تازہ ترینمحمد شریف شکیب

افغانستان میں پھر سیاسی بحران

……..محمد شریف شکیب…….

Advertisements

افغانستان کے صدارتی انتخابات کے سرکاری نتائج نے ملک کو ایک بار پھر سیاسی بحران سے دوچار کردیا ہے۔کامیاب قرار دیئے گئے صدارتی امیدوار اشرف غنی کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ، جنبش ملی کے عبدالرشید دوستم، افغان طالبان اور حزب اسلامی کے گلبدین حکمت یار نے بھی نتائج کو مسترد کردیا ہے۔عبداللہ عبداللہ نے کابل میں متوازی حکومت قائم کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔افغان الیکشن کمیشن نے گزشتہ برس 28ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان کردیا ہے۔ سرکاری نتائج کے مطابق اشرف غنی نے 50.64 ووٹ حاصل کیے ان کے مخالف امیدوار عبداللہ عبداللہ کو 39.52فیصد ووٹ ملے۔تیسرے صدارتی امیدوار گلبدین حکمت یار کے حصے میں 3.85فیصد ووٹ آئے۔ افغان صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان 19اکتوبر 2019کو ہی ہونا تھا لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے تیکنیکی خرابی، فراڈ کے الزامات اور احتجاج کے باعث نتائج کا اعلان بار بار ملتوی ہوتا رہا۔الیکشن کمیشن نے دسمبر میں ابتدائی نتائج کا اعلان کیا تھا جس میں اشرف غنی کومعمولی برتری کے ساتھ کامیاب قرار دیا گیا تھا لیکن عبداللہ عبداللہ نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مکمل نتائج سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا۔19فروری کو جب مکمل نتائج کا اعلان کیاگیا تو اشرف غنی کی واضح اکثریت دکھائی گئی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افغان صدارتی انتخابات میں صرف پانچ فیصد رائے دہندگان نے ووٹ کاسٹ کیا تھا۔ اور اشرف غنی کو کاسٹ شدہ ووٹوں کا 2.5فیصد حصہ ملا ہے۔ گویا 95فیصد افغان ووٹرز نے صدارتی انتخابات میں ووٹ کاسٹ ہی نہیں کیا۔اور 97.5فیصد افغان ووٹرز کی حمایت منتخب صدر کو حاصل نہیں۔مجموعی ووٹوں کا 1.5فیصد حاصل کرنے والے امیدوار نے متوازی حکومت بنانے کا اعلان کیا۔یہ اعدادوشمار افغانستان میں سیاسی شعور کی عدم بیداری اور قبائلی نظام کی جڑیں گہری ہونے کا پتہ دیتے ہیں۔ طالبان کے علاوہ سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ، سابق وزیراعظم حکمت یار اور جنگجو رہنما رشید دوستم نے صدارتی انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگاکرحکومت کے ساتھ لڑائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔گویا افغان قیادت میں سیاسی پختگی کا ہنوز فقدان ہے۔ مختلف افغان جماعتوں کے قائدین ذاتی مفادات کے لئے پورے ملک کو غربت، جہالت اور انارکی کے تاریک غاروں میں دھکیلنے سے ایک لمحہ بھی نہیں ہچکچاتے۔یہی وجہ ہے کہ وہ غیر ملکی قوتوں کے آسانی سے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ ماضی میں بھی اسلام آباد امن معاہدہ، تہران معاہدہ اور خانہ کعبہ میں بھی افغان دھڑوں کے مابین امن معاہدے ہوتے رہے مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔امریکہ اور طالبان قیادت کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے بعد یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ افغانستان میں طویل خانہ جنگی کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ لیکن صدارتی انتخابات کے متنازعہ نتائج نے امن بحال ہونے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ افغانستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں کو بین الاقوامی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ عبداللہ عبداللہ کے ذریعے بھارت اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ اشرف غنی کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔لیکن امریکہ کو افغانستان میں اصل خطرہ طالبان سے ہے۔ان کے ساتھ امن معاہدہ واشنگٹن کی ترجیح رہی ہے۔تاکہ افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو فورسز کو محفوظ رکھا جاسکے۔افغان گروپوں کے درمیان محاذ آرائی اور خانہ جنگی امریکہ کے مفاد میں ہے۔اس وجہ سے وہ افغانوں کے باہمی جھگڑوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔ تاہم پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان اس خانہ جنگی اور عدم استحکام سے سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ پاکستان میں گذشتہ اکتالیس سالوں سے مقیم لاکھوں افغان مہاجرین کی وطن واپسی وہاں پائیدار امن کی بحالی سے مشروط ہے۔ خانہ جنگی شروع ہونے کی صورت میں مہاجرین کی واپسی بھی موخر ہوگی اور مزید پناہ گزینوں کی پاکستان آمد کا بھی اندیشہ ہے۔ایران بھی پڑوسی ملک ہونے کے ناطے افغانستان میں خانہ جنگی اور بدامنی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لئے پاکستان اور ایران کی سیاسی قیادت کو چاہئے کہ افغان متحارب دھڑوں کو مفاہمت پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں تاکہ طویل خانہ جنگی سے تباہ حال ملک میں امن بحال ہونے کی راہ ہموار ہوسکے۔ اس سلسلے میں او آئی سی کا پلیٹ فارم بھی مفاہمتی عمل کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جس کے لئے اسلام آباد ترکی، سعودی عرب اور ملائشیا جیسے اہم اسلامی ممالک کو اپنا کردار ادا کرنے پر قائل کرسکتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى