو لاکھ روپے کرایے پر گھر بھی لے لے گا مگر چند دن گزار نے کے بعد جب سافٹ وئیر کو دیکھے گا تو اس کا دل اچاٹ ہو جائے گا کیونکہ شادی خا نہ آبادی کے بہانے یا عمرہ سے واپسی کی خوشی میں ہوائی فائرنگ روز کا معمول ہے آوارہ کتوں کا وہ حال ہے کہ پطرس بخا ری کا مشہور مضمون باربار یا د آتا ہے اگر پطرس بخا ری 2020ء میں حیات آباد کے باسی ہوتے تو اردو کی نئی لغت میں ان کتوں کے احوال لکھتے اُن کو باربار نظرآ جا تا کہ اوارہ کتوں نے ان کے گھر کی طرف آنے والے راستے کو ڈی چوک سمجھ کر وہاں دھر نا دیا ہوا ہے وہ یوں بھی دیکھتے کہ دو تین گھنٹوں کے بعد مشرق کی طرف شہر کے دیسی کتوں کا گروپ آکر دھرنے میں شامل ہو جا تا ہے تھوڑی دیر کے لئے فضا حت و بلا غت کے دریا بہا نے کے بعد نیا گروپ واپس روانہ ہو تا ہے تو دھر نے کے سب شر کا ان کے پیچھے نعرے لگا تے ہوئے چل پڑتے ہیں اگلی رات پھر ان کے گھر کے سامنے جلسہ بر پا ہو تا ہے کتوں کو یہ بات شا ید معلوم نہیں کہ وہ پشاور کے پوش علا قے میں داخل ہوتے ہیں یہاں تہذیب و شائستگی کا تقاضا یہ ہے کہ ایک بولتا ہے باقی سنتے ہیں ان کا مکان کے سامنے دھرنے کے شرکاء سب کے سب حسب تو فیق ایک ساتھ بھونکتے ہیں گویا سڑک پر مچھلی منڈی کا گماں ہوتا ہے پطرس بخا ری کو آوارہ کتوں پر رحم آتا تو دعا کر تے کہ خدا کر ے محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کی نظر بد سے جملہ کتے محفوظ رہیں ورنہ ہماری سڑکیں اور گلیاں راتوں کو سنسان ہو جائینگی یہی حال ہوائی فائرنگ کا ہے ہوائی فائرنگ کرنے والوں کو یہ بات معلوم نہیں کہ پشاور کے پوش علاقے میں دور دور سے آنے والے مہذب لو گ بھی رہتے ہیں ایسے لو گ بھی رہتے ہیں جنہوں نے کبھی بندوق کو ہاتھ نہیں لگا یا ایسے لو گ بھی رہتے ہیں جو گا لی کے جواب میں دعائیں دیتے ہیں یہ بندوق چلا نے اور گولی چلا نے والوں کی بستی نہیں،ڈاکٹروں، پروفیسروں، انجینئروں اور سول سروس کے اعلیٰ افیسروں کی بستی بھی ہے دور دور سے مہذب اور شائستہ لو گ صرف تہذیب اور شائستگی کی تلاش میں حیات آباد آکر بس گئے ہیں اگر ان کو ہوائی فائرنگ پسند ہوتی تو کسی سستی بستی میں بھی آسانی سے گھر ڈھونڈ لیتے ہر رات کو معصوم بچے اپنے باپ سے پوچھتے ہیں ”ابو! ہم کب اپنے گھر حیات آباد جائینگے؟“ باب کہتاہے کہ یہ حیات آباد میں ہمارا اپنا گھر ہے ہم اپنے گھر حیات آباد آگئے ہیں پھر معصوم بچے پوچھتے ہیں ”ابو جی! کون ہمارے ساتھ لڑنے کے لئے آیا ہے؟“باپ ان کو پیار سے سمجھا تا ہے کہ لڑائی نہیں ہوائی فائرنگ ہے ان لو گوں کی ثقافت ہے یہ لو گ خو شی کے مو قع پر ہوائی فائرنگ کرتے ہیں آتش بازی کرتے ہیں بچے پھر پوچھتے ہیں ”ابو!اگر یہ ان کی عادت ہے توپھر یہ لوگ اپنے گاوں جا کر فائرنگ اورآتش بازی کیوں نہیں کر تے ہمارے حیات آباد میں آکر کیوں ایسا کر تے ہیں؟“ باپ کے پاس اس سوال کا جواب ہے مگر وہ جواب نہیں دیتا بچوں سے کہتا ہے کھڑ کیاں بندکرو کانوں میں روئی ٹھونس دو اور سو جاؤ العرض پشاور کا پو ش علاقہ بھی پوش نہیں بن سکتا گاوں سے آنے والے گاوں کی ساری جہالت اپنے ساتھ لیکر آتے ہیں بزرگوں کا کہنا ہے کہ جمہوری حکومت میں آوارہ کتوں کی طرح کلاشنکوف اور دوسرے ہتھیار بھی آزاد ہوتے ہیں مارشل لاء ہی ان کا علاج ہے اگر مارشل لاء آیا تو محکمہ صحت آوارہ کتوں کا خاتمہ کرے گا پو لیس سٹیشن ہوائی فائرنگ کرنے والوں کی خبر لے گا اگر ایک دُلہا نے رات تھا نے میں گزاری تو سب کے ہوش ٹھکا نے آجا ئینگے پشاور کے پوش علا قے کا بھرم رہ جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى