تازہ ترینمحمد شریف شکیب

پاکستان سستا ترین ملک

………محمد شریف شکیب…….

Advertisements

پاکستان کو رہنے کے لیے سب سے سستا ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔بنگلہ دیش جنوبی ایشیاء کا سب سے مہنگاجبکہ سوئٹزرلینڈ مہنگا ترین ملک قرار پایا ہے۔ ڈھاکہ ٹریبون نے اپنی سروے رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کے بعد افغانستان، ہندوستان، شام، ازبکستان، کرغزستان اور تیونس سستے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔مہنگے ترین20 ممالک میں 9 یورپی اور5 ایشیائی ممالک شامل ہیں۔دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں سوئزرلینڈ کے بعد ناروے دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد آئس لینڈ، جاپان، ڈنمارک، بہاماس، لکسمبرگ، اسرائیل، سنگاپور اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔اس فہرست میں امریکا 20ویں،برطانیہ 27ویں،سعودی عرب 57ویں جب کہ روس 82ویں نمبر پر ہیں۔اس فہرست کی تیاری میں کنزیومر پرائز کی تعداد،متعدد قومی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کے بعد انڈیکس کو مرتب کیا گیا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان سستا ہو یا مہنگا، ہمیں اپنے ملک سے پیار ہے۔ جب سے یہ پتہ چلا ہے کہ ہمارا ملک رہنے کے لئے دنیا میں سب سے سستا ہے تو ہمیں اس پر مزید پیار آنے لگا ہے۔تاہم ایک بات بڑی سوچ بچار کے باوجود سمجھ میں نہیں آرہی کہ اتنے سستے ملک کے لوگ سیر و تفریح، شاپنگ، جائیدادیں خریدنے، کاروبار، تعلیم، علاج اور آف شور کمپنیاں قائم کرنے کے لئے باہر کیوں جاتے ہیں۔ہمارے تمام سیاست دانوں اور اعلیٰ افسروں نے یورپ اور امریکہ میں گھر اور جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔افسران سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیدھا یورپ پہنچ جاتے ہیں اور باقی ماندہ زندگی وہاں عیش و آرام سے گذارتے ہیں۔ہمارے سیاست دان چونکہ ریٹائر نہیں ہوتے، آخری سانسوں تک سیاست سے چمٹے رہتے ہیں لیکن جب بھی پیٹ میں مروڑ، دانت میں درد، ذہنی طور پر اکتاہٹ یا جسمانی صحت میں گڑبڑ محسوس کرتے ہیں تو سیدھا دیار غیر سدھار جاتے ہیں۔ جب جسم و جان کا رشتہ ٹوٹ جائے تو تجہیز و تکفین کے لئے وطن واپس آتے یا لائے جاتے ہیں۔خریداری کے لئے بھی دوبئی، شارجہ، لندن، ایمسٹرڈم، ہانگ کانگ اور نیویارک جاتے ہیں۔اس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ خرچ کی جانے والی دولت نیب سے خفیہ رکھنا چاہتے ہیں یا پھر انہوں نے قومی وسائل بڑی مشکل سے لوٹے ہوتے ہیں اور ڈالروں کی صورت میں جو قیمتی دولت جمع کی ہوتی ہے اسے پاکستان جیسے غریب ملک میں خرچ کرنا اپنی امارت کی توہین سمجھتے ہیں۔ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں بھی بنگلے، پلازے، کارخانے اور جائیدادیں ہیں۔ وہ صرف آب و ہوا بدلنے کے لئے پاکستان آتے ہیں۔یہاں بھی ایک دوسرے اور عام لوگوں سے اپنی قومی زبان میں بات کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ جس اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں اس کا تقاضا ہے کہ ان کا طرز زندگی، بول چال، نشست و برخاست اور راہ و رسم انگریزی سٹائل میں ہو۔ہربات کو سیاسی عینک سے دیکھنے کے عادی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ڈھاکہ ٹریبون میں شائع ہونے والی رپورٹ بھی حکومت نے دانستہ طور پرخود تیار کروائی ہے تاکہ عوام پر مزید ٹیکس لگانے کا جواز پیدا کیا جاسکے۔اپنے الزامات کی تائید میں وہ یہ دلائل بھی دیتے ہیں۔حکمران پہلے ہی کہتے رہے ہیں کہ ہمارے ہاں تیل، گیس، بجلی، روٹی، ادویات اور ضرورت کی دیگر اشیاء باقی ممالک سے سستی ہیں۔اور جب تک ہر چیز پر چار چار، پانچ پانچ ٹیکس نہیں لگائے جاتے، ملک ترقی نہیں کرسکتا۔شاید وہ یہ بات بھول گئے یا عوام کے سامنے اس کا اقرار کرنا ضروری نہیں سمجھتے کہ مغرب والے اگر زیادہ ٹیکس دیتے ہیں تو وہاں عوام کو بہترین تعلیم اور علاج کی سہولت بھی تو مفت فراہم کی جاتی ہے۔ وہاں کے ٹیکس گذاروں کو معاشرے میں معتبر سمجھا جاتا ہے۔امریکہ،
برطانیہ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، دوبئی اور سعودی عرب میں ضرورت کی ہر چیز پاکستان سے مہنگی ہے۔ لیکن وہاں کی معیشت بھی ہم سے بہت مستحکم ہے۔وہاں کی ایک مہینے کی تنخواہ ہمارے ہاں ایک سال کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہے۔وہ ہفتے میں پانچ دن کام کرتے اور دو دن عیاشیاں کرتے ہیں ہمارے لوگ ہفتے کے سات، مہینے کے تیس اور سال کے 365دن کام کرنے کے باوجود بمشکل کھانے پینے کا خرچہ ہی پورا کرپاتے ہیں۔مگر ان حالات پر افسوس کرنے کی ضرورت نہیں، کچھ پانے کے لئے کچھ تو کھونا پڑتا ہے۔ پاکستان اگر دنیا کا سستا ترین ملک ہے تو یہ بھی ہم غریبوں کی بیش بہا قربانیوں کا صلہ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى